منڈی بولی اور آزاد سیاست دان


پاکستان کو آزاد ہوئے سات دہائیوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ اس عرصہ میں ہم نے جو چند ایک اچھے کام انگریزوں سے سیکھے تھے وہ بھی بھلا دیے ہیں۔ اس ملک میں سرکاری ملازم جس کام کے لیے بھرتی ہوتا ہے۔ تنخواہ لے کر وہ اس کام کو ناکام کرنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے کراچی کی بندرگاہ کی کارگو ہینڈلنگ دوبئی پورٹ کے حوالے کر دی۔ ہم کیسی قوم ہیں جو اس بندرگاہ کو جس کو انگریزوں نے بنایا جو ساٹھ کی دہائی میں دنیا کی چند ایک بہترین بندرگاہوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس بندرگاہ پر دنیا کی تمام سہولتیں میسر ہیں۔ ہم اس کا انتظام نہیں سنبھال سکتے۔

یعنی گزشتہ ستر برس سے زیادہ عرصہ میں ہم جھک مارتے رہے اور گزشتہ چند دہائیوں سے ہماری مدد سے بننے والے متحدہ عرب امارت کے بندرگاہوں کا انتظام سنبھالنے والے ہمارے ملک کے بندرگاہوں کا انتظام سنبھالیں گے۔ اس سے اربوں کمائیں گے اور اس میں سے پاکستان کو کمیشن دیں گے۔ یہ بندرگاہ پاکستان اور افغانستان کی تجارت کا اس وقت واحد ذریعہ ہے۔

کمال کی بات یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ بھی پاکستان میں بنا ہوا ہے جس کے ہزاروں ملازمین ہیں جس پر پاکستان کی حکومت اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس پاکستان بحریہ بھی ہے جس پر بھی اربوں روپے ہم خرچ کرتے ہیں۔ لیکن ان سب کے ہوتے ہوئے ہم اپنے بندرگاہوں کے انتظامات تک دوسروں کو دینے پر آ گئے ہیں۔ اب سنا ہے پی آئی اے دیں گے، اس سے پہلے پی ٹی سی ایل دے چکے ہیں، یعنی ملازمین کی فوج رکھ کر ان اداروں کو تباہ کرو اور پھر اپنے حصہ کے کچھ پیسے لے کر انہیں دوسروں کو فروخت کردو۔

فروخت کا یہ عمل یہاں سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں قانون سازی ہوتی ہے۔ گزشتہ جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں کچھ دلالوں نے کچھ سرمایہ داروں کے لیے ان قانون سازوں کو خریدا ہے۔ الیکشن شروع ہوتے ہیں لوگ ووٹ خریدنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں بھی ایسا ہر جگہ ہوا ہے۔ کچھ اس میں کامیاب ہوئے کچھ ناکام ہوئے مگر لوگوں نے اپنے ووٹ فروخت کیے ہیں۔ چترال جیسے علاقے میں ایک صاحب سرعام پیسے دے کر ووٹ خریدتے رہے۔

اس ملک کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے سینٹ میں جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ کس سے پوشیدہ ہے۔ جہاں عوام کے نمائندوں کو کروڑوں میں خریدا جاتا ہے۔ ایسے درجنوں سینٹرز ہیں جن کی نہ کوئی سیاسی حیثیت ہے اور نہ وابستگی مگر وہ ہر سینٹ کے الیکشن میں کامیاب ہو کر ممبر بن جاتے ہیں یہاں تک بھی ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے کئی کئی افراد بیک وقت پیسوں سے ووٹ خرید کر سینٹ کے ممبر بنے اس کام میں ہر جماعت نے حصہ لیا ہے۔ پھر پاکستان میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو واضح اکثریت کسی کو نہیں دی جاتی اور اکثریت لینے کے لیے سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے فائنانسرز کی مدد سے ممبروں کو خریدنا شروع کر دیتے ہیں۔

چھانگا مانگا تو اب ایک ضرب المثل بن گیا ہے۔ اب کے بار صورتحال زیادہ گمبھیر ہے اس لیے کہ حکومت بنانے کی صلاحیت کسی کے پاس نہیں ہے۔ اور جو جیتے ہیں وہ قانونی طور پر آزاد ہیں۔ اگرچہ یہ سب امیدوار پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے جیتے ہیں لیکن چونکہ تحریک انصاف کو انتخابی نشان نہ مل سکا اس لیے یہ سب آزاد حیثیت میں انتخابات میں الگ الگ انتخابی نشان سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اب ان کی بولی لگے گی اور سرعام لگی گی۔

گزشتہ انتخابات کے بعد بھی ایک صاحب کا جہاز ان لوگوں کو ملک کے مختلف حصوں سے بھر بھر کر لاتا رہا ان کے گلے میں ایک پارٹی کا پٹہ پہنایا جاتا تھا۔ اس غلامی کے لیے وہ پیسے لیتے رہے مگر مجال ہے کہ اس کو کسی نے برا کہا ہو۔ پاکستان کا میڈیا اس کو براہ راست نشر کرتا تھا۔ اور ان لوگوں کو ذرا برابر شرم محسوس نہیں ہوتی تھی کہ ان کو عوام نے اس لیے منتخب نہیں کیا تھا کہ وہ اپنے ضمیر کا سودا کریں اور بک جائیں۔ اب کے بار پوری ایک جماعت کے لوگ موجود ہیں جو اس منڈی میں بکنے آئیں گے۔

یہ لوگ اپنی اپنی قیمت وصول کر لیں گے اور اس کے بعد جنہوں نے ان کی قیمت دی ہوگی وہ یہ سب پیسہ لاکھوں گنا سود سمیت پاکستان سے وصول کریں گے۔ اس ملک میں ادارے بھی ہیں۔ عدالتیں بھی ہیں مگر سب منڈی میں ہونے والے ضمیروں کے کاروبار کا نظارہ کریں گے اور جو زیادہ مہنگا بکا اس کا چرچا کریں گے اور دل ہی دل میں خواہش کریں گے کہ کاش ان کی جگہ وہ ہوتے۔

جب یہ سب خرید و فروخت کا عمل مکمل ہو جائے گا تو اس کے بعد ہم ان سے توقع کریں گے کہ وہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر لے کر جائیں گے۔ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ ملک کی بہتری کے لیے قانون سازی کریں گے۔ ملک میں تعلیم اور صحت اور دیگر سہولیات کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔ ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح غالباً دو سو برس سے استعمال میں ہے لیکن پہلے یہ ہوتا تھا کہ کسی دوسرے جماعت کے ممبر کو خرید کر حکومت بنائی جاتی تھی یا گرائی جاتی تھی۔ عمران خان کی حکومت لوگوں کو خرید کر بنائی گئی اور پھر دوبارہ لوگوں کو خرید کر گرائی گئی۔ اس میں کافی مشکلات بھی تھیں۔ اس لیے خریدنے والوں نے اب کے بار پہلے ہی سے مکمل اور قانونی انتظام کر دیا ہے کہ قانون راستے میں نہ آئے اور وہ آسانی کے ساتھ اپنے لیے مطلوبہ گھوڑے خرید سکیں۔

پنجاب اسمبلی، اور قومی اسمبلی میں اب کے بار سب سے بڑی منڈی لگے گی۔ یہ ایسی منڈی ہے جہاں خریدار زیادہ نہیں ہیں دو ہی گروہوں میں مقابلہ ہو گا۔ دونوں کے لیے سرمایہ کاری کرنے والے پہلے سے متحرک ہوچکے ہیں۔ پہلے اس کام میں قاضی رکاوٹ بن جاتا تھا اب کے بار قاضی کو بیچ میں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ضمیروں کے اس سودے میں کئی ادارے اور لوگ سہولت کاری کریں گے۔ اپنی اصل چھوڑنے والوں کے ساتھ اگرچہ ہمیشہ سے ہی مستقبل میں بہت برا سلوک ہوتا آیا ہے لیکن اس الیکشن میں تو کمال ہی ہو گیا ہے۔ ایک دو کو چھوڑ کر تمام لوٹے الیکشن میں تیسری پوزیشن بھی نہ لے سکے۔ خیبر پختونخوا کے دو سابق وزرائے اعلیٰ اپنی نشستیں بری طرح ہار گئے ہیں۔ ان کے ساتھ جانے والے تمام لوگ الیکشن ہار گئے ہیں اس کا مطلب ہے کہ لوٹے یا بکنے والے کی اوقات بعد میں زیرو ہوجاتی ہے لیکن ان لوگوں کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

یہ ان کا کاروبار ہے۔ ان کا دین ایمان پیسہ ہے، یہ حکومت میں رہ کر بھی پیسہ ہی بناتے ہیں اور باہر بیٹھ کر بھی پیسہ بناتے ہیں۔ یہ جو کرپشن کرتے ہیں ان کا حساب لینا والا اس ملک میں کوئی نہیں ہے۔ پشاور میں بی آر ٹی اور صوبہ میں بلین ٹری سونامی یا گزشتہ حکومت میں صحت کے محکمے میں جو کرپشن ہوئی ہے اسے ثابت کرنے کے لیے زیادہ تگ و دو کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ بی آرٹی جو سرکاری سڑک پر دونوں جانب جنگلے لگا کر بنائی گئی ہے اس پر خرچے کا تخمینہ کسی بھی عام دکاندار سے لگوائیں تو وہ آپ کو بتا دے گا کہ اس پر جو خرچہ آیا ہے وہ اتنا ہے اور حکومت نے اپنے فرنٹ مینوں کو جو پیسے دیے اس کا موازنہ اس پیسے سے کر لیں، جتنے درخت کاغذوں میں دکھائے گئے ہیں ان کا ایک فیصد بھی اگر زمین پر مل جائے تو ان کو بخش دیں، ہسپتالوں میں جو پیسے کاغذوں میں خرچ کیے گئے اور جن چیزوں کے لیے خرچ کیے گئے ان کو جاکر دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔

اسی طرح ہر شعبہ میں یہ حال ہے۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ الیکشن میں اور حکومت سازی میں اربوں کی سرمایہ کاری ہوتی ہے اور پھر سرمایہ کار ان اربوں کے بدلے کھربوں وصول کرتے ہیں۔ اب کے بار جو الیکشن ہوئے ہیں اور جو صورتحال ہے تو اس پر خرچہ بہت زیادہ ہو گا لازمی بات ہے کہ پھر اس کے بدلے لوٹ مار بھی اسی حساب سے ہوگی۔ جب یہ صورتحال ہوگی تو اس ملک میں ترقی تو درکنار جینا بھی مشکل ہو جائے گا۔ اس ملک کو مافیاز چلا رہے ہیں۔

یہ جو بلیک کا پیسہ ہے اگر اس کو قانون کے دائرے میں نہ لایا گیا تو یہ پیسہ اس ملک کے تمام اداروں کو خرید کر ان کی مدد سے پاکستان کو بینک کرپٹ کردے گا۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اس ملک کا باشعور طبقہ اس حوالے سے کسی تشویش کا شکار نہیں ہے۔ جہاں معاشرے کا باشعور طبقہ آواز بلند نہیں کرتا وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ جو منڈی لگی ہے اس میں بکنے کے لیے جو آزاد سیاست دان خود کو پیش کریں گے وہ یہ ضرور سوچیں کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ ان لاکھوں لوگوں کی امیدیں اور اعتماد کو بھی بیچنے جا رہے ہیں جنہوں نے ان پر اعتماد کیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments