ہم نے خود ہی تراشے ہیں سازشوں کے راستے


پاکستان میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا عمل حسب معمول ایک دیوانے کا خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ کاغذی سطح پر پاکستان اپنے 13 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن چکا ہے اور موجودہ انتخابات میں اگر ٹرن آؤٹ تقریباً 50 فیصد بھی لیا جائے تو قریب ساڑھے چھ کروڑ ووٹرز بنتے ہیں۔ حالیہ انتخابات کی کہانی کو اگر مختصراً بیان کیا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک اور سیاہ شب ہم نے گزار کر تمام کی۔

مفلوج معاشی حالت رکھنے والے ملک نے 47 ارب روپے انتخابی عمل کے لیے وقف کیے اور اگر حاصل، وصول کا تجزیہ کیا جائے تو ہمارے حصے میں سوائے سازشی تھیوریوں، بے یقینی، الزام تراشیوں، اور تذبذب کے سوا کچھ نہیں آیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان معمول کے مطابق اون گراؤنڈ ان فٹ اور آف دی گراؤنڈ ٹوٹل فٹ نظر آیا۔ انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کا وقت گزر جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے تمام ریٹرننگ آفیسرز کو نصف گھنٹے میں نتائج کا اعلان کرنے کا حکم تو دیا مگر جب حکم پر عمل درآمد ہوتا نظر نہ آیا تو رات کے اندھیرے میں الیکشن کمیشن بھی ’کل کی کل دیکھ لیں گے‘ کا نعرہ بلند کر کہیں خاموش ہو گیا۔

کیا اس بات میں کوئی شبہ ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ عوامی اعتماد کے بغیر نہیں چل سکتا؟ یہ عوامی اعتماد ہی ہوتا ہے جو کسی ادارے کی ساکھ کو جلا بخشتا ہے اور کوئی بھی ادارہ اپنی یہ ساکھ حسن کارکردگی، نظم، اور غیر جانبداری کی صورت ہی حاصل کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر حالیہ انتخابات میں جو الزام تحریک انصاف کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن نے اپنی پالیسیز سے تحریک انصاف کو ایسے الزام عائد کرنے کا جواز بھی مہیا کیا ہے۔

تحریک انصاف نے حالیہ انتخابات میں بغیر انتخابی نشان، اپنی قیادت کی حراست، دباؤ اور شدید پابندیوں کے ساتھ حصہ لیا۔ اس سب کے باوجود (پی ٹی آئی) کو عوامی سپورٹ حاصل ہوئی، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف آسانی کے ساتھ ایک سو سے زائد ارکان کی نمائندگی حاصل کرنے کی پوزیشن میں بھی نظر آئی۔ جمعہ کی رات انتخابی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے وقت بدلا، جذبات بدلے، اور منظر پس منظر میں ڈھل گیا۔ خیر یہ بھی کوئی نئی بات تو نہیں! ہم نے خود بھی دیکھا ہے اور پچھلوں سے سنا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو یہاں ایسے ہی رکھا جاتا ہے جیسے قصائی منگل کو جانور کی اوجڑی کو کنڈے میں الٹا لٹکا کر رکھتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر جانبداری کا الزام تازہ نہیں ہے بلکہ کافی عرصہ سے اس اندیشے کا ذکر (پی ٹی آئی) کی قیادت متعدد مقامات پر کرتی آئی ہے۔ اس سب کے باوجود الیکشن کمیشن، نگران حکومتوں کو بھی اس بات کا پابند نہ بنا سکا کہ وہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو گرفتار کرنے کے عمل سے باز رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ (پی ٹی آئی) کو اپنے ووٹرز تک آسانی سے رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی مساوی گراؤنڈ مہیا نہیں کیا گیا۔

گزشتہ رات انتخابی نتائج کا عمل معمول کے مطابق جاری تھا اور تحریک انصاف کی برتری شروع کے دور میں نظر آ رہی تھی، مگر اچانک انتخابی نتائج کا عمل ہی روک دیا گیا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری مشروط قرار دے دی گئی۔

تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کو مخصوص جماعت کا آلہ کار بننے کا الزام بھی دہرایا گیا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی نتائج کے عمل میں بندش کا سبب عوام کو بتانے یا کوئی معقول وجہ جو نتائج کے تعطل کی وجہ بنی ہو، کو عوام کے سامنے رکھنے کی کوئی کوشش نظر نہ آئی۔ یوں یہ الیکشن، الیکشن کمیشن کی کوتاہیوں کے سبب مفروضوں کی نظر ہو گیا بلکہ مکمل طور پر داغدار ہو گیا۔

جس ادارے کو ایک معقول تنخواہ محض اس بات کی ملتی ہو کہ وہ مقررہ وقت پر شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرائے گا، اگر اپنی ذمہ داری سے مکمل طور پر ناکام نظر آئے تو اس ادارے کی کارکردگی کا احتساب کون کرے گا؟ اور ایک ادارے کی لا ابالی کا جو اثر قومی انحطاط کی صورت سامنے آئے گا اس کا ازالہ کیا ہو گا؟

Facebook Comments HS