قصہ ووٹ ڈالنے اور پولیس کے ہاتھوں ایک ووٹر کی پٹائی کا
اس بار ہم ووٹ ڈالنے کی نیت سے صبح آٹھ بجے ہی اٹھ گئے۔ تیار ہو کر نکلنے سے پہلے شناختی کارڈ تلاش کرنا شروع کیا تو بٹوا غائب تھا۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ دوسری پارٹی کے حامیوں نے ہمارا شناختی کارڈ چھپا لیا ہے۔ بہرحال سارا گھر الٹ پلٹ کر دینے کے بعد بٹوا وہیں سے ملا جہاں ہم بتا رہے تھے، یعنی ہمارے ڈیسک پر۔
گھر سے نکلے۔ سڑکیں ویران دیکھ کر خوشی ہوئی کہ گو ساڑھے نو بج گئے ہیں لیکن ہم پھر بھی جلدی نکل کر رش سے بچ گئے۔ ہمارا پولنگ سٹیشن علامہ اقبال ٹاؤن کے ایسے علاقے میں ہے جہاں انصافی ووٹر زیادہ ہیں، پچھلی مرتبہ وہی جیتے تھے۔ اس بار بھی اس پولنگ سٹیشن پر ان ہی کی اکثریت ہو گی۔
ہم چھوٹی سی لائن میں کھڑے ہو گئے۔ ہم سے آگے کوئی دس بارہ بندے تھے، لیکن ہماری باری آتے آتے آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ اچانک لائن میں پیچھے غل مچا۔ گھوم کر دیکھا تو ایک تین پھولوں والے تھانیدار صاحب اپنے چار ساتھیوں سمیت ایک معزز سے ادھیڑ عمر بندے سے الجھ رہے تھے۔ اب یہاں دو راویوں کے بیانات میں کچھ اختلاف ہے۔ ایک راوی کا خیال ہے کہ اس بات پر الجھا جا رہا تھا کہ وہ بندہ ایک بزرگ کو لائن کاٹ کر آگے نہیں جانے دے رہا تھا جبکہ پولنگ کا عملہ خواتین اور بزرگوں کو لائن میں کھڑا نہیں کر رہا تھا بلکہ لائن کراس کر کے سیدھا اندر جانے دے رہا تھا۔
دوسرے راوی کے مطابق پولیس پارٹی خود اندر آنا چاہتی تھی لیکن وہ بندہ اسے اس اصولی بنیاد پر راستہ دینے سے انکاری تھا کہ وہ لائن میں پہلے لگا ہے تو کسی دوسرے کو راستہ کیوں دے۔
بہرحال پہلے تو تھانیدار صاحب نے اس بندے کے ساتھ اسی زبان میں بات کی جس میں حوالاتیوں سے تفتیش کی جاتی ہے۔ پھر یہ انکشاف ہونے پر کہ اس بندے کے پاس فون بھی ہے، تین چار پولیس والوں نے اسے چہرے اور سر پر بہت بری طرح مارنا شروع کر دیا۔ ویسے ہی جیسے دوران تفتیش حوالاتیوں کو مارا جاتا ہے۔
لائن میں لگے لوگ ایک دوسرے کو کہتے رہے کہ بہت بری بات ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن کسی نے پولیس والوں کو ایک لفظ تک نہ کہا۔ بہرحال اس بندے کا حوصلہ ہے کہ پھر بھی ووٹ دینے کو آمادہ رہا اور واک آؤٹ نہیں کیا۔
کچھ دیر بعد پولیس پارٹی باہر نکلی تو اس شخص کے پاس دوبارہ رکی۔ اس کے زخمی چہرے کو دیکھ کر تھانیدار صاحب نہایت غصیلے انداز میں پھنکارے ”تم نے ایک پولنگ سٹیشن پر جانا ہے اور میں نے سارا دن 55 بھگتانے ہیں۔“ غالباً یہ انہوں نے اس بندے کی تسلی کے لیے کہا ہو گا، یا پھر یہ ان کے معذرت کرنے کا انداز ہو گا۔
غالب امکان ہے کہ بندہ انصافی ہو گا۔ بہرحال وہ ایک معزز ووٹر تھا اور اس کا قوم پر احسان تھا کہ وہ گھر بیٹھنے کی بجائے ووٹ ڈالنے آیا۔ اور اتنی مار کھا کر بھی ووٹ ڈالنے کے لئے کھڑا رہا۔
اور یہ اس محلے کا پولنگ بوتھ ہے جس میں میڈیا اور اخبارات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ یقیناً ان میں سے کئی اس لائن میں بھی موجود ہوں گے۔
دیکھیں ویسے تو ایک حقیقت پسند شاعر فرما گیا ہے کہ
پُلس نوں آکھاں ”ظالم“ تے فیدہ کی
پِچھوں کردا پِھراں ٹکور تے فیدہ کی
جھاڑُو نال بناون مور تے فیدہ کی
بُوتھی ہو جائے ہور دی ہور تے فیدہ کی
کولوں پان، بناون چور تے فیدہ کی
پَھڑ کے اندر دَین دھسوڑ تے فیدہ کی
(پولیس کو ”ظالم“ کہوں تو کیا فائدہ، پیچھے ٹکور کرتا پھروں تو کیا فائدہ، جھاڑو سے مور بنا دیں تو کیا فائدہ، چہرہ کچھ سے کچھ ہو جائے تو کیا فائدہ، خود ڈال کر چور بنا دیں تو کیا فائدہ، پکڑ کے اندر ڈال دیں تو کیا فائدہ) ۔
لیکن متعلقہ صوفی صفت ڈی آئی جی صاحب، جن کی انسان دوستی کا میں ذاتی طور پر معترف ہوں، اپنے تھانیداروں کو یہ بتا دیں کہ ووٹروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں تو ان کی عین نوازش ہو گی۔
ویسے لگتا ہے کہ پولیس والوں کا حال بھی پتلا ہے۔ ایک اہلکار بتا رہا تھا کہ مسلسل دو تین دن سے ڈیوٹی کر رہا ہے۔ پہلے گشت پر رہا۔ یہاں پولنگ سٹیشن پر کل سے موجود ہے۔ باہر جانے کی بالکل بھی اجازت نہیں۔ صبح سویرے ناشتے کے نام پر ایک بچوں والا دودھ کا ڈبہ اور کھانے کو ایک بند کا پیکٹ ملا ہے۔ گو وہ اس بات کا معترف تھا کہ متعلقہ ڈی آئی جی صاحب نے اسے ذاتی طور پر میسج کر کے معذرت کی ہے کہ بیٹے میں تمہارے لیے کھانے کا کوئی معقول بندوبست نہیں کر سکا۔ وہ پولیس والا اس بات کا شکوہ بھی کر رہا تھا کہ اساتذہ کو تو اس ڈیوٹی کے ہزاروں روپے ملتے ہیں، مردم شماری وغیرہ کی ڈیوٹی میں بھی انہیں بڑی رقم ملتی ہے، لیکن ان کے ساتھ اسی ڈیوٹی پر موجود پولیس والوں کو کچھ ملنا تو درکنار، وہ اپنی جیب سے پٹرول ڈلوا کر ڈیوٹی کرتے ہیں۔
ہو سکے تو ان پولیس والوں کو کچھ معقول کھانا پینا پہنچا دیں، اور ساتھ ووٹروں کے ساتھ کچھ عزت احترام وغیرہ سے پیش آنے کی ہدایت بھی کر دیں۔ مانا ڈیوٹی سخت ہے، مگر ووٹر کا احترام بھی فرض ہے۔
موبائل فون کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ انصافیوں کے خیال میں پولنگ سٹیشن پر موبائل فون پر پابندی کی وجہ یہ ہے کہ لوگ شرلاک ہومز کے انداز میں دھاندلی پکڑ کر فوٹیج بنا لیں گے۔ جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ وغیرہ کی خفیہ رائے دہندگی میں بھی موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وجہ ووٹ کی سیکریسی ہے۔ ورنہ لوگ ووٹ خریدیں گے اور ووٹ دینے والے سے فرمائش کریں گے کہ اپنی پرچی کی تصویر بنا کر لانا۔
الیکشن کمیشن کو میڈیا اور پولنگ سٹیشن پر اس کی باقاعدہ تشہیر کرنی چاہیے تھی کہ پولنگ سٹیشن پر موبائل فون لانے کی اجازت نہیں۔ اس بات پر کئی لوگ پولنگ سٹیشن کے عملے سے الجھتے دکھائی دیے۔ رینجرز کی گاڑی بھی آئی اور پولیس اہلکار نے سیلوٹ مار کر رینجر اہلکار کو مطلع کیا کہ موبائل فون پر سخت پابندی ہے۔ کچھ لوگ پولیس والوں کی منت خوشامد کرتے رہے کہ ہمارا موبائل رکھ لیں، ہم بعد میں واپس لے لیں گے۔ پولیس والے بجا طور پر انکاری تھے۔ ان کا موقف تھا کہ ہم یہ ٹھیکیداری کریں یا پھر اپنی ڈیوٹی پر توجہ مرکوز کریں۔
ایک ضعیف اماں جی بھی تشریف لائیں۔ ان سے پولیس اہلکار نے فون مانگا تو وہ دینے سے انکاری ہو گئیں۔ کہنے لگیں کہ فون کے بغیر تو میں نے اندر نہیں جانا، میں اندر گر پڑی تو اس بابے کو فون کر کے بلا تو لوں گی۔ پولیس والے نے معذوری ظاہر کی کہ اوپر سے حکم یہی ہے تو فرمانے لگیں کہ پھر میں بھی ووٹ نہیں ڈالوں گی، اور واک آؤٹ کر گئیں۔ دس منٹ بعد باہر کسی کو فون دے کر واپس آ گئیں۔ ویسے دلچسپ امر یہ تھا کہ داخلی دروازے پر کوئی خاتون پولیس اہکار تعینات نہیں تھی۔ مرد اہلکار رسمی طور پر پوچھتے کہ باجی آپ کے پاس فون تو نہیں، باجی بتاتیں نہیں تو ان کی زبان پر اعتبار کر لیتے۔


