الیکشن اور سرکار کے نوکر


اٹھارہ گریڈ کی خاتون بہت محترم افسروں کے درمیان رش میں خود کو بچتے بچاتے کبھی پھنستی کبھی گزر تو گئی، لیکن محترم افسران کی خوشی سے تمتماتے چہرے جو مقامی زبان میں ایک دوسرے کو اعزاز دے رہے ہے کہ ماشاءاللہ اپ خوش نصیب کو ان صنف نازک کا لمس نصیب ہوا۔

یہ تاثرات ہے ان مرد افسران کے جنہوں نے الیکشن ڈیوٹی کے سامان کے جمع کرنے کے لیے رش میں انتظار کا مزہ لیا۔ اور اپنا وقت خوش باشی اور تفریح میں صبح صادق تک ڈی سی دفتر کے احاطے میں گزارا ۔

اب بات کرتے اس صنف نازک کی جنہوں نے اپنے نازک کندھوں پر قوم کا بوجھ ( جو تقریباً 40 کلو کے برابر تھا ) اٹھا کر کبھی تیسری منزل کبھی زمینی منزل اور کبھی دوسری عمارت میں چکر لگا لگا کر لے کے جا رہی تھیں۔ غیرت مند بھائی اس تمام تماشا سے خوش اپنی خوش گپیوں میں رات سے صبح صادق تک اپنی باری کا انتظار فر ما رہے تھے۔

یہاں وہ مسلمان مرد نہیں تھے، انسان مرد بھی نہیں صرف ایک مرد کا جسم اور نظر کے ساتھ وارد ہوئے تھے۔

عزت دار دفتر کولیگ، دوست، بھائی، باپ اور شوہر اپنی خاتون ساتھی (جو مجسٹریٹ کے اختیار رکھتی ہے ) کے لیے بس ان تماشوں کا سامنا کرنے پر مجبوری کی تصویر بنے سب کچھ دیکھ کر بھی ان دیکھا کر رہے تھے۔

ہماری سیاست کی میں مبارک باد پیش کروں گی۔ اس پاک وطن کی اس ناپاکی کی مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ مجسٹریٹ کے ان اختیارات کی مبارک باد پیش کرتی جس نے سرکار کا ملازم ہونے کی قیمت وصول کروائی ہے۔

اب آتے ہیں بہت محترم ڈی سی صاحب کی ٹیم کی طرف جو مائنس ٹمپریچر کے اپنے گرم دفتروں میں سگریٹ پر سگریٹ سلگاتے پیزا کھاتے اور دوستوں سے باتیں کرتے وقت گزار رہے تھے، جن کے انتظار میں باہر سرکاری ملازمین ( مجسٹریٹ کے برابر ) دکھے کھا رہے سردی میں بلک رہے تھے۔ اپنی نوکری بچاتے بچاتے آج اس لمحے اپنی جان، انا اور اپنی عزت سب داؤ پر لگا کر گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔

کون مداوا کرے گا، ممکن یہ میری اس جرات جو اس تحریر کی صورت میں منظر عام پر آئے گی، تو کچھ بھی ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آج ایک اٹھارہ گریڈ سرکاری نوکر ( مجسٹریٹ) کی عزت گیارہ گریڈ کے فرد پر منحصر ہے۔

معذرت کے ساتھ آج سرکار کے غریب اور مجبور ملازمین نے اپنی نوکری، انا وقت اور عزت سب داؤ پر لگا کر اپنی ذمہ داری نبھائی۔ اب بڑی سرکار، سیاست دان اور پاک فوج اپنا کردار کس حد تک نبھاتے ہے؟ سوال یہی ہے۔ شکریہ


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments