نیل کے ساحل پر


مصر کی سیاحت کا پروگرام اچانک سے نہیں بن گیا تھا۔ بہت عرصے سے ہماری مصری سہیلی ترغیب دلاتی رہی تھی۔ ہر سال جب سالانہ رخصت پر جانے کی گھڑی آتی، وہ کہتی۔ ”قاہرہ چلتی ہو؟“ اور 2023 میں آخر ہم نے کہہ ہی دیا ”چلو دلدار چلو“ ۔

وہ ہم سے تین ہفتے پہلے ہی مصر روانہ ہو گئی تھی ہمیں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں جانا تھا۔ ہفتے دس دن کے لئے ایک درمیانہ سوٹ کیس کافی تھا لیکن ہماری محتاط یا پھر وہمی طبیعت کی وجہ سے ایک کیبن بیگ بھی تیار کر لیا جس میں فوری ضرورت کی تمام اشیا رکھ لیں۔ مبادا سوٹ کیس گم یا متاخر ہی ہو جائے۔ بین الاقوامی سفر میں ایسا ہونا بعید از امکان نہیں۔ بھئی ہماری صاحبزادی کے ساتھ ہوا تھا۔ اگرچہ ان کا متعدد پڑاؤ والا سفر تھا اور ہمارا سفر تو بس ایک لمبی اڑان اور قاہرہ کے چھجے پر نزول۔ لیکن صاحب، دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔

مسقط سے قاہرہ چار گھنٹے کی فضائی مسافت ہے۔ فضا سے قاہرہ عمارتوں کا جنگل دکھائی دے رہا تھا، اور کیوں نہ ہوتا، قاہرہ دس ملین نفوس کی بستی ہے اور ہر سال گیارہ سے تیرہ ملین سیاح اس دشت کی جستجو کو آتے ہیں۔ قاہرہ کا ہوائی اڈہ ترقی پذیر ممالک ایسا ہی تھا، نہ بہت وسیع، نہ بہت عالیشان۔ ہوائی اڈے کے باہر لوگوں کا اژدہام تھا۔ ایسے میں اپنی سہیلی کو پانا ایسے ہی تھا جیسے بھوسے میں سوئی تلاش کرنا۔ ہم متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر نہار رہے تھے کہ کسی نے ہمارا نام پکارا۔ لمبے، شہد رنگ گھنگریالے بالوں والی ایک حسینہ خوشی کی قلقاری مارکر ہم سے لپٹ گئی۔

”سفر کیسا رہا؟“ اس نے ٹرالی ہم سے لے کر دھکیلتے ہوئے سو فیصد ہماری سہیلی شیریں کی آواز میں کہا۔

”اچھا رہا۔ ٹیک آف اور لینڈنگ میں کانوں میں اتنی تکلیف نہیں ہوئی۔ بہت دن سے اٹکا ہوا ناول پڑھتے ہوئے وقت گزر گیا۔ لیکن تم یہ بتاؤ تمہارے بال اتنے لمبے اور گھنگریالے کیسے ہو گئے۔“

”ہا ہا! یہ تو وگ ہے۔ لیکن اس میں گرمی بڑی لگتی ہے۔ پر کیا کریں خوبصورت نظر آنے کے لئے تھوڑی سی تکلیف تو جھیلنا پڑتی ہے۔“

”ہمارے خیال میں تو تم۔ ویسے بھی خوبصورت ہو آل فرعون“ ۔ ہم اسے آل فرعون کہہ کر چھیڑا کرتے ہیں۔
”تمہارے لئے بھی ایسی وگ منگوا دوں؟“ وہ گاڑی میں اپنے ضخیم جثے کو ٹھونستے ہوئے بولی۔
”شکریہ میں ایسی ہی بھلی“ ۔
”چلو تمہیں قاہرہ گھماتے ہیں پھر ڈنر کرنے چلیں گے“
”پہلے میں ہوٹل جانا چاہوں گی“

شہر کے معروف علاقے طلعت حرب اسکوائر میں واقع ہوٹل کے کمرے میں سامان رکھنے کے دوران اس نے جلدی سے کمرے کا جائزہ لیا۔ الماری فرج اور باتھ روم کھول کر دیکھا۔

باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن فرج میں پانی نہیں ہے واپسی پر یاد سے لے لینا۔ چلو اب تمہیں لوکل سم دلاتے ہیں تاکہ مجھ سے رابطہ کرنے میں آسانی رہے۔ پھر چائنیز کھانے چلیں گے۔

” میں چائنا نہیں مصر آئی ہوں۔ مجھے مصری پکوان چاہیے۔“
اوہ! تو آج کیا کھانا پسند کرو گی؟ ”
اور ہمارا فوری جواب تھا ”کوشری (kosheri)

کوشری انتہائی مقبول و مرغوب مصری پکوان ہے جو میکرونی، موٹے مصری چاول، سویاں، ثابت مسور اور ابلے چنے کا مرکب ہے۔ اس کو تلی ہوئی پیاز، ٹماٹر کی چٹنی، لہسن والے سر کے اور چلی ساس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یوں تو کو شری ہر جگہ ملتی ہے لیکن ابو طارق ریسٹورنٹ اس کے لئے مشہور ہے۔ تین منزلہ ابو طارق ریسٹورنٹ پر میز حاصل کرنے لئے ہمیں قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔ سیڑھیوں کی دیواروں پر مقبول و معروف افراد کی تصاویر آویزاں تھیں جس میں انہیں ابو طارق ریسٹورنٹ کی کوشری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا جاسکتا تھا۔

نقرئی ظروف میں پیش کردہ کوشری حسب شہرت نہایت لذیذ تھی۔

کچھ کوشری کا خمار تھا، کچھ سفر کی تکان، بس اب آرام دہ فراش کی چاہت تھی، سو سیدھا ہوٹل جانے کی رخصت چاہی۔ راستے میں کریانے کی دکان سے پانی کی بوتلیں لینا شیریں کو ہی یاد رہا۔ رات کے ساڑھے گیارہ بجے بھی طلعت حرب اسکوائر پوری طرح بیدار تھا۔

اگلی صبح قومی عجائب گھر کا پروگرام تھا۔ ناشتے کے لئے کمرے سے نکلے تو ”دنیا“ نظر آئی۔ کمرے کے باہر آرائشی آئینے کے برابر کرسی ڈالے وہ اپنے موبائل پر انگلیاں گھما رہی تھی۔ دنیا سترہ اٹھارہ برس کی پیاری سی لڑکی تھی۔ کمروں کی صفائی ستھرائی اور کلائنٹس کی چھوٹی موٹی ضروریات کا خیال رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ ہم نے یونہی بات بنانے کو پوچھا ”تمہارا نام دنیا کس نے رکھا“

”میری امی نے۔ کیونکہ میں ان کے لئے کل دنیا ہوں۔“ اس نے کھلکھلا کر کہا۔ اس عمر میں لڑکیاں بالیاں یونہی ہر بات پر کھلکھلاتی ہیں۔

ناشتہ ہوٹل کی جانب سے تھا۔ ہال میں کیجئے یا کمرے میں منگوا لیجیے۔ پہلے روز ہم نے ہال میں ناشتہ کرنے کو ترجیح دی۔ ہمیں نیرنگئی لباس و انداز کا مشاہدہ کرنا دلچسپ لگتا ہے۔ اگرچہ ہمیں اجنبی زبان سمجھ میں نہ آئے مگر ہم بڑے غور سے بات سنتے ہیں، کوئی لفظ یا جملہ بھلا لگے تو اس کا مطلب بھی پوچھ لیتے ہیں۔ ہمیں بہت سی زبانیں جاننے کا شوق ہے بلکہ کبھی کبھی تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرح پرندوں اور جانوروں کی بولیاں جاننے کی خواہش بھی سر اٹھا لیتی ہے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔

چھوٹے سے ہال کی تمام میزیں بھری ہوئی تھیں۔ اطالوی، انگریزی، فرانسیسی، عربی اور انڈین بولیوں کا سمفنی گونج رہا تھا۔ ایک میز پر دو انڈین جوڑے نظر آئے۔ چالیس کے پیٹے میں ہوں گے۔ ہم اجازت لے کر ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ بھابی جی کٹر دیسی تھیں۔ انہیں مقامی ناشتہ قطعاً بھاویں نہ آیا تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھ لائے گئے اسٹیل کے ٹفن سے پاپڑ، پھیپھلا اور اچار نکالا۔ باقی افراد نے ہماری طرح مقامی ناشتہ آزمانے کو ترجیح دی۔

ناشتے میں مصری روٹی، آملیٹ/ابلے انڈے، پنیر مکھن اور چائے /کافی تھی۔ مصری روٹی ہماری پوری سے مشابہ تھی۔ مقامی اسے ”عیش“ کہتے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ عیش کے اسٹال نظر آتے ہیں۔ اکثر مصری خواتین گھر میں روٹی نہیں پکاتیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمان میں چاول کو عیش کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ خالص عربی میں روٹی کو خبز اور چاول کو ارز کہا جاتا ہے۔

انڈین جوڑے اہرام مصر دیکھنے جا رہے تھے اور ہم عجائب گھر۔ شام کو مل کر تبادلہ معلومات کرنے کی تاکید کے ساتھ اپنی اپنی منزل کو چلے۔ اب ہمیں کرنسی ایکسچینج کی تلاش تھی۔ مصری کرنسی کی روز افزوں تنزلی کے باعث ہمیں امریکن ڈالر لانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے ہوٹل کی انتظامیہ غیر ملکی مہمانوں سے تمام ادائیگی ڈالر میں وصول کرتی ہے۔ کرنسی کی تبدیلی ہوٹل کے استقبالیہ یا پھر ایکسچینج کے دفاتر سے کی جا سکتی ہے۔ بلیک مارکیٹ میں قیمت زیادہ مل جاتی ہے۔

ہوٹل کا محل وقوع شاندار تھا۔ ضرورت کی ہر چیز آس پاس دستیاب تھی۔ ایکسچینج ہوٹل کے مقابل ہی نظر آ گئے۔ کرنسی کی تبدیلی کے ساتھ ہی ہمارا بٹوا ٹھساٹھس بھر گیا۔ مصری کرنسی انگریزی میں egyptian pound اور عربی میں مصری جنیہ کہلاتی ہے۔ مقامی اسے گنی کہتے ہیں۔ مصری عربی میں ”ج“ کا صوتی تلفظ ”گ“ ہے۔ بس یوں سمجھ لیں اگر جون ایلیا اور جوش ملیح آبادی مصر آتے تو انہیں ”گون ایلیا“ اور ”گوش ملیح آبادی“ پکارا جاتا۔ ہم نے جب اپنی مصری سہیلی کا مذاق اڑایا تو اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تم لوگ بھی تو ramadan کو ramzan کہتے ہو۔

عجائب گھر بس دس منٹ کی پیدل مسافت پر تھا۔ اونچی ایڑی کے سینڈل پر ٹک ٹک کرتے پہنچ گئے۔ نارنجی رنگ کی عظیم الشان عمارت ”تحریر اسکوائر“ (taahrir square) پر واقع ہے۔ تحریر اسکوائر جغرافیائی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا پہلا نام اسماعیلیہ اسکوائر تھا۔ سنہ۔ 1869 میں حکمران وقت اسماعیل پاشا نے نہر سویز کے افتتاح سے پہلے قاہرہ کی تجدید نو کا حکم دیا تاکہ دنیا بھر سے آنے والے سربراہان کو متحیر کیا جا سکے۔

اس منصوبے کو پیرس آن نائل کا نام دیا گیا۔ تاہم یہ فرانسیسی طرز تعمیر کے علاوہ اطالوی، جرمن، اور مصری حسن تعمیر کا امتزاج تھا۔ نئے قاہرہ کا مرکز اسماعیلیہ اسکوائر تھا جو پیرس کے ڈیلائیلا کی طرز پر بنایا گیا۔ اس سے ملحقہ بے شمار شاہراہوں پر خوبصورت محلات اور سرائے تعمیر کیے گئے۔ ان عمارات میں اب سرکاری دفاتر اور ہوٹل قائم ہیں۔ 1882 میں مصر پر برطانوی تسلط قائم ہوا۔ اور اس سے نجات حاصل کرنے کی تحریک اسی اسکوائر سے شروع ہوئی۔

1950 میں برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد اس کا نام تحریر اسکوائر (آزادی اسکوائر) رکھ دیا گیا۔ 1981 میں انود سادات کے قتل کے بعد اسے انور سادات اسکوائر کا نام دیا گیا مگر یہ نام مقبولیت حاصل نہ کر سکا اور آج بھی اس کی پہچان تحریر اسکوائر ہی ہے۔ 2011 کے انقلاب کا آغاز بھی اسی مقام سے ہوا تھا۔ یہ احتجاج، غربت، عوامی استحصال اور حکمرانوں کی بدعنوانی کے خلاف تھا اور حکمران وقت کی معزولی پر منتج ہوا تھا۔ آج بھی یہ مقام مظاہروں اور احتجاج کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

عجائب گھر کی دو منزلہ عمارت نہایت وسیع و عریض ہے۔ ٹکٹ گھر کے آگے لمبی قطاریں تھیں۔ اونچی ایڑی پر دیر تک قطار میں کھڑا رہنا کتنا تکلیف دہ ہے یہ صرف ہماری بہنیں ہی جان سکتی ہیں۔ سونے پر سہاگہ کھڑکی پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ تمام سیاحتی مقامات پر ادائیگی صرف کارڈ سے کی جا سکتی ہے۔ ہم تو کارڈ ہوٹل پر ہی رکھ آئے تھے اور اب پھولے ہوئے بٹوے کے باوجود ٹکٹ خریدنے پر قادر نہ تھے۔ لہذا کارڈ ہولڈرز سے مدد کے طالب ہوئے۔ کچھ نے صاف انکار کیا مگر ہمارے دیرینہ دوست چین کی ایک حسینہ نے اپنے کارڈ سے ہمارے لئے ادائیگی پر رضامندی ظاہر کردی۔ ہم نے بشکریہ مصری کرنسی انہیں تھمائی اور پاک چن یو ای وانگ سوئے (پاک چین دوستی زندہ باد ) کا نعرہ لگایا۔ اس نے بھی مسکرا کر وانگ سوئے کہا۔

یہ عجائب گھر 1952 میں تعمیر کیا گیا تھا اور پانچ ہزار سال پرانی مصری تاریخ کو مجسم کرتا ہے۔ عمارت ازخود قدیم طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ داخلی سیڑھیاں پھلانگ کر جونہی ہال میں داخل ہوتے ہیں، گویا تاریخ جی اٹھتی ہے۔ فرعون اخناتون، ملکہ نفرتیتی اور ان کی تین صاحبزادیوں کا دیو قامت فیملی اسکلپچر آپ کی توجہ حاصل کرنے میں پہل کرتا ہے۔ ہال اور ارد گرد کے دالانوں میں قدیم مصری تہذیب و تمدن کو اجاگر کرتی تصویریں مجسمے اور نوادرات ہیں۔ ہمیں ایک آبنوسی سیاہ مجسمہ بہت دلکش محسوس ہوا۔ جگمگاتے سنہرے تہبند اور زیورات سے مزین چھ فٹ چھ انچ کا آبنوسی چوبی مجسمہ فرعون توتن خامن کا ہے۔ اس کے ماڈل تمام سوونیر شاپس پر دستیاب ہیں۔

بالائی منزل میں حنوط شدہ اجسام فراعین ہیں۔ ان کے نقشین سنگی تابوت تہذیبی تصاویر سے مزین ہیں۔ اہم شاہی ممیاں اب جدید میوزیم NCM میں منتقل کردی گئی ہیں۔ ہم وہاں نہ جا سکے۔ بعد ازاں ہماری ایک اور مصری سہیلی آیة نے بتایا وہاں موجود ممی اب تک بہترین حالت میں ہیں لگتا ہے بس خوابیدہ ہیں اور اب کہ تب جاگ پڑیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اب روز قیامت ہی جاگ پائیں گے۔ کیا یہ عبرت کا مقام نہیں کہ کوئی خود کو کتنا ہی طاقتور اور ناقابل تسخیر سمجھ لے بالآخر فنا اس کا مقدر ہے۔

اس وسیع و عریض عجائب گھر میں چلتے چلتے تین گھنٹے ہو چلے تھے۔ پاؤں شل ہو گئے تھے اور پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ ہم نے سوچ لیا تھا ہوٹل جاکر اونچی ایڑی کے سینڈل کو حنوط کر دیں گے۔ لیکن اس سے پہلے شکم سیر کرنا تھا۔ یادگاری اشیا کے اسٹالز پر سرسری نظر ڈالتے ریسٹورنٹ کی طرف بڑھ گئے۔ آج ہم نے محشی مشکل (mahshi mushakkil) اور لخم roasted lamb آرڈر کیا۔ محشی مشرق وسطی کی ایک مقبول ڈش ہے۔ محشی کے لفظی معنی بھرواں کے ہیں۔

توری، شملہ، بنگن، بند گوبھی اور برگ انگور میں چاول ہری پتیاں اور مسالے بھر کر بیک کیا جاتا ہے۔ شام اور عراق میں قیمہ بھی شامل کیا جاتا ہے۔ ہم نے مکس محشی آرڈر کیے تھے۔ بھنا گوشت انتہائی لذیذ تھا لیکن محشی بد ذائقہ تھے۔ ہم نے یہ بات شیریں کو بھی بتائی۔ اس رات شیریں نے ”حقہ ریسٹورنٹ“ پر مدعو کیا تھا۔ موسم اور ماحول دونوں خوشگوار تھے۔ کھلی فضا میں میزیں لگی تھیں۔ ایک طرف بڑے اسکرین پر فٹ بال میچ چل رہا تھا ( فٹ بال پورے مشرق وسطی کا کریز ہے ) تو دوسری طرف لائیو میوزک سے محظوظ کیا جا رہا تھا۔

اس ریسٹورنٹ میں اسم با مسمی لذت کام و دہن کے ساتھ حقے کی نے بھی دستیاب تھی۔ عوام الناس اسے ”شیشہ“ کہتی ہے۔ لفظ شیشہ عرب ممالک میں کانچ کا ہم معنی نہیں، بلکہ حقے میں استعمال ہونے والے تمباکو کے محلول کو کہتے ہیں۔ ریسٹورنٹ پر دو طرح کے حقے دستیاب تھے اسٹیل کے نقشین عام حقہ سائز یا پھر شفاف شیشے سے بنے خوشنما پورٹیبل حقے۔ شیش محل کے جھروکوں جیسی چلم سے رنگین خوشبودار محلول، گڑ گڑ کرتے نوجوانوں میں مرد ہی نہیں خواتین بھی شامل تھیں۔

ہماری آنکھوں میں حیرانی دیکھ کر وہ ہنس پڑی۔
”چلو ہم بھی منگاتے ہیں“

اس نے ویٹر کو اشارہ کیا۔ ہم نے سنا وہ چلم میں پودینہ، دار چینی اور گم آرڈر کر رہی تھی۔ بظاہر یوں لگا کہ یہ بے ضرر سا پودینے، دار چینی کا ست ہے جس کی دھونی بند ناک اور گلے کے لئے اکسیر ہے۔ درحقیقت تمباکو کو مختلف ذائقوں کے عرق میں بھگو دیا جاتا ہے پھر اسے ہلکی آنچ پر کاڑھ کر محلول تیار کیا جاتا ہے یہ شیشہ ہے۔ اسے چلم میں اپنی طلب کے مطابق کم یا زیادہ ڈال کر شیشہ نوشی کی جاتی ہے۔ پرانے زمانے میں حقہ صرف بڑے بوڑھوں بالخصوص مردوں کا شوق سمجھا جاتا تھا لیکن حالیہ برسوں میں یہ نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔

2005 کے قومی سروے کے مطابق دس سے تیرہ فیصد مصری نوجوان شیشہ نوشی کرتے ہیں۔ نوجوان خواتین بھی اسے عادت نہیں تو فیشن کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ مصر میں 2002 میں کیے گئے سروے کے مطابق ایک فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی پائی گئیں اس میں سگریٹ نوشی کے ساتھ شیشہ نوشی بھی شامل تھی۔ قاہرہ میں یونیورسٹی کی 196 طالبات سے انٹرویو کیے گئے۔ اس کے مطابق شہری خواتین سگریٹ نوشی یا شیشہ نوشی کے بارے میں اعتراف کرنے کو عار نہیں سمجھتیں۔

دراصل شیشہ نوشی اب مشرق وسطی سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ میں حقہ لاونج بن چکے ہیں۔ نوجوان اسے فیشن اور لطف سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت یہ سگریٹ نوشی سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ ایک چلم میں کئی سگریٹ کے برابر تمباکو ہوتی ہے۔ اسے لمبی سانس لے کر کھینچا جاتا ہے اور زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے یہ منہ اور پھیپھڑوں کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ شیشہ پینے والوں میں مٹاپا بڑھتے دیکھا گیا ہے۔ تمباکو کا پھلوں، پھولوں اور دوسرے عرقیات میں بھگونا اسے فرحت افزا اروما تو عطا کرتا ہے مگر اس کے مضر اثرات میں تخفیف نہیں کرتا۔

لیجیے ہم کہاں سے کہاں نکل گئے۔ ہم تو شیریں سے کہہ رہے تھے صرف دھونی ہی رماوگی یا کچھ کھلاو گی بھی۔
”کیا کھاو گی؟“ اس نے ویٹر کو اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
”فطیرہ جبنہ مع عسل“ ہم نے آرڈر نوٹ کروایا۔ شیریں نے اپنے لئے کوئی اور فطیرہ آرڈر کیا۔

فطیرہ ہمارے پراٹھے سے مشابہ ہے مگر بہت پتلی پرتوں والا۔ ہم نے جو فطیرہ منگوایا اس کی پرتوں میں کریم چیز ہوتا ہے اور اس پر شہد چھڑکا جاتا ہے۔ پھر اسے چھوٹے قطعات میں کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔

کھانے سے فارغ ہوئے بھی نہ تھے کہ شیریں کی خالہ اور بہن بہنوئی بھی آ گئے۔ کافی کا دور چلا اور رات گئے تک خوش گپیاں ہوتی رہیں۔

دوسرے دن اہرام مصر دیکھنے جانے کا پروگرام تھا۔ شیریں نے کہا وہ مصروف ہے مگر ایک قابل اعتماد ٹیکسی ڈرائیور کو بھیج دے گی۔ جو تمام دن ساتھ رہے گا۔

”ڈرائیور سے کہنا، راستے سے فلافل لے کر دے۔ مصری فلافل عمانی فلافل سے زیادہ مزے کے ہوتے ہیں۔ اور ہاں فلافل کے سوا کچھ نہ کھانا کیونکہ کل لنچ میرے گھر پر ہے اور میری اماں کے بنائے محشی تم زندگی بھر نہ بھولو گی۔“

فلافل کیا ہے۔ پھلی کے دانوں کو بھگو کر پیس لیا جاتا ہے پھر اس مین کچھ مسالے ملا کر ٹکیہ کی شکل دی جاتی ہے اور تل کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایک مزیدار عربی نمکین ہے۔ اسے چائے کے ساتھ کھائیے یا مسل کر پنیر کے ساتھ شاورما بنا کر تناول کیجئے۔ اگلی صبح ٹھیک نو بجے ٹیکسی ڈرائیور احمد ہوٹل کے نیچے موجود تھا۔ احمد کی انگریزی اوکے، تھینک یو اور ہیپی؟ تک محدود تھی۔ اور اس کی عربی شدھ مصری تھی۔ اس لیے کبھی یوں بھی ہوا کہ ہماری عربی اسے سمجھ نہ آتی یا اس کی بات ہمارے سر سے گزر جاتی تب وہ شیریں کو فون ملاتا اور وہ ہمارا مافی الضمیر اسے سمجھاتی۔

اہرام مصر الجیزہ، اور سقارہ میں واقع ہیں۔ نمایاں ترین اہرام الجیزہ ( المعروف گزہ) میں ہیں جو دریائے نیل کے مغربی ساحل پر ہے۔ ہم آج الجیزہ جا رہے تھے۔ احمد نے فلافل خریدنے کے لئے گاڑی روکی۔ صبح صبح بھی فلافل کے خریداروں کا رش تھا۔ ہم گرم گرم فلافل کا لفافہ لے کر گاڑی میں آ بیٹھے۔ بھلے سے شیریں کو مصری فلافل پر ناز تھا مگر ہمارے نزدیک عمانی فلافل اول قرار پائے۔ ٹیکسی قاہرہ کی سڑکوں پر فراٹے بھرتی 6 اکتوبر پل پر داخل ہو گئی جو نیل کے پاٹ پر بنائے گئے پلوں میں سے ایک ہے۔ 6 اکتوبر 1973 کا دن مصری تارخ کا اہم سنگ میل ہے جب مصری افواج نے نہر سوئیز پار کر کے اسرائیلی اڈوں پر حملہ کیا تھا۔ 20 کلومیٹر طویل 6 اکتوبر پل حسن تعمیر اور افادیت کا امتزاج ہے۔

دریائے نیل کو دنیا کا طویل ترین دریا مانا جاتا تھا۔ بعد ازاں دریائے امیزون کو یہ درجہ دے دیا گیا۔ خیر نمبر ایک اور دو کی دوڑ کو ایک طرف رکھیں تو دریائے نیل اس خطے کی آبی ضروریات اور مقامی قوموں کی ترقی و ترویج کے لئے صدیوں سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ قدیم مصری اسے اٹرو پکارتے تھے۔ 1958 میں جان ہیننگ نے اسے نیل کا نام دیا جو کہ یونانی لفظ نیلوس اور لاطینی لفظ نیلس ( بمعنی دریا اور اس کی وادی) سے ماخوذ ہے۔ نیل اپنے ماخذ پر دو شاخہ نظر آتا ہے جہاں اسے ابیض (سفید) اور ازرق (نیلا) نیل کہا جاتا ہے۔

لیکن نہ تو یہ سفید ہے نہ نیلا۔ ایتھوپیا کی ٹانا جھیل سے جنم لیتے ازرق نیل میں تلچھٹ اور نمکیات کی زیادتی کی وجہ سے یہ گہرے رنگ کا دکھتا ہے۔ افریقی گہری رنگٹ کے باعث اسے ازرق پکارتے ہیں۔ وکٹوریہ جھیل سے امڈتے ابیض نیل کا پانی صاف ہے۔ خرطوم سوڈان کے مقام پر دونوں گلے مل کر آگے بڑھتے ہیں۔ 6650 کلومیٹر اور گیارہ ملکوں کو سیراب کرتے، ساحلوں پر بستیاں بساتے، تاریخ رقم کرتے دریائے نیل قاہرہ کے پہلو میں خود کو بحیرہ روم کے سپرد کر دیتا ہے۔ نیل کو عبور کرتے ہوئے میں تاسف سے سوچ رہی تھی کہ اس قدر عظیم آبی ماخذ کے ہوتے بوئے ایتھوپیا کیونکر قحط سالی کا شکار ہوتا ہے۔ دل بوجھل ہو گیا تھا۔

ٹیکسی ساحل پر آنے کے بعد کچھ زیادہ نہ چلی تھی کہ احمد نے غزہ پہنچنے کی اطلاع دی۔ آہنی گیٹ کے پہلو میں بنے ٹکٹ گھر سے ٹکٹ خریدا اور احمد کو واپس جانے کی ہدایت کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ بلکہ اپنے لئے بھی ٹکٹ خریدنے کو کہا

استفسار پر فرمایا دکتورہ شیریں نے ہر جگہ ساتھ رہنے کو کہا تھا۔
”اسکی ضرورت نہیں تم ایک بجے آجانا۔“

رنگ برنگے تانگے کھڑے تھے اور ہر تانگے بان اپنی خدمات کے لئے دوسروں سے بازی لے جانا چاہتا تھا۔ ہمیں کہا گیا چھ کلومیٹر محیط پر پھیلے اہرام اور فرعونی گورستان کی سیر میں سواری کی ضرورت پڑے گی۔

ہمیں اپنی چہل قدمی کی عادت پر بھروسا تھا اس لیے ان سے معذرت کرلی۔ اسٹال سے چوڑے چھجے والی کاسنی ٹوپی، پانی کی بوتل اور اہرام کی تصویر والا ٹوٹ بیگ خریدا۔ پانی کی بوتل بیگ میں ڈال کر کندھے سے لٹکایا اور کاسنی ٹوپی سر پر جماتے اندر داخل ہو گئے۔

لق و دق صحرا میں، ہفت عجائبات عالم میں شامل، نادر روزگار، دیوہیکل ابوالہول (sphinx) اور اس کے پس منظر میں تین عظیم الشان اہرام اپنی پوری سطوت و شوکت کے ساتھ ایستادہ تھے۔ یہ ایک کبھی نہ بھولنے والا نظارہ تھا۔ آنکھ اس تعمیراتی معجزے سے مسحور تھی اور عقل دنگ کہ ہزاروں سال پہلے تکنیکی آلات کے بغیر ایسی سرمدی کاریگری کیونکر ممکن ہو سکی۔ ابوالہول ایک دیو مالائی مخلوق کا شاہکار مجسمہ ہے جس کا سر انسانی اور دھڑ شیر کا ہے۔

73 میٹر لمبا، 19 میٹر چوڑا، اور 20 میٹر اونچا عجیب الخلقت مجسمہ ایک چٹان سے تراشا گیا تھا۔ گزہ کے دشت کی پہنائی میں مغرب کی جانب منہ اٹھائے، دونوں پنجے، آگے کو بچھائے، یہ مافوق الفطرت، عظیم الجثہ، عجوبہ روزگار سنگی ہیئت افلاک سے ہم کلام ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ فاطمی دور میں اسے ابوالہول (ہیبتناک) کا نام دیا گیا۔ تاہم ہمیں یہ پر ہیبت کے بجائے تحیر خیز محسوس ہوا۔ مصری دیو مالا میں اس کی حیثیت ایک دیوتا کی سی تھی اس کے مجسمے قبروں کے باہر نصب کیے جاتے تھے۔ شاید اسی لئے اہرام یعنی فراعین کے مقبروں کے پیش منظر میں اسے تراشا گیا۔ مختلف مقابر کی کھدائی کے دوران چھوٹے ابوالہول بھی ملے ہیں۔ تازہ ترین دریافت مارچ 2023 کی ہے۔

یونانی دیو مالا میں سفنکس کی ایک دلچسپ روایت مشہور ہے۔ انسانی چہرے اور شیر کے جسم والی مخلوق یونان کے شہر یوٹیا کی ایک پہاڑی پر رہتی تھی۔ وہ راہگیروں سے ایک پہیلی دریافت کرتی اور صحیح جواب نہ دینے والوں کو ہڑپ کر جاتی پہیلی یہ تھی کہ وہ کون ہے جو صبح چار ٹانگوں پر چلتا ہے، دوپہر کو دو ٹانگوں پر اور شام کو تین ٹانگوں پر ۔ بالآخر تھیبس ہیرو اوڈی پس نے صحیح جواب دیا جو کہ یوں تھا۔ وہ انسان ہے جو بچپن میں چار، جوانی میں دو اور بڑھاپے میں تین یعنی چھڑی کے ساتھ چلتا ہے

ہم نے فرعونی گورستان میں شاہزادوں، شاہزادیوں، امراء و وزرا کے مقابر دیکھے۔ مقبروں کی دیواروں پر صاحب قبر سے متعلق تصاویر بنائی گئی تھیں اور تصویری زبان میں تحریریں تھیں۔ ہم لوٹ کر پھر ابوالہول کی طرف چلے آئے۔ جو تینوں اہرام کی رکھوالی کے لئے مستعد کھڑا تھا۔

تین عالی شان سنگی مخروط، ناظر کی بصارت کو جامد کر دیتے ہیں۔ تک ٹک دیدم دم نہ کشیدم۔

سب سے بڑا ہرم ”خوفو“ ہے۔ جو کہ فرعون خوفو کے مقبرے کے طور پر تعمیر کیا گیا۔ اسے ہرم عظیم (great pyramid) کہتے ہیں۔ اس کا ہر قاعدہ 230 میٹر اور ارتفاع 147 میٹر ہے۔ درمیانی ہرم قد کاٹھ میں درمیانہ ہے۔ اسے اپنے مکین خعفرع کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا ہر قاعدہ 216 میٹر اور اونچائی 143 میٹر ہے۔ منکاورع سب سے چھوٹا ہے اور بالترتیب 109 اور 66 میٹر ہے۔ ماہر تعمیرات ششدر ہیں کہ جدید مشینوں کے بغیر ان اہرام کی تعمیر میں ماپ کی غیر معمولی درستی اور تناسب کیسے ممکن ہوا۔ تاریخ دان سر پٹختے ہیں کہ تین ہزار سال پہلے کیا تہذیب و تمدن اس قدر ترقی پا چکا تھا۔ شاعر ان اہرام کو کسی اور ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عربی و عجمی شعراء اس پر طبع آزمائی کر چکے ہیں۔ ہم تو بس ضرب کلیم کی ایک نظم اہرام مصر کا حوالہ دیں گے

اہرام کی عظمت سے نگوں سار ہیں افلاک
کس ہاتھ نے کھینچی ابدیت کی یہ تصویر
فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو
صیاد ہیں مردان ہنر مند کہ نخچیر

ان تینوں اہرام کو اندر سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ خوفو کا داخلی دروازہ شمال کی جانب ہے ہم اس طرف کو چلے ہی تھے کہ وہی تانگے بان جیسے ہماری تاک میں تھا، دوڑ کر آیا اور 100 گنی کم معاوضے کی پیشکش کی۔ اگرچہ ہم اپنے قدموں پر چلنا چاہتے تھے مگر وہ کسی گنگنے بھتنے کی طرح ساتھ چلتے منمناتا رہا۔ زچ آ کر ہم اس کے بسنتی رنگ کے تانگے پر سوار ہو گئے۔

داخلی دروازہ ایک سرنگ نما راہداری میں کھلتا ہے، جو بتدریج تنگ تر اور کوتاہ قامت ہوتی جاتی ہے۔ ابتدا میں تو قائمہ چل سکے، پھر نگوں سار ہونا پڑا۔ اس سے آگے رکوع کی حالت میں بڑھنے کے سوا چارہ نہ تھا۔ روشنی کا تو انتظام تھا مگر ہوا ناپید۔ سہارے کے لئے بنائی گئی ریلنگ پیشروؤں کی ہتھیلیوں کی نمی سے آلودہ تھی۔ کمر خمیدہ خمیدہ، دم کشیدہ کشیدہ اور راستہ طویلن طویلا۔ شیطان کی آنت کی طرح ختم ہونے کا نام نہ لے۔

اوپر سے لوٹنے والے ہمت بڑھانے کو کہتے ”بس ذرا سا اور“ ۔ اور یہ ایک سراب ثابت ہوتا۔ اس ذرا سے اور نے تو ہماری بس کردی۔ خدا خدا کر کے حجرہ شاہی (king ’s chamber) میں پہنچے تو سجدے میں گر گئے۔ کیونکہ اب نہ اٹھنے کی، نہ چلنے کی تاب تھی۔ دم میں دم آیا تو اٹھ کر دیکھا کہ گرینائیٹ سے بنے 10 / 20 کیوبک فٹ کمرے کے ایک جانب سنگی قبر ہے جس میں خوفو کا سنگی تابوت رکھا گیا ہو گا۔ (اب خوفو کی ممی اور تابوت میوزیم کا حصہ ہیں )

کہتے ہیں اترائی آسان ہوتی ہے۔ ہم اس تنگ درے سے دوڑ کے نکل جانا چاہتے تھے لیکن ایک انگریز بوڑھے نے راہ مسدود کردی تھی۔ ہم لاکھ سبقت لینا چاہتے مگر ممکن نہ تھا کھوے سے کھوا بھڑ رہا تھا۔ ہمیں ”مسٹر بین“ سیریل کا ایک منظر یاد آ گیا۔ ہوٹل کی سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ کچھ ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہوئے تھے۔

ملکہ کا حجرہ ایک مسطح مقام تھا سوچا یہاں گنجائش ہے آگے نکل لیں گے مگر بزرگوار اس مقام۔ پر کچھ ایسے ڈھلک گئے کہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ جھنجھلا کے ہم نے دل ہی دل میں صلواتیں سنائیں یہ انگریز بڈھے ایسے ایڈوینچر کا شوق کیوں رکھتے ہیں۔

جانے کتنے وقت کے بعد سرنگ سے برآمد ہو پائے۔ بیگ میں موجود پانی گنگنا ہو گیا تھا اور اس وقت ایک ٹھنڈے ٹھار مشروب کی حاجت تھی۔ سامنے ایک سیاہ فام خاتون کولڈ بکس لئے بیٹھی تھیں۔ ٹھنڈے فرحت بخش سرخ، نارنجی، سبز ٹن۔ مگر قیمت کئی گنا۔

عطش عطش۔ ایک شہنشاہ نے تو پانی کے بدلے آدھی سلطنت دینے کا وعدہ کر لیا تھا۔ ہم نے بھی طلب کردہ قیمت ادا کر کے ٹن لیا اور غٹاغٹ ختم کرنے کے بعد ہی سانس لی۔

مصر کا سفر جاری ہے۔

راحیلہ خان، مسقط
Latest posts by راحیلہ خان، مسقط (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments