تعلیم اور منشور

کئی تجزیہ نگاروں نے سیاسی جماعتوں کے 2024 کے منشور پڑھے اور ان کے تجزیے کیے ہیں لیکن صرف تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے تجزیے نہیں کیے گئے ہیں۔
اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم دو بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور غور سے دیکھے جائیں اور ان میں تعلیم سے متعلق کیے گئے وعدوں کا سرسری جائزہ لیا جائے اور پتا لگایا جائے کہ آیا انہیں آئینی نکات اور تخمینے کی باریکیوں کا علم ہے یا صرف خالی خولی وعدے کر دیے گئے ہیں۔
اس مختصر جائزے میں ہم صرف پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے منشوروں پر تعلیم کے حوالے سے ایک نظر ڈالیں گے۔
پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے اپنے 2024 کے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ تعلیم پر ہونے والے اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار یا جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر کیا جائے گا۔ وعدہ تو اچھا ہے مگر منشور یہ نہیں بتاتا کہ ایسا کس طرح کیا جائے گا۔ جب کہ اپنی پچھلی حکومتوں میں 2013 سے 2018 کے درمیان اور پھر مخلوط حکومت میں 2022 سے 2023 تک مسلم لیگ (ن) نے جو بجٹ پیش کیے ان میں جی ڈی پی کا دو فی صد بھی مختص نہیں کیا گیا تھا۔
2013 سے 2018 کے دوران میں تو مسلم لیگ کے اپنے دعوؤں کے مطابق معاشی اشاریے بہتر تھے پھر بھی مسلم لیگ (ن) کام کیوں نہ کر سکی اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
اب جب کہ پاکستان کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے، روپے کی قدر خاصی گر چکی ہے اور ملکی معیشت ایک شاخ نازک پر کھڑی ہے اور یہ ناپائیدار صورت حال مزید کئی سال چلنے کا خدشہ ہے تو مسلم لیگ کس طرح یہ دعوا کر سکتی ہے کہ جی ڈی پی کا چار فی صد تعلیم کے لیے مختص کیا جائے گا۔
ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے کہ جب غیر پیداواری اخراجات کا رخ پیداواری اخراجات کی طرف موڑا جائے اور انہیں تعلیم پر لگایا جائے لیکن ایسا کم از کم مستقبل قریب میں تو ممکن نظر نہیں آ رہا۔
مسلم لیگ (ن) کے منشور میں یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں طلبا و طالبات کو محفوظ اور آسانی سے میسر آمد و رفت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور یہ سہولتیں ماحول دوست بھی ہوں گی۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اس سلسلے میں کوئی اعداد و شمار استعمال نہیں کیے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس طرح کے منصوبے پر کتنے وسائل خرچ ہوں گے اور وہ کہاں سے آئیں گے۔
اگلا وعدہ یہ ہے کہ پورے ملک میں شام کے اسکول کھولے جائیں گے۔ اس طرح کے وعدے کرتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہر سطح کی تعلیم یعنی ابتدائی سے اعلیٰ ترین تعلیم تک صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے اور اب یہ صوبائی معاملہ ہے جس میں مرکزی حکومت مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ اسے ایسا کرنا چاہیے۔
اگر مسلم لیگ (ن) تمام صوبوں میں اپنی حکومت بنا بھی لے تو پھر بھی شام کے اسکول کھولنے کے لیے اضافی عملہ درکار ہو گا جس کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ منشور میں کوئی وضاحت نہیں کہ اتنا بڑا وعدہ کیسے پورا کیا جائے گا۔ جب کہ اس وقت بھی موجود سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔
ایک اور وعدہ یہ کیا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یا سرکاری و نجی شعبوں کے تعاون پر مبنی تعلیمی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ اگر ماضی میں اس طرح کے تجربات اور منصوبوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے فوائد نجی شعبے نے زیادہ حاصل کیے ہیں اور عوام کا فائدہ کم ہوا ہے۔
بہت سے نجی اسکول ایسے ہیں جو اب بڑے کاروباری ادارے بن چکے ہیں اور بے تحاشا منافع کما رہے ہیں لیکن ان کے آغاز پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے سرکاری زمینیں اور قرضے اونے پونے نرخوں پر حاصل کیے اور وعدے یہ کیے گئے کہ یہ ملک میں اچھی تعلیم غیر منافع جاتی بنیادوں پر فراہم کریں گے لیکن ہم نے دیکھا اس نام نہاد سرکاری و نجی تعاون کے نتیجے میں بننے والے زیادہ تر اسکول یا ہسپتال اپنی خدمات کے عوض مہنگے ترین معاوضے وصول کرتے ہیں اور اپنے کاروباری مفادات کو مقدم رکھتے ہیں۔
غالباً یہ بہتر ہو گا کہ اسے سرکاری و نجی تعاون کے بجائے سرکاری اور غیر منافع جاتی تعاون کہا جائے تاکہ صرف ایسے غیر سرکاری ادارے تعلیم کے شعبے میں آئیں جن کی فیس لاکھوں میں نہیں بل کہ سینکڑوں میں ہوں۔
اس وقت کاروباری ادارے تعلیم کے نام پر بڑی رقوم بٹورتے ہیں جس سے سماج میں طبقاتی تقسیم اور بڑھ رہی ہے اور خود ان کے کاروبار پھیل رہے ہیں۔
دانش اسکول کا منصوبہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پنجاب میں 2010 میں شروع کیا تھا اور وہ اچھی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں مگر یہ ایک طرح کے جزیرے ہیں جو بہت محدود تعداد میں طلبا و طالبات کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ جس ملک میں کروڑوں کی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں وہاں چند ہزار بچوں پر توجہ مرکوز کرنا اتنا اچھا نہیں ہے۔
مسلم لیگ (ن) کا ایک اور دلچسپ وعدہ یہ ہے کہ ملکی سطح پر ایک نیشنل کمیشن آف ایکسیلینس یا اعلی کارکردگی کا قومی کمیشن بنایا جائے گا جو تعلیم میں کارکردگی کو بہتر کرے گا۔ غالباً یہ بہتر ہو گا کہ ابتدائی تعلیم کے لیے صوبائی سطح پر کمیشن بنائے جائیں تاکہ آئینی طور پر تعلیم کی ذمہ دار صوبائی حکومتیں اپنا کام بہتر طریقے سے کرسکیں نا کہ اسلام آباد کے قومی کمیشن ان کے کام میں مداخلت کرے۔
اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور میں مصنوعی ذہانت، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے ساتھ مشین لرننگ پر مبنی تعلیمی نظام کا وعدہ کیا ہے۔ جو کسی قابل عمل منصوبے کے بجائے ایک خوش فہمی معلوم ہوتا ہے۔
ہمارے بچوں کی آدھے سے زیادہ تعداد ایک سادہ سی عبارت پڑھنے اور عام سا حساب کرنے سے بھی قاصر ہے اور یہاں پر بات کی جا رہی ہے مصنوعی ذہانت کی اور مشین لرننگ کی۔
مسلم لیگ (ن) نے اس طرح دیگر وعدے بھی کیے ہیں لیکن آئیے اب ذرا پیپلز پارٹی کے منشور میں تعلیمی نکات کو دیکھتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے 2024 کے منشور میں جی ڈی پی کا کم از کم پانچ فی صد حصہ تعلیم کے لیے مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے اور سترہ بلین کی رقم لگانے کا عہد کیا ہے۔ یہاں بھی مسلم لیگ کی طرح یہ نہیں بتایا گیا کہ ایسا کیسے ہو گا۔ جب کہ معیشت کی حالت دگرگوں ہے اور مزید خرابے کا خدشہ ہے اور غیر پیداواری اخراجات میں کمی کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔
پاکستان کا مجموعی بینک قرضہ سو بلین ڈالر سے زیادہ ہے جب کہ سالانہ برآمدات صرف تیس سے چالیس بلین ڈالر کے درمیان ہیں ایسے میں سترہ ارب ڈالر تعلیم کے لیے مختص کیسے ہوں گے؟
پیپلز پارٹی نے ایک اچھا اور قابل تعریف وعدہ یہ کیا ہے کہ اعلی تعلیم کے مالی وسائل صوبوں کو منتقل کیے جائیں گے۔ صوبائی اعلی تعلیمی کمیشن تمام صوبوں میں فعال ہونے چاہئیں اور ان کی تحقیق و ترقی کی صلاحیتیں بہتر کرنے کے لیے اٹھارہویں ترمیم کے مطابق انہیں وسائل ملنے چاہئیں۔ یہ وسائل بجٹ سے براہ راست صوبوں کو دینے چاہئیں نہ کہ ایچ ای سی کے ذریعے جس کا طریقہ بڑا گول مول سا اور افسر شاہی پر مبنی ہے جہاں صوبوں کی ضرورت کا خاطرخواہ خیال نہیں رکھا جاتا۔
مسلم لیگ نے اس معاملے پر منشور میں کچھ نہیں لکھا جب کہ پیپلز پارٹی نے کم از کم اس کا ذکر تو اپنے منشور میں کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے منشور میں آئین کی دفعہ پچیس اے کے تحت لازمی اور مفت تعلیم فراہم کرنے کا بھی وعدہ ہے لیکن مسلم لیگ کی طرح پیپلز پارٹی بھی یہ وضاحت نہیں کرتی کہ پچھلے پندرہ سال میں سندھ میں پی پی کی حکومت مسلسل رہی ہے تو اس دوران میں کیا رکاوٹ تھی کہ تمام بچوں کو کم از کم ابتدائی تعلیم ہی دے دی جاتی۔
”اسکول جاؤ، ہنر بڑھاؤ“ کا نعرہ بھی اچھا ہے کیوں کہ علوم و فنون کی مہارتیں ساتھ چلنی چاہئیں اور یہی تعلیم کا بنیادی مقصد ہے مگر صرف نعرے سے کام نہیں چلے گا۔
پیپلز پارٹی نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ ہر بچے کو تیس منٹ کے فاصلے پر پرائمری اسکول اور ساٹھ منٹ کے فاصلے پر سیکنڈری اسکول فراہم کیا جائے گا مگر یہ نہیں بتایا کہ تیس اور ساٹھ منٹ کے فاصلے پیدل طے ہوں گے یا ٹرانسپورٹ میں۔
پیدل جانے والے بچوں کے لیے تیس اور ساٹھ منٹ چلنا ناممکن نظر آتا ہے جب کہ کسی گاڑی میں تیس منٹ یا ایک گھنٹہ دور اسکول تک جانے کے لیے وسائل کون مہیا کرے گا؟
اس وقت سندھ میں شاید ہی کوئی سرکاری اسکول بچوں کو آمد و رفت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ پھر یہ سوال بھی ہے کہ گزشتہ پندرہ سال میں پیپلز پارٹی نے نے کتنے سرکاری سکولوں میں بچوں کو آمد و رفت کی سہولت فراہم کی ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ سیکنڈری اسکول بھی آدھے گھنٹے سے زیادہ فاصلے پر نہ ہوں۔
پیپلز پارٹی کا ایک اور متاثر کن وعدہ یہ ہے کہ بچوں اور اساتذہ کو استحصال سے بچایا جائے گا۔ ہمارے تعلیمی نظام میں یہ بڑا مسئلہ ہے جو ہر سطح پر موجود ہے خاص طور پر بچیاں اور خاتون اساتذہ استحصال کا سامنا کرتی ہیں جو اسکول اور کالج سے لے کر جامعات تک چلتا ہے۔
پیپلز پارٹی کا منشور وعدہ کرتا ہے کہ جانچ پڑتال کا نظام بنایا جائے گا۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک بڑی خدمت ہوگی۔ اس سلسلے میں ہر سطح پر اساتذہ اور افسروں کی تربیت کی شدید ضرورت ہے۔
پیپلز پارٹی کے منشور میں ایک اور وعدہ یہ ہے کہ عالمی شہریت کے مضمون کو نصاب میں شامل کیا جائے گا تاکہ رواداری اور برداشت کے رجحان کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ وعدہ بھی اہمیت کا حامل ہے جس کو تمام جماعتیں اپنا سکتی ہیں اور سب کو اپنے اپنے منشور میں شامل کرنا چاہیے تھا۔
پچھلی پون صدی کی آزاد زندگی میں ہمارا تعلیمی نظام لوگوں میں شہریت کی سمجھ دینے سے قاصر رہا ہے کیوں کہ شہریت کی تعلیم کو نصاب سے تقریباً خارج کر کے ان کی جگہ صحیفوں کے رٹے لگائے جاتے رہے ہیں اور اقوال زریں کے ذریعے تعلیم دینے کی کوشش کی گئی ہے جن کا کوئی معقول نتیجہ نہیں نکل سکا۔ اقوال زبانی یاد کرنے سے لوگوں کے رویے شاذونادر ہی بہتر ہوتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کا ایک اور وعدہ یہ ہے کہ تمام اسکولوں میں جدید ترین آلات سے آراستہ لائبریری اور تجربہ گاہ فراہم کی جائے گی جس میں کمپیوٹر سے لے کر کھیلوں کے سامان تک بچوں کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس وعدے پر یقین کرنا مشکل ہے کیوں کہ سندھ میں سرکاری اسکولوں کی حالت سے سب واقف ہیں۔
اس وقت سندھ کے زیادہ تر سرکاری اسکولوں میں لائبریری نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اس میں کتابوں کو الماری میں بند کر کے رکھ دیا جاتا ہے جن پر دھول مٹی اٹی پڑی رہتی ہے۔
جن اسکولوں میں کمپیوٹر ہیں وہاں تربیت یافتہ اساتذہ نہیں ہیں جن کی وجہ سے کمپیوٹر بند پڑے رہتے ہیں اور جلد ناکارہ ہو کر ایک کنارے لگ جاتے ہیں۔
اسی طرح صاف ستھرے بیت الخلا کی فراہمی بھی سرکاری اسکولوں میں ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے خاص طور پر بچیاں پریشانی کا شکار رہتی ہیں اور بالآخر تعلیم منقطع کر کے گھر بیٹھ جاتی ہیں۔
مختصر یہ کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے بلند و بانگ وعدے کیے ہیں جو کاغذ پر تو اچھے لگتے ہیں لیکن جو حقیقت پسندی پر مبنی نہیں معلوم ہوتے کیوں کہ ان کی کوئی منصوبہ سازی نہیں کی گئی ہے۔
اچھی پرائمری تعلیم اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے اگر جی ڈی پی کا چار یا پانچ فی صد حصہ مختص کرنے میں اگلی حکومت کامیاب ہو گئی تو یہ ایک بہت بڑا قدم ہو گا۔
ایسا اگر اگلے سال کے بجٹ میں نہیں تو اگلے پانچ سال میں ضرور کرنا چاہیے۔

