الیکشن 2024 اور شہروں کے لئے پارٹیوں کی انتخابی ترجیحات


تین سال پہلے برادر اسلامی ملک ایران جانے کا موقع ملا۔ بقر عید کے آٹھویں دن یعنی اٹھارہ ذوالحجہ کو پوری دنیا میں فقہ جعفریہ سے نسبت رکھنے والے لوگ ایک اور خوشی بھی مناتے ہیں جسے ’عید غدیر‘ کہا جاتا ہے۔ اپنے پہلے اور آخری حج سے واپسی پر خاتم النبیین محمد ﷺ نے مقام خم پر ایک خطبہ دیا جس میں اپنے چچازاد اور داماد امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہ دن اہل تشیع کے عقائد میں بڑا مبارک اور اہم ہے اور بے حد شوق، جوش اور محبت سے منایا جاتا ہے۔ اچھا لباس پہننا، دعوت طعام، نیاز خیرات اس دن کی خاصیت ہیں۔ گلی کوچے بھی سجائے جاتے ہیں۔

ایران چونکہ فقہ جعفریہ کا مرکز ہے اس لئے اس دن کے جشن کے شواہد بھی بکثرت دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ گزر گاہوں میں راہ چلتوں کو پکڑ پکڑ کر روکا جاتا ہے اور شیرینی تقسیم کی جاتی ہے۔ محلے جھنڈیوں سے با رونق رہتے ہیں۔ ہم مشہد میں تھے۔ روزانہ کئی مقامات سے گزرنے کا اتفاق ہوتا۔ لیکن جو بات حیران کن لگتی کہ مقررہ دن سے دو تین پہلے لگنے والی جھنڈیوں میں سے کوئی بھی زمین پر رلتی نظر نہ آتی۔ نہ پھٹی یا لٹکی ملتی۔ نہ کسی کھمبے میں الجھی ہوتی۔

ایک مخصوص بارہ سے چودہ فٹ کی اونچائی پر کچھ جگہوں پر انھیں لگایا گیا ہوتا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ جھنڈیاں سادہ اور ٹھوس رنگوں والی ہیں۔ جن پر کچھ لکھا ہوا نہیں ہوتا۔ اور میٹیریل کپڑا یا ایسا ہوتا ہے جو جلد پھٹتا نہیں۔ علاوہ ازیں لٹکانے والے ’ہک‘ بھی ’فکسڈ‘ ہوتے ہیں۔ دیواروں پر اشتہارات نہیں ہوتے لیکن خطاطی کے بہترین نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تقریبات ختم ہونے پر یہ سب جھنڈیاں اور آرائشی سامان اتار کر محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اگلی بار پھر وہی استعمال ہوتا ہے تاوقتیکہ چیزوں کی عمر پوری نہیں ہو جاتی۔

گرین لونگ، سسٹین ایبل یعنی پائیدار شہری ماحول، انسانی ماحول کی خوبصورتی، بصری آلودگی کے خلاف اقدامات، وسائل کا سمجھداری سے بروئے کار لانا اور ایسے سبھی نظریات کی ترویج ہر تقریب میں نظر آتی ہے۔ حتی کہ مذہبی تقریبات بھی اس کی عکاس ہیں۔ اور ’گڈ گورننس‘ کی تبلیغ ہر پہلو سے ہو رہی ہوتی ہے۔

بات طویل ہو گئی۔ لیکن اس طرح کے تقابلی تجزیے بالعموم ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن موجودہ الیکشن کے دوران ہر وقت بنتے ادھڑتے رہے۔ کیونکہ ایسی ’ایکٹیویٹیز‘ کسی بھی پارٹی کے منشور، سوچ، نظریات اور ترجیحات کی عملی تصویر ہوتی ہیں۔ اور اس دفعہ تو تقریباً سبھی مرکزی پارٹیوں کا ایک ایجنڈا ’اربن پلاننگ یا شہری منصوبہ بندی‘ بھی ہے۔ ہماری پارٹیاں اس ایجنڈے کے حوالے سے اپنی سنجیدگی 2024 کے عام انتخابات کی انتخابی مہمات کس طرح ظاہر کرتی رہیں۔ کچھ واقعات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

بورے والا سے لے کر اوکاڑہ تک، سیالکوٹ سے لے کر گجرات تک، کوئی شہری یا دیہی علاقہ ایسا نہیں تھا جہاں جدھر آپ دیکھیں، وہاں پارٹیوں کے اشتہاری پمفلٹ، بروشرز، پینا فلیکس، بل بورڈز اور ہورڈنگز زبردستی آپ کی آنکھوں میں نہ گھسیں۔ ہمارے شہر جن کی انتظامیہ پہلے ہی ٹرانسفارمرز، بجلی، ٹیلی فون کے کھمبے، ہر طرف جھولتی تاروں، بڑھے چھجوں، نکلے ریمپس، دیواروں پر چسپاں رنگ برنگی اخلاق باختہ تصویروں، فرقہ وارانہ لکھی تحریروں، حتی کہ رہائشی کالونیوں اور گھروں کی چھتوں پر ٹنگے جناتی بورڈز کی طرف سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھتی ہے۔

اور ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں پہلے ہی حس جمال، توازن، ترتیب، ہم آہنگی کا کافی فقدان ہے۔ وہاں انتخابات کے بخار اس گند کو مزید چار چاند لگاتے ہیں۔ کوئی ہی کونہ کھدرا، گلی محلہ اس سے بچا ہو۔ چھوٹی بستیوں میں تو یہ بے ضابطگی عروج پر ہوتی ہے۔ آبادیوں کو بہتر بنانے کی بجائے ان میں بصری آلودگی اپنی انتہا کو ہوتی ہے۔

سونے پہ سہاگہ یہ کہ سارا اشتہاری مواد جو جگہ جگہ لٹکا یا آویزاں ہوتا ہے۔ اس کا میٹیریل کاغذ یا ’نان ڈی کمپوز ایبل‘ ہوتا ہے اور جنہیں بعد از الیکشن اتارنے کا تردد نہ پارٹیاں کرتی ہیں نہ ادارے۔ وہ بارش، ہوا، دھوپ، آندھی سے پھٹ پھٹ کر ہر گزرنے والے کے پاؤں تلے مسلا جاتا ہے۔ کبھی موٹر سائیکلوں، سائیکلوں، ریڑھیوں، کاروں، رکشوں کے پہیوں میں الجھتا ہے۔ بجلی کی تاروں میں مزید پھنستا ہے۔ گٹروں، سیوریج کی نالیوں میں گرتا ہے اور اگر مٹی کے ڈھیر میں گم ہو بھی جائے تو آدھا کبھی بھی زمین کا حصہ نہیں بنتا۔ مطلب ’گرین لونگ‘ ، ’گو گرین‘ ، ’زیرو ویسٹ‘ ، ’تھری آرز‘ ، ڈی کمپوزایبل میٹیریل کا فروغ ’، ‘ ماحول کا تحفظ ’اور اس جیسے سبھی تصورات کو سیدھا سیدھا گڈ بائے کہا جاتا ہے۔

پھر جہاں اور جب چاہیں سڑکوں پر جلسوں کے انعقاد اور اسپیکر کے شور نے الگ شہری آبادیوں کا ’امیج‘ گھٹن زدہ کیا ہوا تھا۔ ٹریفک کے بہاؤ میں تنگی اور ہجوم بنے رہنا ایک عام سی بات تھی۔ اور شور کی آلودگی کے حوالے سے سبھی اقتدار کی جنگ لڑتی پارٹیوں کے شعور کی عملی مثال بھی ہر وقت سامنے رہی۔

مختصراً یہ کہ ’اربن پلاننگ یا شہری منصوبہ بندی‘ کوئی ایسا ایجنڈا نہیں ہے جس کا مظاہرہ یا جس کی ترویج کرسی ملنے کے بعد ہونی ہے۔ یہ تو وہ ’فیلڈ‘ ہے جس کی تصویر ہر پارٹی کے عمل اور سوچ سے ہر دم جھلکتی ہے۔ اور ماضی کی طرح اس بار بھی اربن پلاننگ کا یہ ’جارگن‘ ایک دوسرے کی نقالی میں رکھا محسوس ہوتا ہے جیسے ’روٹی کپڑا اور مکان‘ کو ابھی تک الفاظ بدل بدل کر استعمال کیا جاتا ہے۔ ورنہ انتخابی مہمات اس حساسیت کا ایک فی صد بھی ’ظاہر‘ نہیں کر سکیں جو اربن پلاننگ کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS