اتاترک


مصطفٰے کمال پاشاہ جنہیں ”اتا ترک“ یعنی ”بابائے ترک“ بھی کہا جاتا ہے جدید جمہوریہ ترکیہ کے بانی ہیں۔ وہ جدید جمہوریہ ترکیہ کے پہلے سربراہ مملکت اور صدر بھی ہیں۔

مصطفیٰ کمال 1881 میں سلانیک میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جب ان کے والد کی وفات ہوئی تو ان کی عمر صرف 7 برس تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کیڈٹ سکول سے حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں ہی وہ ایک اچھے مقرر اور ذہین طالب علم تھے۔ انہیں شروع ہی سے فوج میں شامل ہونے کا تھا۔ 1905 میں انہوں نے فوج میں بطور ”کیپٹن“ شمولیت اختیار کی۔

یہ سلطنت عثمانیہ کا آخری دور تھا۔ خلافت عثمانیہ کافی کمزور ہو چکی تھی اور مختلف محاذوں پر خود مختاری کی تحریکیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کے علاوہ بڑی طاقتیں بھی سلطنت عثمانیہ کے مختلف حصوں میں شورش برپا کر کے ان پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہر طرف افراتفری، خلفشار اور کشمکش جاری تھی۔

جب پہلے جنگ عظیم کا 1914 میں آغاز ہوا تو مصطفٰے کمال پاشا صوفیہ (بلغاریہ ) میں ملٹری اتاشی کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی خواہش پر انہیں واپس فوج میں بھیج دیا گیا۔ 1915 میں انہوں نے فرانسیسی اور انگریزی فوجوں کے خلاف گیلی پولی اور آبنائے باسفورس کے محاذ پر کامیاب دفاع کیا اور اتحادی فوجوں کو سرزمین سلطنت عثمانیہ میں داخل نہ ہونے دیا۔ ان کی خدمات کے سلسلے میں انہیں جنرل بنا دیا گیا۔ 1916 میں انہوں نے روسی فوج کو شکست دی۔ بعد میں اطالوی اور یونانی فوج کو بھی شکست سے دوچار کیا۔

پہلی جنگ عظیم ( 1918۔ 1914 ) میں جرمنی کے ساتھ سلطنت عثمانیہ کو بھی شکست ہوئی اور اتحادیوں نے سلطنت عثمانیہ کے زیر انتظام علاقوں کو آپس میں تقسیم کر کے زبردستی معاہدہ مسلط کرنے کی کوشش کی جنہیں مصطفٰے کمال پاشا نے قبول نہ کیا اور ایک مسلح جدوجہد آزادی شروع کر دی۔

اتحادی فوجوں کے خلاف سلطنت عثمانیہ کے طول و عرض میں بکھری ہوئی ترک فوجوں کو نہ صرف اکٹھا کیا بلکہ انہیں حملہ اوروں کے خلاف منظم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نوجوان ترکوں کو بھی ایک پلیٹ فارم جمع کیا اور اتحادی فوجوں کے خلاف مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں۔ انہیں ان کے فوجی کارناموں کی وجہ سے تمغہ لیاقت اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

اتحادی فوجوں کو مختلف محاذوں پر شکستیں ہونا شروع ہو گئی تھیں اور وہ پسپا ہو کر واپس مڑنے لگیں۔ مصطفیٰ کمال پاشا کی ان کامیابیوں نے ترک قوم میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔

جدوجہد آزادی میں کامیابی کے بعد مصطفی کمال نے ترک قوم کو منظم کرنا شروع کر دیا۔

پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور ایک نئے ملک ”جمہوریہ ترکیہ“ کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ مصطفیٰ کمال پاشا نے اس وقت کے اکابرین کے ساتھ مل کر گرینڈ نیشنل اسمبلی تشکیل دی جس نے انہیں جدید جمہوریہ ترکیہ کا پہلا صدر اور سربراہ مقرر کیا۔

انہوں نے 1923 میں جمہوریت خلق پارٹی (سی، ایچ، پی ) کی بھی بنیاد رکھی اور وسیع پیمانے پر ملک میں سیاسی، اقتصادی، سماجی، معاشی اور قانونی اصلاحات متعارف کروائیں۔

ملک کے قوانین کو سویڈن، سویٹزر لینڈ، اٹلی اور فرانس کی طرز پر تشکیل دیا۔ ترک زبان کا رسم الخط بھی بدل دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لباس اور معاشرے میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ وہ وسیع پیمانے پر اصلاحات متعارف کر کے ترکیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی اصلاحات متعارف کروائیں۔ ملک کے طول و عرض میں ہسپتال، سکول اور تعلیمی ادارے کھلے گئے۔ پرائمری تک تعلیم کو لازمی اور مفت قرار دیا گیا۔ ترک قومیت اور ثقافت کو اجاگر کیا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں ترکیہ اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔

1934 میں مصطفیٰ کمال پاشا کو ”اتا ترک“ کا خطاب دیا گیا۔ اسی سال انہیں ”نوبل انعام“ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

مصطفیٰ کمال ”اتا ترک“ کا انتقال 10 نومبر 1938 کو دولمہ باغچہ، استنبول میں ہوا۔ انہیں انقرہ میں دفن کیا گیا جہاں ایک شاندار مزار تعمیر کیا گیا جسے ”انیت کبیر“ کہا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti