مقامی مطابقت، قومی ہم آہنگی: نصاب سازی کی نئی جہت

تعلیم، انسان کی شخصیت سازی کا بنیادی ذریعہ ہے اور نصاب اس تعلیمی عمل کا دل و دماغ ہے۔ وقت کے ساتھ دنیا میں علم کی نوعیت، طلب اور طریقۂ ترسیل بدل رہا ہے، اور ان تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ایک قومی، تعلیمی اور اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔ بالخصوص جب ہم بات کرتے ہیں پاکستان جیسے ملک کی جو مختلف زبانوں، ثقافتوں اور خطوں پر مشتمل ہے، تو نصاب سازی کے ہر مرحلے پر ہمیں اس

Read more

برابری کی جنگ اور ریاستی غرور

یہ کیسا نظام ہے جہاں حق مانگنے والے کو مجرم سمجھا جاتا ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں مطالبات سننے کے بجائے، سوال اٹھانے والے کو خاموش کرا دیا جاتا ہے؟ آج ہم ایک ایسے المیے کے شاہد ہیں جو صرف ایک صوبے یا چند افراد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ریاست کے طرزِ عمل اور ترجیحات کا عکس ہے۔ بلوچستان میں سرکاری ملازمین کی جانب سے جائز مطالبات پر دیے جانے والے ردعمل نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا

Read more

لمحۂ موجود

لمحۂ موجود ”سکون وہی ہے جو ابھی ہے، جو یہیں ہے“ کافی عرصے سے میرے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرتا رہا۔ کہ ہم لمحۂ موجود کو اخر کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟ کیوں ہم ہمیشہ ماضی کی پچھتاووں میں الجھے یا مستقبل کے اندیشوں میں کھوئے رہتے ہیں؟ میں نے کئی بار کوشش کی کہ اس موضوع پر لکھوں مگر ہمیشہ یہ سوچ کر رک جاتی تھی کہ اس پر ایسے کیسے لکھا جائے کہ بات سنجیدہ بھی

Read more

نصاب کی نئی کروٹ: اصلاحات یا افسانہ؟

پاکستان کا نظام تعلیم ہمیشہ سے تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے۔ ہر دور میں نئی پالیسیاں، نئے ماڈل اور مختلف تجربات سامنے آتے رہے ہیں، مگر سوال ہمیشہ یہی رہا کہ یہ سب کچھ طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے کیا جا رہا ہے یا پھر صرف کاغذی تبدیلیوں کا شور برپا کیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں نیشنل کریکولم کونسل کی نگرانی میں جو نصابی اصلاحات سامنے آئی ہیں، ان میں کور اور کور پلس کی تقسیم

Read more

امریتا پریتم کی رسیدی ٹکٹ: چھوٹا کاغذ، بڑی کہانی

  ایک لکھاری، شاعر، ایک اچھا بیٹا، پیار کرنے والا باپ اور انسانیت کی معراج میرا دوست، جسے میں عورتوں کے درد کا ہم نوا کہتی ہوں۔ وہ صرف عورتوں کے حق میں بولتا نہیں، ان کے جذبات، خواب، بغاوت، اور خاموشی کو سمجھتا بھی ہے۔ اس کی باتوں میں کبھی نرمی، کبھی فکر اور کبھی جرات جھلکتی ہے۔ ایک دن اُس نے مجھ سے کہا، ”تم نے ابھی تک ’رسیدی ٹکٹ‘ نہیں پڑھی؟ تمہیں یہ کتاب بہت پہلے پڑھ

Read more

خاموش استحصال

انسان اپنی فطرت میں سماجی مخلوق ہے۔ وہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔ وہ رشتے بناتا ہے، دوستیوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے، جذبات بانٹتا ہے، باتیں کرتا ہے، اعتماد کرتا ہے، اور اس امید پر تعلقات نبھاتا ہے کہ یہ سب کچھ اسی خلوص سے لوٹایا جائے گا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوش فہمی ایک تلخ حقیقت میں بدلنے لگی ہے۔ آج کے انسان نے تعلق کو ایک ’وسیلہ‘ بنا دیا ہے۔ اب وہ شخص عزیز نہیں ہوتا

Read more

باپ کی ممتا

ہمارے معاشرے میں باپ کو ہمیشہ ایک مضبوط، سنجیدہ اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی ممتا کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی طور پر ممتا کا لفظ زیادہ تر ماں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ باپ کی محبت، قربانی اور احساسات کو ”ذمہ داری“ کے نام پر خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ باپ کی ممتا بھی کسی ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی، بس

Read more

الیکشن اور سرکار کے نوکر

اٹھارہ گریڈ کی خاتون بہت محترم افسروں کے درمیان رش میں خود کو بچتے بچاتے کبھی پھنستی کبھی گزر تو گئی، لیکن محترم افسران کی خوشی سے تمتماتے چہرے جو مقامی زبان میں ایک دوسرے کو اعزاز دے رہے ہے کہ ماشاءاللہ اپ خوش نصیب کو ان صنف نازک کا لمس نصیب ہوا۔ یہ تاثرات ہے ان مرد افسران کے جنہوں نے الیکشن ڈیوٹی کے سامان کے جمع کرنے کے لیے رش میں انتظار کا مزہ لیا۔ اور اپنا وقت

Read more

ہماری نئی نسل اور تعلیمی نظام

کسی بھی قوم کی ترقی میں نئی نسل مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ قوم کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔ اگر کسی قوم کی نئی نسل تعلیم یافتہ، ذمہ دار اور فرض شناس ہیں تو یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس قوم کا مستقبل محفوظ ہے۔ اور اگر اس کے بر عکس کسی ملک و قوم کی نئی نسل غیر ذمہ دار ہیں تو اس کا مستقبل تاریک ہے۔ پاکستان کو عظیم بنانے کے لئے

Read more