سر پہ کفن اور موت سے پہلی آشنائی
ننگے پاؤں ( 11 ) آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا پیر و مرشد غالب کے اس شعر کا مطلب تو دیر میں سمجھ آیا مگر اس محاورے سے واقفیت سکول کے زمانے ہی میں ہو گئی تھی۔ ہمارے ایک استاد تھے مرزا مجید بیگ جو ہمیں سوشل سٹڈیز اور جنرل نالج پڑھاتے تھے مگر ان کے اندر ایک اداکار چھپا ہوا تھا اور اسی لیے
Read more

