داعش اور میرا ٹوٹا ہوا ہاتھ


ننگے پاؤں (7)

میں نے داعش کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک طرف ان کا کالا جھنڈا لہرا رہا تھا جس پر ان کے مخصوص انداز میں کلمہ شریف لکھا ہوا تھا۔ کچھ قیدی تھے اور کچھ داعش کے کارندے۔ کارندے ایک ایک کر کے قیدیوں کو آگے کی طرف دھکا دیتے۔ ایک شخص اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ان کے سر کاٹتا اور ان کے تڑپتے ہوئے جسموں کو ایک کھائی میں دھکا دے دیتا۔ یقین نہیں آتا تھا کہ ایک انسان آج کے جدید عہد میں دوسرے انسان کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔

مگر ایک دن جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ یقین دلانے کے لئے کافی تھا

کلک کلک کلک۔ میرے بھانجے کی شادی تھی اور میں کیمرے کا دیوانہ تصویریں اتار رہا تھا۔ میں اپنی فیملی کا آفیشل فوٹو گرافر ہوا کرتا تھا۔ نکاح پڑھانے والے چھ فٹ چھ انچ کے ڈشکرے ملا نے مجھے تصویریں اتارنے سے روک دیا اور کہنے لگا کہ یہ غیر اسلامی فعل ہے۔ میں نے بحث مول لے لی کہ مولانا آپ کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر بھی تصویریں ہی لگتی ہیں۔ اس نے اس وقت تو بات سن لی، نکاح کی رسم پوری کی، معاوضہ جیب میں ڈالا اور دروازے کی طرف چل دیا۔ میں اطمینان سے تصویریں اتارنے لگا۔ وہ یکا یک پلٹا اور مجھ پر حملہ کر دیا، میرے بائیں ہاتھ کی ہڈی اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر توڑ دی اور یہ جا وہ جا

حیرت انگیز طور پر تقریب کے کسی مہمان نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی، میرا ہاتھ کئی ماہ پلستر میں بندھا رہا، پولیس میں رپورٹ کرنے کی کوشش کی تو عزیزو اقارب نے منع کر دیا کہ اگر رپورٹ کرو گے تو یہ سارا گروہ پورے خاندان کو نقصان پہنچائے گا۔ اور میں جو ہر ظلم کے خلاف علم اٹھانے کا عادی تھی دم سادھ کر بیٹھا، ہاتھ جڑنے کا انتظار کرتا رہا۔

اب میں اس واقع کو وسیع تناظر میں دیکھتا ہوں تو داعش والی ویڈیو پر حیرت نہیں ہوتی۔

دہشت گردی کی جڑیں پاتال میں ہیں کیوں کہ انہیں بویا ہی وہیں گیا تھا۔ روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے جن دہشت گردوں کو مجاہد کہہ کر تخلیق کیا گیا وہ اور ان کی سوچ کرونڈئیے سانپ کے زہر کی طرح معاشرے کے کئی طبقات میں سرایت کر گئی ہے۔ اور تزویری گہرائی، ذلت آمیز کھائی میں تبدیل ہو گئی ہے جس میں انسانی تہذیب کے سر کاٹ کر پھینکے جا رہے ہیں

بیانیہ اور طریق واردات

سکرپٹ لکھ کر معاشرے کی حرکیات کو تبدیل کرنا حکمرانوں کا پرانا وتیرہ رہا ہے اور اگر کوئی فرق ہے تو طریق واردات کا۔

وہ قدیم رومی فرماں روا ہوں یا موجودہ امریکی اسٹیبلشمنٹ یا ہمارے ملک میں ان کے پیروکار سبھی بیانیہ بناتے ہیں اور عوام کے نام پر عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی سکرپٹننگ میں کوئی سقم ایسا رہ جائے کہ وہ عریاں ہو جائیں۔ جیسے نائن الیون کا واقعہ یا عراق پر حملہ۔ کئی تجزیہ کار یہ ثابت کر چکے کہ نائن الیون کا واقعہ ان سائیڈ جاب تھی

اور عراق سے ہولناک تباہی پھیلا سکنے والے کوئی ہتھیار ہاتھ نہیں لگے جن کی بنیاد پر بیانیہ بنایا گیا اور حملہ کر دیا گیا۔

دہشت کی ابتدا

میرے ہاتھ پر فقط طالبان کے ملا نے ظلم نہیں کیا۔ اس کی ابتدا تو 1960 میں ہو گئی تھی جب ہم عربی کے استاد مولوی محمد حسین کے ہاتھ لگ گئے۔ موٹے تازے تھے اور ہاتھ میں ہر وقت بید کی باریک چھڑی رکھتے تھے۔ سردیوں کی انتہا کے دن تھے اور انہوں نے ہمیں عربی کی گردانیں یاد کرانا شروع کر رکھی تھیں

عربی میں فعل ماضی کے چودہ صیغے ہوتے ہیں۔ وہ کہا کرتے کہ عربی امیر زبان ہے اس لئے اس کے صیغے زیادہ ہیں۔ مگر مجھے عربی کا امیر ہونا مہنگا پڑ گیا۔ انہوں نے جس فعل کا انتخاب کیا وہ تھا ضرب یعنی اس نے مارا اور کہا کہ کل صبح سب یاد کر کے آئیں۔

میں رٹو توتا تو تھا نہیں کہاں یاد کر کے جاتا۔ بس پھر کیا تھا ہاتھ آگے بڑھانے کا حکم ہوا جو نہ ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ وہ ایک ایک صیغہ پڑھاتے جاتے اور آٹھویں جماعت کے سیدھے سادے بچے کے ہاتھوں پر ہر صیغے کی ایک چھڑی برساتے جاتے۔ یوں انہوں نے مجھے چودہ صیغے یاد کرائے اور چودہ چھڑیاں برسائیں۔ وہ چودہ صیغے اور اپنے نیلے ہاتھ آج تک میرے ذہن پر نقش ہیں۔ آج سوچتا ہوں کہ اگر ان دنوں دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد ہوئی ہوتی تو یہ عمل بھی اسی کے زمرے میں آتا۔

مگر اس دہشت گردی کے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھ پر ایک احسان بھی کیا۔ اخبار میں عطا اللہ شاہ بخاری کے بارے میں ایک مضمون کسی اخبار میں شائع ہوا تھا وہ کاٹ کر اپنے ساتھ لے آئے اور مجھے نادر شاہی حکم دیا کہ تم کل یاد کر کے آؤ گے اور صبح کی اسمبلی میں تقریر کرو گے۔ میں نے کبھی تقریر نہیں کی تھی مگر چودہ چھڑیاں میرے حواس پر سوار تھیں۔ سو راتوں رات وہ مضمون یاد کیا اور صبح سکول پہنچ گیا۔ اسمبلی شروع ہوئی تو مجھے اسٹیج پر جانے کا حکم ہوا۔ میں ہچکچایا تو بولے ”جاؤ جاؤ اور یہ سمجھ کر تقریر کرنا کہ تمہارے سامنے سب کے سب بیوقوف بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں گیا اور رٹی ہوئی تقریر کر دی۔ اس دن بجنے والی تالیاں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں اور وہ اعتماد ہمیشہ میرے اندر پلتا رہا۔

مگر دہشت گردی بھی کسی نہ کسی صورت زندگی پر اثرانداز ہوتی رہی۔
دو کالوں کی تخلیق

مفتی صاحب ہمارے انگریزی کے استاد تھے، گہرا سانولا رنگ تھا، بس یوں کہیے کہ کالے ہونے سے بال بال بچ گئے تھے۔ بہت دلچسپ کردار کے حامل تھے۔ پینٹ شرٹ پہنتے اور خوب بن ٹھن کر آتے۔ انگریزی بہت خوبی سے پڑھاتے، پیریڈ کے آخری پانچ یا دس منٹ زندگی گزارنے کے ڈھنگ بھی سکھاتے مگر ہاتھ میں ایک موٹا سا بید ضرور رکھتے جو وہ نالائقوں کے ہاتھوں پر خوب برساتے۔ کلاس میں ایک نالائق بچہ بھی تھا انہی کے رنگ کا۔

جب وہ اس سے سخت ناراض ہوتے تو اسے ایک داستان سناتے۔ ”روز ازل خدا انسان بنا رہا تھا، جب دو انسان بننے باقی تھے تو شدید آندھی آ گئی اور ساری مٹی اس آندھی سے اڑ گئی۔ تب اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ دو انسانوں کے لئے میٹریئل مہیا کرو۔ فرشتے ہانڈیوں اور تووں کی سیاہی لے آئے، اسے گوندھا اور اللہ کے حضور پیش کر دیا۔ اللہ نے اس میٹریئل سے دو انسان بنا دیے، پتہ ہے وہ کون تھے؟ ایک کالے تو اور ایک میں۔ کلاس میں ہنسی کے فوارے چھوٹ جاتے جسے مفتی صاحب ڈیسک پر ڈندا بجا کر روکتے۔ کالا اس دن تو شرمندہ ہو جاتا مگر دوسرے دن پھر ہوم ورک کیے بغیر آ جاتا اور مفتی صاحب سے ڈنڈے کھاتا۔

وہ رٹے سے زیادہ سمجھانے پر زور دیتے۔ ادھر میں بھی سمجھنے کا مشتاق تھا۔ کلاسیک ناول گلیورز ٹریولز ہمارے سلیبس میں تھا۔ ایک دفعہ انہوں نے اس کے بارے میں ایک سوال کا جواب یاد کرنے کے لئے دیا اور اگلے دن کلاس میں سب سے پہلے مجھے ہی پوچھ لیا۔ میں نے عرض کیا کہ ماسٹر جی میں پہلے اردو میں سناؤں گا اور پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ کروں گا۔ پہلے تو حیران ہوئے اور پھر یہ سوچ کر اجازت دے دی کہ دیکھیں کیا تیر مارتا ہے۔ میں ٹرانسلیشن میں اچھا تھا۔ پہلے اردو کا ایک فقرہ بولتا اور پھر انگریزی میں ترجمہ کر کے سنا دیتا۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ مجھے سینے سے لگا لیا اور پھر پورا سال اپنے بانس کے موٹے سے ڈنڈے کو مجھ سے دور ہی رکھا۔

مگر ماسٹر جمیل کے تھپڑوں سے مجھے کون بچا تا۔ وہ انگریزی کے استاد تھے۔ ایک دن مجھے کلاس میں کھڑا کیا اور وائٹ کے ہجے پوچھ لئے جو مجھ رٹا چور کو ہرگز یاد نہیں تھے۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے مجھے اٹھا کر اپنی اونچی کرسی پر بٹھایا اور بولے ”کہو ڈبلیو“ اور ساتھ ہی تھپڑ رسید کر دیا۔

میں نے پریشان ہو کر کہا ”ڈبلیو“
پھر ایک اور تھپڑ آیا ”بولو ایچ“
میں نے روہانسا ہو کر کہا ”ایچ“
ایک اور زناٹا ہوا ”بولو آئی“
میں نے رو کر کہا ”آئی ای ای“

پھر ٹی اور ای کے تھپڑوں نے مجھے نانی یاد دلا دی۔ میں روتا ہوا اپنے بنچ پر جا بیٹھا۔ مگر اگلے ہی لمحے میں خدا کا شکر ادا کر رہا تھا کیوں کہ میرے بعد انہوں نے کسی اور لڑکے سے جس لفظ کے ہجے پوچھے وہ تھا امبریلا جس کے آٹھ حروف تھے یعنی وائٹ سے تین زیادہ یعنی تین تھپڑ زائد۔

ایک ماسٹر سلیمان تھے جو خوش خطی کے بہت دلدادہ تھے۔ مگر وہ اکثر اپنی ناک میں انگلی گھماتے رہتے جس میں سے بعض اوقات خون بھی جاری ہو جاتا۔ وہ تاریخ پڑھاتے تھے۔ میرے ایک کلاس فیلو انور کی لکھائی بہت نفیس تھی، اتنی نفیس کہ وہ بغیر پڑھے اس کے نمبر لگا دیتے اور اس کی کلاس میں پوزیشن آ جاتی۔ لیکن اس کی شامت اعمال کہ ایک دن انہوں نے اس کے کلاس ٹسٹ کو پڑھ بھی لیا۔ بس پھر اس کی وہ ٹھکائی ہوئی کہ پوری کلاس سہم گئی۔ مگر انور نے اپنی خطاطی کو قائم رکھا اور قلم دوات اور کاغذ کے ساتھ اپنے رشتے کو یوں نبھایا کہ سکول سے فراغت کے بعد سٹیشنری کی دکان کھول لی۔

نا تراشیدہ سائنسدان

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہاشمی صاحب اگر بہت غریب نہ ہوتے اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیا ہوتے تو وہ بہترین سائنسدان بنتے۔ وہ ہمیں سائنس پڑھاتے اور 1962 میں کہا کرتے کہ میں اپنے گھر میں بجلی سے چلنے والے تمام آلات کو آواز سے آن یا آف کر سکتا ہوں۔ کچھ لائق بچوں کو وہ گھر پر مفت ٹیوشن پڑھاتے تھے، ان میں ایک عبدالرزاق بھی تھا۔ میں نے جب اس سے اس دعوے کی تصدیق چاہی تو اس نے بتایا کہ ان کے گھر میں ایسا کوئی اہتمام نہیں تھا بلکہ یہ محض ان کے سائنسی ذہن کی اختراع تھی۔ بائیسکل پر سکول آتے اور دسمبر کی ٹھٹھرتی سردیوں میں بھی صرف ایک قمیض اور اس قمیض کے اندر ایک پورے بازؤں والی بنیان پہن رکھی ہوتی تھی۔ ہم ان سے پوچھتے کہ ماسٹر جی آپ کو سردی نہیں لگتی تو وہ ہمیں سائنس کا اصول سمجھانے لگتے کہ اگر دو چادروں کو جوڑ کر اوپر لے لیا جائے تو وہ کمبل سے زیادہ گرم ہو جاتی ہیں کیوں کہ ان کے درمیان ہوا کی تہ آ جاتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے لباس کی وضاحت کرتے مگر ہم سب اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ ان کے پاس کوئی اور گرم لباس پہننے کے لئے شاید تھا ہی نہیں۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS