کیا بلاول کو وزیراعظم بنایا جائے گا؟


ملک میں الیکشن 8 فروری کو ہو گئے، لوگوں کے کافی خدشات تھے کہ الیکشن 8 فروری 2024 کو نہیں ہو گے مگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی یقین دہانی کے بعد لوگوں کو بھی یقین ہونے لگا تھا کہ اب الیکشن ہو جائیں گے۔ اس یقیں دہانی کے بعد نگران حکومت کے وزرا نے بھی استعفیٰ دے دیا اور الیکشن کا ورک کرنا شروع کر دیا۔

بہرحال الیکشن کا مرحلہ خیریت سے گزر گیا، اکا دکا واقعات ملک میں ضرور ہوئے ہیں، لیکن جس طرح ملک کی صورتحال ہے اس مین چھوٹے موٹے واقعے ہو جاتے ہیں، مگر اوورآل ملک میں الیکشن پرامن ماحول میں ہوئے ہیں جس کا کریڈٹ ملک کی لا انفورسمنٹ ایجنسیز کو ضرور ملنا چاہیے۔

الیکشن کے بعد اہم مرحلہ حکومت بنانے کا ہے۔ جتنے آزاد جرنلسٹ اور کالم نگار تھے سب نے لکھا اور کہا تھا کہ الیکشن میں اسپلٹ مینڈیٹ ملے گا اور وہ ہی ہوا۔ کسی جماعت کو سادی اکثریت بھی نہیں ملی۔ لیکن قانون اور روایت کا تقاضا یہ ہی ہے جو بھی اکثریت والی پارٹی ہے اس کو حکومت بنانے کی دعوت دینی چاہیے۔ اگر دیکھا جائیے تو اکثریت والی پارٹی تحریک انصاف ہے اور ان کی سب سے زیادہ سیٹیں بھی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے اکثریت ہونے کے باوجود اس کی قبولیت نہیں۔

نواز لیگ کے لیے کہا جا رہا تھا وہ سادہ اکثریت حاصل کر لے گی اور بہت سارے پول بھی کرائے گئے اور یہ ایک ماحول بھی بنانے کی کوشش کی گئی کہ نواز شریف چوتھی مرتبٰہ وزیراعظم بننے جا رہیں ہیں۔ اس حوالے سے رانا ثنا اللہ نے یہ تک کہ دیا کہ ساڈی گل ہو گئی ہے۔ یہ بڑی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی کیونکہ پنجاب میں جس کی حکومت آ رہی ہوتی ہے لوگ اسی کو ووٹ دیتے ہیں مگر اس دفعہ پنجاب کے نوجوانوں نے اس روایت کو توڑ دیا اور انہوں پی ٹی آئی کو بڑی تعداد میں ووٹ دیا۔ اس الیکشن پر بھی بہت سارے سوال اٹھ رہے ہیں لیکن اس پر کسی کالم میں لکھیں گے۔ آج تو حکومت بنانے میں جو مشکلات سامنے ہیں اس پر لکھنا ہے۔

نواز شریف سینئر ترین لیڈر ہے اس وقت مگر اس کے پاس اتحادیوں کو ساتھ چلانے کی صلاحیت موجود نہیں۔ اس لیے اس کی خواہش ہے پاکستان پیپلز پارٹی کو موقع دیا جائے کہ وہ حکومت بنائے۔ اگر تحریک انصاف والے آ گئے تو یہ نواز شریف کے لیے مسائل کھڑے کر دیں گے اور پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی آپس میں مل گئے تو نواز لیگ کو پنجاب کی حکومت بھی نہ مل سکے گی اور وہاں بھی پی ٹی آئی نے کافی سیٹیں لیں ہے۔ اس لیے نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی حکومت سوٹ کرتی ہے اس لیے انہوں نے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے بھی بڑے مسائل ہیں، ایک تو چیرمین بلاول بھٹو یہ کہ چکے ہیں کہ وہ نواز لیگ کے ساتھ حکومت کا حصا نہیں بنے گے اور دوسری بات یہ کہ پارٹی کے اندر سے بھی یہ مطالبہ آ رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو نواز لیگ کہ ساتھ نہیں دینا چاہیے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ دھوکہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کہ لیے ایم کیو ایم بھی سر کا درد ہے۔ ایم کیو ایم کے لیڈر فاروق ستار نے ڈرتے ڈرتے یہ دعوا کیا تھا کہ وہ 14 سیٹیں لیں گے لیکن ان کو 17 سیٹیں دی گئی ہیں۔

جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کا خیال ہے ایم کیو ایم کی سیٹیں مشکوک ہیں۔ ایم کیو ایم ہمیشہ پیپلز پارٹی کو بلیک میل کرتی ہے۔ حکومت سے نکلنے کی روزانہ دھمکی دیتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایم کیو ایم کو بنایا ہی اس مقصد کے لیے تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کی ہر حکومت کے لیے مسائل کھڑے کرے جو وہ آج تک کرتی آ رہی ہی۔ جبکہ وہ اور کسی حکومت کو بلیک میل نہیں کرتی۔ عمران خان تو ان سے ملتا بھی نہیں تھا مگر ان کو کبھی بلیک میل نہیں کیا۔

ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے آصف علی زرداری ملکی مفاد میں کوئی بھی فیصلہ کر سکتے مگر اب اطلاعات یہ آ رہی ہیں آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو میسیج دیا گیا ہے آپ نواز شریف سے مل کر حکومت بنائیں اور پی ٹی آئی کے آزاد ممبران کو بھول جائیں۔ اب اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنایا جائے گا اور نواز لیگ اس کو سپورٹ کرے گی۔

یہ بھی امکان ہے کہ نواز شریف کو ملک کا صدر بنایا جائے اور باقی حکومت پیپلز پارٹی کو ہی دی جائے۔ پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر حکومت بنائے مگر ان کی اس خواہش کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

بہرحال جو بھی حکومت بنائے اس کے لیے بہت بڑے چیلنجز ہیں، نئی حکومت آتے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور ایڈ کے لیے معاہدہ ہو گا جس میں سخت شرائط ہوگی اور آنے والی حکومت کو بہت بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہم امید کرتے ہیں فیصلے ملک کے عظیم تر مفاد میں کیے جائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments