چیونٹی اور جھینگر
، اس کہانی میں چیونٹی جھینگر سے کہتی ہے مورکھ کچھ آگے آنے والے سرد دنوں کا سوچ۔ یہ موسم یہ بہار، یہ حسن سدا نہیں رہنے والا۔ وہ اپنی مثال دیتی کہ کیسے وہ مسلسل اپنے اور اپنی قوم کے مستقبل کے لیے خوراک ذخیرہ کر رہی ہے۔ کیسے ہمہ وقت کام میں مصروف رہتی ہے۔ کیا کسی نے کبھی کسی چیونٹی کو لمحہ بھر سے زیادہ رکا ہوا دیکھا ہے سوائے اس کے کہ وہ مر چکی ہو؟ اور اس صورت میں بھی وہ باقیوں کے سر پر مسلسل سفر میں ہوتی ہے۔ نہ وہ ٹھہرتی ہے۔ نہ اپنے مقصد سے ادھر ادھر ہوتی ہے۔
اب رہا جھینگر یا گھاس کا ٹڈا یعنی ایک لا ابالی گراس ہوپر۔ وہ عیش اور آرام کو مقصد حیات سمجھتا ہے۔ اس کے لیے اس مختصر سی زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنے کا نام ہی جینا ہے۔ صبح کو وہ اپنے آرام سے اٹھتا ہے۔ چمکیلے دن کی روشنی جذب کرتا ہے۔ گاتا بجاتا ہے۔ کھلے دل سے فطرت کی خوبصورتی کو سراہتا ہے۔ آس پاس پھیلی ہوئی بے فکری، خوشی اور خوراک ابھی بہت کافی ہے۔ دماغی طور پر وہ مستقبل سے مکمل لاتعلق ہے۔
پھر جیسا کہ سب جانتے ہیں گراس ہوپر سخت اور سرد حالات میں اپنے کیے کا پھل پاتا ہے۔ یا یوں کہ وہ کچھ نہ کرنے پر آس پاس اب کوئی پھل نہیں پاتا۔ روتا بسورتا دل میں پچھتاتا کہ کاش جانتا نہ اس رہ گزر کو وہ۔ مگر مجبوری اسے منت کش دربان کر دیتی ہے۔ جہاں چیونٹیاں اسے کھانے کو کچھ نہیں دیتیں جو اصولاً اسے سزاوار ہے۔
ایک نئی کتاب میں ایک نئے اور امپروو ورژن میں اسے گانے سنانے کے عوض عارضی پناہ گاہ اور کچھ خوراک مل جاتی ہے اور چیونٹی کالونی کا اینٹرٹینمنٹ منسٹر سردیوں میں اپنی بستی کے لیے ڈنر کے ساتھ شو کا انتظام کر کے کافی خوش ہے۔ یہاں کہانی کا سبق کچھ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یعنی ”بی یور سیلف“ خواہ اس سے تمہاری پرواز میں کچھ کوتاہی آ جائے یا بھیک ہی مانگنی پڑے۔ گراس ہوپر نے اس کو آرٹ کی حوصلہ افزائی سمجھ لیا۔ یونہی گاتے بجاتے سب مل جل کر ہنسی خوشی رہنے لگے۔ شاید ابھی ان کے علاقے میں بنکوں اور مانیٹری فنڈوں کا چمتکار متعارف نہیں ہوا تھا۔
ایسوپ کی اصل اور غیر متروک شدہ کہانی کا مقصد تو فطرت کے اٹل عوامل کے مقابل انسانی سوچ کے دو متضاد رویوں کو بیان کرنا تھا۔ ہم سب ہی ری۔ ایکٹو اور پرو ایکٹو اپروچ سے واقف ہیں۔ ایسا نہیں کہ انسان صرف ایک ہی طرح کی سوچ سے پوری زندگی گزار سکتا ہے۔ پرو ایکٹو طریقے میں ہم حالات کا جائزہ لے کر ممکنہ مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے حل نکالتے ہیں، خود حفاظتی کا انتظام کرتے ہیں۔ جبکہ ری۔ ایکٹو طریقے میں ہم غیر متوقع طور پر سامنے آ جانے والے حالات کو موقع بہ موقع نمٹاتے ہیں۔ حالانکہ آج کل کے پیش بین ماہرین اور سافٹ ویئرز کی موجودگی میں تو اچانک بارش سے لے کر ایلین اٹیک کسی شے کو بھی غیر متوقع نہیں کہ سکتے۔ لیکن وہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
ہمارے دیس میں فرد انفرادی اور خاندانی سطح (اصل میں دونو ایک ہیں ) پر طوعا و کرہا ایک پرو ایکٹو سوچ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بیٹی کی شادی کی پیٹیاں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی خرید لی جاتی ہے اور ہر کٹوائی یا بونس پر اس میں بھرائی شروع ہو جاتی ہے۔ (جو بدقسمتی سے جلد ہی اولڈ فیشن اور آؤٹ ڈیٹڈ ہو جاتی ہے۔ ) پھر دوسرے متوقع اخراجات کی کمیٹیاں ہوتی ہیں جو اب سیونگ اکاؤنٹس ہوتے ہیں۔ خاندان کے سربراہان کو گھر کے پیدائش سے اموات تک کے تمام ایونٹس کے اہم اخراجات ازبر ہوتے ہیں اور وہ ان سے نپٹنے کی منصوبہ بندی کر رکھتے ہیں تاہم اگر زندگی میں کوئی غیر معمولی مشکل یا مسئلہ آ پڑے جس کا حل اس وقت سوچنا پڑ جائے۔ ویل۔ اس کا حل لاکر میں پڑے زیورات کے ذمہ ہے۔
عجیب بات ہے کہ گروہ جس کی اکثریت مڈل سوشل کلاس پر مشتمل ہے۔ جس کا خمیر خواہشوں کو مینیج کرنے (گلا گھونٹنے ) اور موجود وسائل کی ماہانہ ماہرانہ، مدبرانہ اور (تقریبا) منصفانہ تقسیم سے اٹھتا ہے جب ملکی انتظام کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو انتخابات میں دھاندلیاں ہو جاتی ہیں۔ عدالتوں میں انصاف ناپید ہوتا ہے اور سکولوں میں تعلیم عنقا۔ گوشواروں میں خساروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچتا۔ سیلاب کا پانی پورے دیہات بہا لے جاتا ہے۔ اتنے پانی کے باوجود خشک سالی کی شکایت رہتی ہے۔ بجلی اور پانی کبھی ضرورت کے مطابق موجود نہیں ہوتے۔ گیس کے ذخائر خیالی دکھائی دیتے ہیں۔ پھر بیرونی امداد کی تدابیر کرنی ہی پڑتی ہیں اور ہم بتانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ کہ آپ سمجھیں گے ہم بھیک مانگنے آئے ہیں لیکن ہم بھیک مانگنے نہیں آئے ذرا حالات۔
بس اسی وجہ سے اقوام عالم نے اس خطے کے لوگوں کو گلوبل لیول پر تو کیا۔ ملکی لیول پر بھی کسی پالیسی یا انتظام میں کوئی ان۔ پٹ دینے، رائے رکھنے کی اجازت نہیں دی۔ سائفر ہیں کہ بن بن کر آئے جا رہے ہیں کہ کب، کیا، کیسے اور کیوں درکار ہے۔ سب کو پتہ ہے ہمارا سب سے پاپولر سلوگن روٹی کپڑا اور مکان رہا ہے۔ اس کے بعد ہے انصاف اور تبدیلی۔ غریب تو کوئی بھی ہو سکتا ہے لیکن ذہنی غربت کی حد ہونی چاہیے۔ اور غیر ذمہ دار اور ناعاقبت اندیشی کے رویے چیونٹیاں بھی برداشت نہیں کرتیں۔ اصل میں چیونٹیاں ہم لوگوں کے برعکس گلوبل لیول زیادہ محرک اور آگاہ ہوتی ہیں۔ ( نہ پیس ڈالے تم کو سلیمان اور ان کا لشکر۔ سورہ نمل) ۔
ہمیں چیونٹیوں کے مظاہر سے ورک ایتھیکس، کمیونٹی مینجمنٹ۔ کمیونیکیشن۔ شجاعت۔ اقامت۔ امامت وغیرہ کے بہت سے سبق سیکھنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کی خسارہ فری کالونیز۔ کامیاب عدالتیں، نظام رائے دہندگی، سیاسی قیادت وغیرہ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ایک مفصل رپورٹ بنائی جائے۔ نیز چیونٹیوں کے دماغ پر مزید ریسرچ کی ضرورت ہے تاکہ ان کے پرو ایکٹو رویوں کا راز آشکار ہو۔ پھر بھی سیکھنے سکھانے میں وقت لگتا ہے۔ جب تک یہ سب ہوتا ہے اس سے پہلے۔ ہمیں ان کے دماغ کو سالم انٹرنلائز کر لینا چاہیے۔ کیا کسی کو چیونٹیوں کی کوئی اچھی سی ریسپی آتی ہے؟ بلکہ اس سے پہلے۔ کیا چیونٹی حلال ہے؟

