مائی آل سیزن مسلم ایپ


(ایپ، تمام واقعات اور کردار فرضی ہیں)

مسئلہ ان آنٹی کا ہے جن کا نہ صرف حافظہ بلا کا ہے بلکہ انتظامی امور میں بھی وہ سب سے بہتر ہیں۔ ان کی حلوہ پوری محلے میں سب سے پہلے بانٹنے کو نکل آتی ہے۔ موقع کے حساب سے تمام محافل کے دعوت نامے بھی بروقت لوگوں کو واٹس ایپ ہو جاتے ہیں۔ ختم میں ستائیسواں اور اٹھائیسواں آپ کے بولنے سے بھی پہلے خود بڑھ کر لے لیتی ہیں۔ دوسری خاتون کو ان بدعتوں سے شدید چڑ ہے۔ وہ اپنے دین اور دنیا کو داؤ پر لگانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتیں۔ ان بٹی ہوئی سوغاتوں کو ہاتھ نہیں لگاتیں محافل میں شرکت سے گریز کرتی ہیں۔ ختم کے دو پارے بھی آپ انہیں اسائن نہیں کر سکتے۔

عوام کی پوچھی جائے تو ہر خاتون جو ابھی مردم بیزاری کے اس درجے تک نہیں پہنچی جس میں انسان کو آئینہ سے کد ہوجاتی ہے۔ ہر وہ جو گھر کی مشقت سے دو گھنٹے کی چھٹی مع سنیک کو غیبی امداد تصور کرتی ہے اور برکتوں کی ٹوکری کو بونس۔ جس کی سماجی تعلق کی بنیادی انسانی ضرورت محض اسی محفل سے پوری ہو سکتی ہے۔ بدعت کا یہ فلسفہ اس کے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں ہے۔ بھئی جب سب کر رہے ہیں۔ ویسے اللہ غفورالرحیم ہے۔ لیکن ایک اور مسئلہ بھی ہے کہ اتنی مصروف زندگی میں دنوں کا شیڈول کچھ آگے پیچھے ہو جاتا ہے ۔ پہلے پتہ ہوتا تو بندہ اچھا والا سوٹ ہی ریڈی رکھتا ہے۔ اور پھر باقی میچنگ چیزیں بھی ہوتی ہیں۔

پھر یہ سوال بھی ہمارا دامن پکڑ لیتا ہے کہ بندہ کون سے دن منائے اور کون سے نہ منائے۔ بدعت سے بھاگنے والوں کے برعکس یہ سوال ان موڈریٹ لوگوں کے ذہن میں بھی اٹھنا ہے جن کے اباؤ اجداد نے ان تکلفات سے بہت عرصہ پہلے جان چھڑا لی تھی اور وہ کلچرل کے اس پہلو سے نابلد پروان چڑھے ہیں۔ مذاق مذاق میں ہم نے ایک خاتون سے پوچھا جن کی معلومات کا ذخیرہ عوامی مذاہب و تواریخ کے بارے میں وسیع ہے۔ انہوں نے جاننے والوں کی لسٹ گنوائی جن کے مسالک کی ناموں میں حروف تہجی کے تمام اراکین کی مناسب نمائندگی ممکن بنائی گئی تھی خواہ وہ ہو یا ویاح۔

سب کو ملا نہ لیں۔ تو زیادہ پارٹیز۔
ہم نے ڈرتے ڈرتے رائے دی تو ایک حوصلہ افزا۔ فنکارانہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل گئی۔

بہرحال ان تمام معلومات کا کوئی قابل بھروسا ذخیرہ ہونا چاہیے۔ اسی لیے میرا ووٹ آل سیزن مسلم ایپ کے ساتھ ہے۔ سب سے پہلے تو اس میں خاص خاص دنوں کی مخصوص عداوتیں نہیں عبادتیں الگ الگ کر کے دی گئیں ہیں۔ پھر اس میں خصوصاً پاکستان کے حوالے سے ان تمام کھانوں اور رسموں کی تفاصیل ہیں جن کے بغیر اہم دن کبھی بھی صحیح طرح منانا ممکن نہیں ہے۔ رمضان اور عید سے متعلقہ پکوانوں کی ریسپیز کا ایک پورا سیکشن ہے۔ بلکہ نیچے ان کے آزمودہ (واقف؟) کیٹرنگ والوں کے لنک بھی ہیں اگر کسی کو ارجنٹ میں حلوے کی دیگ وغیرہ پکوانی ہو۔

ہر موقع کے لحاظ سے ہماری تمام تر ضروریات کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنے کا سہرا اسی ایپ کو جاتا ہے۔ رمضان کے لیے اکثر بچوں کے لیے کلرنگ بک کی ضرورت پڑتی ہے وہ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کی جا سکتی ہے۔ تمام اہم معلومات کے تخلیص شدہ خلاصے رین بو کارڈز کی شکل میں موجود ہیں۔ اگر آپ ایک مہینے میں بچے کو ہماری آفاقی کتاب کے تمام اسباق ازبر کرانا چاہتے ہیں تو پی ڈی ایف سیکشن سے سپر سمال قاعدہ یا تیس۔ میں۔ تیس والی فائل ضرور ڈاؤنلوڈ کریں۔ اس کے علاوہ اس میں گھر کی (کرسمس اور ہولی انسپائرڈ) اسلامک کلچرل ڈیکوریشن کے نت نئے آئیڈیاز دیکھ کر آنکھیں اور دماغ دونوں روشن ہو جاتے ہیں۔ یعنی وہ چیزیں جو ممکن ہو سکتی تھیں لیکن ہمیں معلوم نہیں تھیں۔

اور ابھی تو میں نے صرف بتانا شروع کیا ہے۔ تمام فیچر تو اس مضمون میں آ بھی نہیں سکتے۔ صدقات کے تمام ممکنہ مواقع۔ موسمی آفات کے لحاظ سے چندے کی اپیلیں۔ زکوة لینے والے ویب سائیٹ۔ فطرانے کا حساب۔ عید کیسی لیں۔ مہندی چوڑی، حج اور عمرے کے سستے پیکج۔ میلاد کی پہاڑیوں کے اشتہارات، نویں دسویں کے تمام تر ایونٹس۔ قسطوں پر بکرے۔ آپ کی قربانی اور کھالوں کے انتظام کرنے والے بے لوث ادارے جو گھر پر پیکٹ پہنچا جاتے ہیں۔ اور اگر آپ زیادہ ایڈونچر پسند ہیں تو بکر منڈیوں کے اپڈیٹس۔ قیمتوں کے تقابل۔ آن لائن مفتیان۔

دوسری خاتون کہتی ہیں یہاں تو صراط مستقیم کو بھی کنزیومر ازم کی نظر کیا جا رہا ہے۔ میں کہنے کی کوشش کرتی ہوں کہ شاید نذر کہنا زیادہ صحیح ہوتا۔ اور آپ کیوں نہیں سمجھتیں کہ ایک گڈ لکنگ اسلامی کلچر ہماری کتنی بڑی ضرورت ہے۔ ہماری سادگی کی وجہ سے ہمیں باقی دنیا کے لوگ کیا سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا تو فلسفہ ہی الگ ہے وہ کہتی ہیں آل سیزن عقیدہ کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انسان کسی دن بس ایک ٹاپک کو پکڑ لے اور پھر دیر تک ہر ایک کی حقیقی اور ورچوئل سمع خراشی کرنا شروع کرتا رہے۔ بلکہ یہ کہ انسان ہر موسم میں اپنے عقیدے پر یکساں طور پر جما رہے اور روز تھوڑا تھوڑا مستقل عمل کرتے ہوئے ہر روز بہتر ہونے کی کوشش کرے۔

وہ تو اسلامی ثقافت کو بھی کچھ اور ہی سمجھتی ہیں۔ جس میں وہ رواداری، امداد باہمی اور خوش خلقی کو خوش اطواری (برانڈز والی) ، باہمی ملاقاتوں (میلاد والی) اور صدقہ اپیلوں (سیلاب والی) سے اہم سمجھتی ہیں۔ میں نے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ یہ تو ان کا ذاتی معاملہ ہے جس پر وہ کچھ ناراض ہو گئیں۔ پھر میں ان سے مزید بحث نہیں کی۔ اچھا ویسے اور کس کس نے مذہبی چھٹیوں والے سپیشل اخباری ایڈیشنوں سے دینی تعلیم حاصل کی ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments