’ان کی آنکھوں میں نہ دیکھیے گا‘: ایل سلواڈور کے بدنام زمانہ جیل میں صحافیوں نے کیا دیکھا؟

لیئر سیلز - بی بی سی منڈو


سیکوٹ

Lissette Lemus

’ان کی آنکھوں میں نہ دیکھیے گا، نظریں مت ملائیے گا۔‘

یہ وہ پہلی ہدایت تھی جو اس صحافیوں کے گروہ کو دی گئی جو ایل سیلواڈور کے مشہور جیل ’سینٹر فار دی کنفائنمنٹ آف ٹیررازم‘ (سیکوٹ) کا دورہ کرنے جا رہا تھا۔ سیکوٹ ایک سخت سکیورٹی والا جیل ہے جسے ایک سال قبل ملک کے صدر نایب بوکیل نے ایل سیلواڈور کے تین مرکزی گینگز کے ’بڑے عہدیداروں‘ کے لیے بنایا تھا۔

قیدی کلین شیو تھے، سفید لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ٹیٹوز عیاں تھے لہذا یہ کافی مشکل تھا کہ انھیں نہ دیکھا جائے۔ انھیں بھی معلوم تھا کہ انھیں دیکھا جا رہا ہے اور انھوں نے بھی سلاخوں کے پیچھے سے صحافیوں کے ساتھ نظریں ملائیں۔

جیل کے بڑے سیل میں سینکڑوں قیدی موجود تھے۔ یہ ایک بڑا جیل ہے جو ایک ویرانے میں بنایا گیا ہے اور یہ صدر بوکیل کی متنازع سکیورٹی پالیسی کی علامت ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی کی وجہ سے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں انھیں ایک بڑی کامیابی ملی۔

کئی سالوں سے ایم ایس 13 اور باریو 18 گینگ کی وجہ سے ملک میں خون خرابہ ہو رہا تھا۔

لیکن اب صورتحال ویسی نہیں ہے۔

اس جیل کے ڈائریکٹر نے اپنا نام بتانے سے معزرت کی لیکن اپنی ویڈیو بنانے کی اجازت دے دی۔ وہ کہتے ہیں ’یہ وہ پاگل ہیں، دہشتگرد ہیں، قاتل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ملک میں ماتم برپا رہا۔‘

یہ ڈائریکٹر حکومت کی طرف سے تیار کیے گئے جیل کے دورے میں ہمارے گائڈ بنے۔

ابھی آدھی رات کا وقت ہے لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہاں پر موجود مصنوعی لائٹس کبھی بند نہیں ہوتیں۔ چھت پر موجود ایئر فلٹرز سے تھوڑی بہت ہوا آتی ہے اور اس سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے دن کی گرمی میں کچھ راحت دیتی ہے۔ اس جگہ میں اس کے علاوہ وینٹیلیشن کا نظام نہیں ہے۔

باقی جیلوں کے مقابلے میں یہاں ٹوٹ پھوٹ کے مناظر نہیں آتے۔ ہر چیز چمک رہی ہے، نئی ہے اور اس پر پینٹ ہوا ہوا ہے۔

گارڈز ان سیلز کے اوپر بندوق کے ساتھ کھڑے قیدیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

ان کے نیچے قیدی چار منزلہ بنگ بیڈز پر سوتے ہیں جن پر کوئی میٹرس یا چادر نہیں ہوتی یعنی خالس لوہے کے بستر پر سوتے ہیں۔ انھیں کھانے کے لیے چاول، دالیں، ابلا انڈہ اور پاستا دیا جاتا ہے جو وہ اپنے ہاتھوں سے کھاتے ہیں۔

جیل کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے ’ کوئی بھی چمچ کانٹا جانلیوا ہتھیار بن سکتا ہے۔‘

سیلوں میں قیدی چار منزلہ اونچے بستروں پر سوتے ہیں

Lissette Lemus
سیلوں میں قیدی چار منزلہ اونچے بستروں پر سوتے ہیں

تین طرف کی دیواروں اور ایک طرف کی سلاخ کے درمیان ان کے پاس دو سنک اور ایک ٹوائلٹ کے علاوہ کچھ کرنے کو نہیں وہ بس وقت کو گزرتے ہوئے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ وہاں پر موجود ٹوائلٹ کے ارد گرد کوئی دیوار نہیں لہذا سب کے سامنے وہ استعمال ہوتے ہیں۔

انھیں دن میں صرف 30 منٹ ورزش کی اجازت ہے اور اس میں بھی انھیں آلات نہیں دیے جاتے بلکہ انھیں اپنے جسم کا استعمال کرتے ہوئے ورزش کرنا ہوتی ہے۔ وہ ہال وے میں ورزش کرتے ہیں جہاں سے اس وقت ہم سب صحافی گزر رہے تھے۔ اس جیل میں سات دیگر ایسے پویلین ہیں۔ یہ اس بڑے جیل میں ایک دوسرے سے آزاد جیل ہیں۔ اس جیل کے گرد دو برقی باڑیں اور دو کنکریٹ کی دیواریں ہیں اور 19 ٹاور ہیں۔

سوال کیا گیا کہ کیا کسی قیدی کو آزاد کیا گیا ہے جو یہاں تھا؟

جواب دیا گیا ’یہ پاگل اپنی بقایہ ساری زندگی سلاخوں کے پیچھے گزاریں گے۔‘

یہاں کتنے قیدی ہیں؟ ان میں سے کتنوں کو منتقل کیا جائے گا؟ ایک جیل سیل میں کتنے قیدی آ سکتے ہیں؟

یہ وہ سوال ہیں جو کئی مہینوں کی تحقیقات کے باوجود ہم ان کے جواب نہیں تلاش کر پائے۔ اس زمن میں ایک رپورٹ جولائی 2023 میں بھی شائع کی گئی تھی۔

اس دورے سے واپسی پر بھی ان سوالات کے جواب کے بغیر ہم واپس آئے۔

سیکوٹ جیل

Lissette Lemus
بی بی سی منڈو اور دیگر میڈیا کو سیکوٹ کے دورے کے لیے رسائی دی گئی

31 جنوری 2023 سے یہ بڑا جیل فعال ہوا اور اس وقت سے بی بی سی نے اس تک کی رسائی کی درخواست کرنا شروع کی۔

آخر کار صدارتی دفتر برائے بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے وٹس ایپ میسیج کے ذریعے 6 فروری کو اس جیل کے دورے کی دعوت موصول ہوئی جس میں کہا گیا ’ہم آج رات سیکوٹ جائیں گے۔‘

کہاں جمع ہونا ہے اور کس وقت؟ یہ معلومات روانہ ہونے سے آدھے گھنٹے پہلے دی گئی۔

بوکیل کو 85 فصید ویٹوں کے ساتھ انتخابات میں فتح ہوئے دو دن گزر چکے تھے، اس سے پہلے کہ پولنگ سٹیشنز میں گنتی کا عمل مکمل ہوتا انھوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ان کی پارٹی نے اسمبلی کی تقریباً تمام نشستیں جیت لیں تھیں۔

اتوار کی رات کو ایک بڑے مجمے کے سامنے نیشنل پیلس کی بالکونی سے بوکیل نے اپنی فتح کا جشن منایا اور اپنے آپ کو جیت کی مبارک باد دی اور اپنے ناقدین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان سے احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے اپنی سخت پالیسیوں کے خلاف عالمی تنقید کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ’ہم دنیا کے سب سے غیر محفوظ ملک سے پورے براعظم امریکہ کے سب سے محفوظ ملک بن گئے۔ اور انھوں نے کیا کہا؟ یہ انسانی حقوق کی خلافورزی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’کس کے انسانی حقوق؟ شریف لوگوں کے نہیں۔ شاید ہم نے شریف لوگوں کے حقوق کو مجرموں کے حقوق پر ترجیح دی، یہ ہی واحد چیز ہے جو ہم نے کی اور آپ اسے حقوق کی خلافورزی کہتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں نے ان تنظیموں سے پوچھا، ان بیرونی حکومتوں سے، میں نے ان صحافیوں سے پوچھا: وہ کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارا قتل ہو جائے، وہ کیوں ایل سلواڈور کے لوگوں کا خون دیکھنا چاہتے ہیں، وہ کیوں خوش نہیں ہیں کہ ہمارے ملک میں اب جرم نہیں ہورہا اور پہلے کی طرح خون نہیں بہہ رہا؟‘

اس کے دو دن بعد وہ بین الاقوامی میڈیا کے کچھ نامہ نگاروں کو جیل میں لے گئے جو بوکیل کی سیکیورٹی پالیسی کی علامت ہے۔

ایل سلواڈور اور ہزاروں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کا گینگ جرائم سے کوئی واضح تعلق نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان میں سے کئی لوگوں کو مجبوری میں گینگز کا ساتھ دینا پڑا اور اپنی جان بچانے کے لیے انھوں نے ان کے لیے اسلحہ اور منشیات کو چھپایا۔

ایل سلواڈور کی مرکزی انسانی حقوق کی تنظیم کرسٹوسال نے ایمرجنسی کے دوران تشدد کے کئی واقعات اور زیر حراست 150 افراد کی موت کی نشاندہی کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دسمبر میں اپنی رپورٹ میں گینگز کی تشدد کی جگہ ریاستی تشدد کے آنے پر تنقید کی تھی۔

تحفظ کے بدلے سب کچھ

قیدیوں کو ایکس رے کیا جاتا ہے جو اندرونی اعضاء اور ممکنہ پوشیدہ اشیاء کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

Lissette Lemus
قیدیوں کو ایکس رے کیا جاتا ہے جو اندرونی اعضاء اور ممکنہ پوشیدہ اشیاء کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

سکیوٹری کی چیکنگ سے گزرتے ہوئے قیدیوں کے بارے میں جیل کے ڈائریکٹر نے کہا ’یہ ایک سخت سکیورٹی والی جیل ہے، یہ ہیں گینگز کے اعلیٰ عہدیدار، دہشتگرد‘

جیل میں قیدیوں کی ہاتھ سے چیکنگ کی جاتی ہے انھیں کہا جاتا ہے کہ وہ ہاتھ اپنے سر کے پیچھے رکھیں اور ٹانگیں کھول لیں، ان کے ٹیٹوز کے بارے میں ان سے سوالات کیے جاتے ہیں اور وہ ایکسرے مشینوں سے گزرتے ہیں جو سکرین پر ان کی انتڑیاں دکھاتے ہیں۔

ہمارے گائڈ واضح کرتے ہیں ’کوئی غیر ملکی یا غیر سرکاری تنظیمیں یہاں نہیں آتیں۔‘ اور ہمیں تسلی دیتے ہیں کہ جیل عالمی میعار پر پورا اترتا ہے۔

’اب ہم آپ کو یہاں پر موجود پانچھ ایسے لوگ دکھائیں گے جن کے مقدموں کے قومی اور عالمی نتائج آئے۔‘

وہ چاہتے تھے کہ ہمارا سامنا سب سے شدید مثال سے کروائیں جس کے خلاف صدر بوکیل نے جنگ کا اعلان کیا اور ان کے منصوبوں نے انھیں مقبولیت بھی دی۔

گاڑڈ پانچ قیدیوں کو سیل سے نکالتے ہیں جن کا پہلے سے ہی انھوں نے انتخاب کر رکھا تھا۔ انھیں ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں گھٹنوں کے بل بٹھا کر دیوار کی جانب منہ موڑ دیا جاتا ہے۔ انھیں صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

’ادھر آئیے، مڑیے، اپنی شرٹ اتاریے۔‘

وہ پہلے قیدی کا تعارف کرواتے ہیں۔

جیل کے ڈائریکٹر کے مطابق میگویل انٹونیو ڈی ایز ساراویا عرف ’سیکٹور‘ ’ایم ایس 13 کے رکن ہیں اور ان کے بندوق بردار ہیں۔

پراسیکیوٹر آفس کے مطابق 2022 میں انھیں اغوا، تشدد اور قتل کا الزام ثابت ہونے پر 269 سال قید کی سزا دی گئی۔

مارون ماریو پاراڈا کو بھی کہا گیا کہ وہ اپنا ٹیٹو دکھائیں۔ انھیں 2012 میں 16 سال کی اولمپک ریسلر اتھلیٹ الیسن رنڈیروس کے قتل کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔

غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ آنے والے ایل سیلواڈور کے فوٹوگرافروں میں سے ایک نے بس میں جاتے ہوئے اس کیس کو یاد کرتے ہوئے کہا ’مجھے یاد ہے وہ سین ونسنٹ میں اس کی ٹکڑے کیے لاش کو نکالنے گئے تھے۔‘

ایک اور فوٹوگرافر نے اس واقعے کے بارے میں مزید بتایا کہ انھیں یاد ہے کیسے ان کے جسم کے حصوں کو ٹیبل پر رکھا گیا تھا۔

واپسی پر بس پر موجود مسافروں نے گینگز کے سب سے پرتشدد واقعات کو یاد کیا جیسے کہ 2010 میں میکیسیکانوس کی ایک منی بس کا جلنا جس کی وجہ سے 17 مسافر جل گئے تھے۔

گارڈز قیدیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں

Lissette Lemus
گارڈز قیدیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں

تمام مقامی فوٹوگرافرز کو اپنے ادارے کے لیے گینگ تشدد کے متعلق خبریں دینا ہوتی تھیں۔

میرے ساتھ بیٹھے صحافی نے کہا ’میں کئی سال تک اپنے چچا کے گھر نہیں جا سکا جو میرے ہی محلے میں رہتے تھے‘ کیونکہ مقامی گینگز نے اپنی سرحدیں بنائی ہوئی تھیں۔

وہ کہتے ہیں ’اگر آپ وہاں جاتے تو واپس نہ آ سکتے۔‘

فروری 4 کے انتخابات سے پہلے میں نے ایسی کہانیا ہر جگہ سنیں۔

اور اس کے علاوہ میں نے سڑکوں پر ایمرجنسی کے حق میں بھی تبصرے سنے اور یہی بات ایکزٹ پول میں نظر آ رہی تھی۔ اور وہ یہ تھا کہ بوکیل یہ انتخابات جیت جائیں گے۔

ایل سیلواڈور کی اکثریت ایسے حالات میں رہنے کی عادی ہو گئی تھی جہاں ان کے گھر کی دہلیز پر ان پر تشدد ہوتا تھا اور ان سے بھتہ لیا جاتا تھا لہذا تحفظ ہی ان کے لیے سب کچھ ہے۔

اور صدر بوکیل نے جیسے کہا اس کی قدر اس شک سے کہیں زیادہ ہے کہ کیا ’ایک ہی اکثریتی جماعت پر مبنی جمہوری نظام کیسے بہتر ہو گا اور اس کی سربراہی کرنے والے کو یہ کیا اختیارات دے گا۔

آئین کی پاسداری سے بڑھ کر، طاقت کے ایک ہاتھ میں جمع ہونے کے الزامات اور آمریت کی طرف گامزن ہونے کے بڑھتے ہوئے الزامات، بغیر ثبوت یا مناسب کارروائی کے گرفتاریوں کی شکایات، جیلوں میں تشدد اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں۔

جب ہم اپنی آخری منزل یعنی صدارتی پارکنگ میں پہنچے تو میں ان سب چیزوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

جیسے ہی میں منی بس سے اتری مجھے میرے عقب سے آواز آتی ہے ’بہت آسان ہے کہ آپ اس (حالات) سے گزرے بغیر تنقید کریں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments