الجھی ہوئی دنیا


جنگ عظیم دوئم کی تباہ کاریوں اور ہولناکیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ”فاتح“ ممالک کی جانب سے ایک نئی عالمی تنظیم تشکیل دی گئی تھی جس کا مقصد پھر کسی ”عالمی جنگ“ کو روکنا یا کم از کم ٹالنا ضرور تھا۔ اس سے پیشتر بھی جنگ عظیم اول میں ”لیگ آف نیشنز“ قائم کی گئی تھی جو بد قسمتی سے بری طرح ناکام ہوئی اور بالآخر اپنی موت آپ مر گئی تھی۔ لیکن دوسری مرتبہ ”یونائیٹڈ نیشنز“ یعنی اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو گزشتہ 78 برس سے فعال و متحرک ہے۔ البتہ، 1945 ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک اقوام متحدہ جنگ روکنے اور عالمی امن کو بر قرار رکھنے میں کچھ خاطر خواہ اقدامات کر سکی ہے یا نہیں؟ یہ ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب موجودہ عالمی حالات کی روشنی میں بہر طور سمجھا جاسکتا ہے۔

عالمی صورتحال یہ ہے کہ روس اور یوکرین جنگ اب تیسرے برس میں داخل ہو گئی ہے جبکہ حماس کی شروع کردہ ”مہم جوئی“ ایک ہولناک جنگ کی صورت اختیار کرچکی ہے جس میں کئی ہزار معصوم فلسطینی اور کئی ہزار اسرائیلی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ غزہ جل رہا ہے اور پوری دنیا برہم ہے۔ جبکہ وطن عزیز کی بھی صورتحال کچھ سیدھی نہیں ہے۔ گزشتہ 76 سال کی طرح پاکستان آج بھی ایک سیاسی بحران کی زد میں ہے اور معیشت سنبھل رہی بھی ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب بے معنی ہے کیونکہ غریب مزید پستے جا رہے ہیں اور ’امرا ء نشۂ دولت میں غافل ہیں ہم سے‘ کے مصداق اپنی غرق آبیوں میں ایسے غرق ہیں جیسے کسی کو کسی کی فکر ہی نہیں۔ الیکشن کا انعقاد کیا جا چکا ہے لیکن نتائج کوئی نتیجہ خیز نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ’آزاد امیدوار‘ قومی و خیبر پختون خوا کی اسمبلیوں میں آگے ہیں لیکن کیا ان آزاد امیدواروں کا پی ٹی آئی کی طرف جھکاؤ دیر تک قائم رہے گا؟

یہ وہ سوال ہے جو نہ تو پوچھا جا رہا ہے اور شاید نہ ہی کسی کے پاس اس کا جواب موجود ہے۔ مزید براں، مسلم لیگ نون پنجاب میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور قومی اسمبلی میں (پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے بعد ) دوسرے نمبر پر ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گاہے بگاہے مخلوط حکومت قائم ہونے کی صورت میں وزیر اعظم نون لیگ ہی سے تعلق رکھتے ہوں گے (لیکن یاد رہے یہ کوئی حتمی تجزیہ نہیں ہے ) ۔

بہرحال، جدیدیت یا کچھ لوگ کہیں گے مابعد جدیدیت کے اثرات اور ”ڈیجیٹل انقلاب“ کے تیز تر پھیلاؤ کی وجہ سے عالمی جمہوریتیں پاپولزم کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ سماج میں فسطائیت مضبوطی پکڑ رہی ہے۔ 1940 ء کی دہائی میں ہٹلر اور مسولینی کی طرح آج بھی یورپ اور امریکہ میں فاشسٹ لیڈران بر سر اقتدار ہیں۔ حالیہ دنوں میں اٹلی میں پھر فسطائیت کا تیز تر پھیلاؤ دیکھنے میں آیا ہے اور مسولینی کے نظریات سے ہم آہنگ تنظیم کے افراد نے اٹلی کے کچھ شہروں میں ریلیاں نکالی ہیں جس سے ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عوام میں ان کی پذیرائی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

اٹلی کی موجودہ خاتون وزیر اعظم بھی فاشسٹ نظریات سے ہمدردی رکھتی ہیں اور مغربی میڈیا میں انہیں ”نیو فاشسٹ“ جیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ یہی حال کچھ ہندوستان اور امریکہ کا بھی ہے کہ ہندوستان میں ہندو انتہاء پسند لیڈر نریندر مودی اور ان کی فاشسٹ جماعت بی جے پی مقتدر ہے جبکہ بھارتی آئین کی بنیادی روح یعنی جمہوریت اور سیکولر ازم کو حکومت کی جانب سے ہی زمین بوس کیا جا رہا ہے جبکہ ہندوستان کے لبرل اور سیکولر عناصر ”آر ایس ایس آئیڈیالوجی“ کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ علاوہ ازیں، امریکہ میں بھی ٹرمپ عوامی ہمدردیاں سمیٹتے جا رہے ہیں جن کے متعلق مشہور ہے کہ موصوف امریکی طرز کے فاشسٹ رہنما ہیں۔

پوری دنیا فاشزم کے مرض میں مبتلاء ہے تو یہاں وطن عزیز بھی پاپولزم کے ناسور سے جوج رہا ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت ”تحریک انصاف“ یوں تو ایک کٹا پٹا شکست خوردہ قافلہ معلوم ہوتی ہے لیکن مقتدرہ کی جانب سے آخری زخم پہچانے کی بھی کوششیں بہر حال جاری ہیں۔ یعنی اپنے زمانے کے ’آل راؤنڈر‘ کے ہاتھ سے بلا تو چھین لیا گیا ہے اور اب وہ جیل میں بس گیندیں ہی لڑکا رہے ہیں۔ چیئرمین گری سے محروم، وزیر اعظم ہاؤس سے بیدخل بانی پی ٹی آئی غالباً کال کوٹھری میں یہی خیال سوچ رہے ہوں گے کہ کیا میں جنت میں وزیر اعظم بن سکوں گا؟ جیسے کبھی وہ یہ سوچا کرتے تھے کہ کیا میں جنت میں کرکٹ کھیل سکوں گا؟ (دیکھئے، میں اور میرا پاکستان از عمران خان)

عالمی امن کی بالکل ایسی ہی صورتحال جیسے کوئی مریض کسی ہسپتال میں بستر مرگ پر پڑا موت کا انتظار کر رہا ہو۔ عالمی مبصرین کا تو یہی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ”امن عالم“ کے قیام میں اپنی پیشرو کی طرح ناکام ثابت ہوئی ہے اور اپنی افادیت کھوتی جا رہی ہے جبکہ تیسری عالمی جنگ کا خدشہ بہرحال موجود ہے، جسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس کے گزشتہ ماہ کے بیان کا حوالہ محال نہیں، موصوف فرماتے ہیں کہ پانچ سالوں میں ہم مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات یا فوجی کشیدگی کا سامنا کر سکتے ہیں جن میں روس، چین، ایران اور شمالی کوریا شامل ہوں گے۔ اپنے آپ سے پوچھیں، آج کے تنازعات کو دیکھتے ہوئے کیا لگتا ہے کہ یہ تعداد بڑھے گی یا کم ہو گی؟ مجھے شک ہے کہ ہم سب اس کا جواب جانتے ہیں، اس میں اضافے کا امکان ہے، لہٰذا 2024 ایک اہم موڑ ہونا چاہیے۔

برطانوی وزیر دفاع کا مذکورہ بیان نا صرف ہمیں تذبذب کا شکار کرتا ہے بلکہ یہ تشکیک بھی ساتھ ذہن میں ابھرتی ہے کہ برطانیہ اور دیگر نیٹو ممالک مستقبل قریب میں کسی بھی جنگ کے لیے تیار ہیں یا کم ازکم تیاری کے عمل میں ہیں۔ اگرچہ، چین بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید ترقی دیتے ہوئے مغرب سے ہرگز پیچھے نہیں ہے بلکہ بہت سے شعبہ جات میں آگے بھی ہے۔ موجودہ عالمی حالات اس امر کی وضاحت کر رہے ہیں کہ دنیا الجھے ہوئے دھاگوں کی گیند کے مانند ہے اور اس پر مزید طرہ یہ ہے کہ سلجھنے کے بجائے یہ مزید الجھتی جا رہی ہے۔

عالمی صورتحال کیا شکل اختیار کرتی ہے اور دنیا کا مستقبل کیا ہو گا؟ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از قوت ہے۔ غزہ اور یوکرین میں جنگ جاری رہے گی اور مزید انسان لقمہ اجل بنتے رہیں گے؟ ہندوستان انتہاء پسندانہ رویوں کا شکار رہے گا اور سناتن کی نشاۃ الثانیہ اور احیاء کے لیے جمہوریت کی بھینٹ چڑھتی رہے گی؟ یورپ اور امریکہ فاشزم کی دکان سجائیں گے اور کیا روم اور برلن کے تاریخی کھنڈرات سے دوبارہ مسولینی اور ہٹلر اپنی سابقہ شان و شوکت کے ساتھ نمودار ہوں گے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں جلد از جلد ایک مفصل جواب کی تلاش ہے اور میرے تئیں ان سوالات کا جواب دینا ناگزیر ہے۔ جوابوں کی ناگزیریت کی بنیاد پر مضمون کو یہی ختم کرتا ہوں اور آپ کی اجازت سے از سر نو سوالوں کو کھنگالنا اور جواب تلاش کرنے کی سعی کرتا ہوں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments