جرم محبت


”اماں میں یہ شادی نہیں کروں گی میں راحیل سے محبت کرتی ہوں آپ ایک دفعہ مل تو لیں وہ بہت اچھا لڑکا ہے“ وہ کب سے اماں کو پیار سے منا رہی تھی ”تمہارے ابا کبھی بھی محبت کی شادی پر رضا مند نہیں ہوں گے ویسے بھی وہ تمہارے دن رکھ چکے ہیں“ اماں نے بات ختم کی وہ پھٹی پھٹی نظروں سے ان کو دیکھنے لگی ”اماں یہ نہیں ہو سکتا میں محبت کسی اور سے کر کے شادی کسی اور کے ساتھ نہیں کر سکتی“ وہ قطعیت سے بھر پور لہجے میں بولی ”کیوں تو ہماری عزت مٹی کرنے پر تلی ہے تیرے باپ کی کتنی عزت ہے گاؤں میں لوگ کیا کہیں گے جس امام کے منہ سے ہم اللہ رسول کی باتیں سنتے ہیں اس کی بیٹی کا کسی کے ساتھ چکر ہے“ اماں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں دراصل وہ شوہر کے غیض و غضب کے سامنے دبتی تھیں اسی وجہ سے اپنی اولاد کے حق میں بول نہیں سکتی تھیں وہ اس معاملے میں کمزور تھیں انہیں ماحول ہی ایسا ملا تھا جہاں عورتوں کا بولنا معیوب سمجھا جاتا تھا

” اللہ نے محبت سے منع تو نہیں کیا اماں وہ تو خود محبت ہے“ وہ باشعور لڑکی محبت کے بارے میں برسوں سے پنپتی فرسودہ سوچ کو بدل نہیں سکتی تھی وہ نہیں سمجھا سکتی تھی کہ محبت گناہ نہیں ہے کسی کو پسند کرنا جرم نہیں ہے پھر بھی ایک آس سی تھی اسی آس کی لاٹھی تھامے وہ اپنے باپ کے کمرے کی جانب بڑھی

” ابا میں یہ شادی ن۔ ۔“ ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے رخسار پر پڑا وہ زمین پر لڑھکتی چلی گئی خون کی ایک لکیر اس کے ہونٹ کے کونے سے بہہ نکلی آہ محبت کی پہلی سزا۔ وہ اپنے رخسار پر ہاتھ رکھے بے یقینی کی سی کیفیت سے ابا کی جانب دیکھ رہی تھی آنسو آنکھوں میں پتھر ہو گئے ”دفعہ کرو اس کو میری نظروں کے سامنے سے“ وہ دھاڑے تو اماں نے اسے کمرے میں دھکیل دیا گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ”میری عزت رولنے کے درپے ہے یہ منحوس“ ابا کی دھاڑ اس کے کمرے تک سنائی دی۔

عزت عزت عزت اسے اس لفظ سے بے تحاشا نفرت محسوس ہوئی انسان کو اپنی اولاد کی خوشی سے زیادہ عزت عزیز ہے کیا؟ ”وہ والدین کے اس رویے سے منفی ہونے لگی نادان تھی جانتی نہیں تھی انسان صرف عزت کا ہی تو بھوکا ہوتا ہے اس دنیا میں۔ جھوٹ کہتے ہیں کہنے والے کہ انسان محبت کا بھوکا ہوتا ہے“ اگر ایک دفعہ مل لیتے تو کیا ہوتا ”اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑ ڈالیں

گھر میں خاموشی سی چھائی ہوئی تھی کہتے ہیں خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے صحیح کہتے ہیں ان کے لیے بھی ایک طوفان منتظر تھا گاؤں میں اکثر گھروں کی دیواریں آپس میں جڑی ہوئی اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں اور مولوی صاحب کے گھر میں ہوئے اس ہنگامے کی دیواروں کو بھی خبر ہو گئی تھی ایک کے منہ سے نکلی بات کوٹھوں چڑھنے لگی ویسے بھی محبت خوشبو ہے اور یہ خوشبو بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اب گاؤں والوں کا موضوع گفتگو ”مولوی صاحب کی شہر سے آئی پڑھی لکھی بیٹی کا چکر“ تھا لوگ اب چہ میگوئیاں کرنے لگے بات گھروں کے کوٹھے ٹاپتی رشیدہ بیگم تک پہنچ ہی گئی جو شانزہ کی ہونے والی ساس اور خالہ تھیں وہ دوڑی دوڑی آئیں حمیدہ بیگم ( شانزہ کی اماں ) نظریں جھکا کر رہ گئیں اور رشیدہ بیگم نے دل پر دو ہتڑ مارے ”میرے بیٹے کو لڑکیوں کی کمی نہیں آپا“ ان کی بھانجی ان کا لائق فائق اکلوتا بیٹا جو پانچ بھینسوں بکریوں کا ریوڑ اور دس مرلے زمین کا مالک تھا کو رد کر رہی تھی کتنی غیرت کی بات تھی نا وہ جاتے ہوئے ان سے سارے رشتے توڑ کر گئی تھیں ایسا کیسے کر سکتی تھیں وہ دن رکھے جا چکے تھے دعوت نامے بٹ چکے تھے اپنوں سے تو مشکل وقت میں تھام لینے کی امید ہوتی ہے لیکن وہ ابھی بھی سمجھ نہیں پائے تھے کہ یہ دنیا ہے یہاں نفسا نفسی کا عالم ہے عزت عزت کرنے والوں کی عزت مٹی میں مل چکی تھی جانتے ہیں کیوں؟

کیونکہ ان کو یقین ہی نہیں تھا کہ عزت ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ہمیں لوگوں کی پرواہ زیادہ ہوتی ہے اللہ کو تو ہم پیچھے چھوڑ جاتے ہیں مولوی صاحب کے دل اور گھر میں حشر برپا تھا سب نے اس سے بائیکاٹ کر دیا تھا وہ جیسے شعب ابی طالب میں محصور ہو کر رہ گئی تھی کمرے کا دروازہ کھلا تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا شازمہ اس کی بڑی بہن کچھ لینے آئی تھی شانزہ نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ”آپا کیا تم بھی مجھے“ اس کی بات منہ میں ہی رہ گئی جب شازمہ نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑوایا ”مت چھوو مجھے اپنے ان ناپاک ہاتھوں سے قاتل ہو تم ہم سب کی ابا کو دیکھو اہانت کے مارے گھر میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں اماں کی تربیت پر لوگ تھو تھو کر رہے ہیں اور ہمارا یہاں کون رشتہ لے کر آئے گا ہمارا ہی سوچ لیا ہوتا کہ ابا پر پانچ بیٹیوں کا بوجھ ہے“ وہ ایک ہی سانس میں بولتے گئی اس کے منہ سے کف بہنے لگی ”کتنا مان تھا ابا کو تم پر سب سے زیادہ ذہین اور اچھی بیٹی تھی تم ابا کی تم نے سب کچھ مٹی کر دیا“

کیا اچھی بیٹیاں محبت نہیں کر سکتیں شازمہ؟ ”وہ ایک بار پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھنے لگی“ نہیں بالکل نہیں جن کے پاؤں میں عزت کی بیڑیاں ہوں ان کو اجازت نہیں ہوتی ”وہ بے دردی سے ہاتھ چھڑوا کر کمرے سے باہر نکل گئی اس کے چہرے پر کرب لہرانے لگا اپنوں کی بے اعتنائی کا عزت کے طعنوں کا محبت کی جدائی کا

جیسے جیسے دن گزر رہے تھے مولوی صاحب کا دل طعنوں سے زخمی ہوتا جا رہا تھا اور طعنہ ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے لوگ مر جاتے یا مار دیتے ہیں وہ مر تو نہیں سکتے تھے کیونکہ ان پر پانچ بیٹیوں کی ذمہ داری تھی لیکن وہ مار تو سکتے تھے نا اس لیے انہوں نے شانزہ کو مار دینے کا فیصلہ کیا وہ اپنی چارپائی سے اٹھے اور گھر کی دہلیز پار کر گئے حمیدہ بیگم نے دل پر ہاتھ رکھا وہ کیا کرنے والے تھے؟

مولوی صاحب کافی دن بعد گھر سے نکلے تھے وہ لوگ جو ان کو دیکھ کر احتراماً کھڑے ہو جایا کرتے تھے اب طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے بس آج کا دن تھا پھر وہ ان نظروں سے چھٹکارا پا لیتے یہی سوچ کر انہوں نے دروازے کو زور زور سے دھڑ دھڑایا ”ابے کون ہے بے“ اندر سے آواز آئی ساتھ ہی دروازہ کھلتا چلا گیا ”مولوی صاحب“ دروازہ کھولنے والے نے اچنبھے سے لٹے پٹے مولوی صاحب کو دیکھا اور اندر آنے کا راستہ دیا کہا تھا نا مولوی صاحب نے طعنوں سے گھبرا کر اپنی بیٹی کو مار دینے کا فیصلہ کر لیا

رشید چاچا جس کو کسی نے اس کی بدصورتی کے باعث لڑکی نہیں دی تھی جس کے چہرے کا ایک حصہ جھلسا ہوا تھا سنا ہے بچپن میں جلتے تنور میں گر گیا تھا جس سے چہرے کا دایاں حصہ دایاں بازو اور دائیں ٹانگ جھلس گئے تھے اس کی ماں کو شعور نہ ہونے کے باعث کبھی اس کے چہرے اور جسم پر سے یہ ٹھیک نہ ہو سکے ساری عمر کنوارے رہتے گزاری اور اب اس عمر میں اتنی پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی کا باپ خود آ کر اسے اپنی بیٹی سے شادی کا کہہ رہا تھا کیا تھا جو وہ گاؤں میں بدنام تھی رشید اس سے شادی کر کے اس کو عزت دے گا وہ اپنے آپ کو بڑے ظرف والا سمجھ رہا تھا تبھی بڑی سج دھج کے ساتھ گردن میں سریا ڈالے بارات لے کر پہنچ گیا شانزہ یہ سب سنتے ہی ہسٹریائی انداز میں چیخنے چلانے لگی لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا خطا بڑی تھی تو سزا بھی بڑی ملنی تھی اس کی روح پرواز کر چکی تھی اب صرف ہڈیوں کا ڈھانچا تھا جسے رشید چاچا اپنے سنگ لئے جا رہا تھا پہلے زمانے میں بیٹیوں کو غیرت کے نام پر زندہ درگور کیا جاتا تھا آج بھی جرم محبت کی پاداش میں غیرت کے نام پر زندہ درگور کیا جاتا ہے نجانے یہ رسم کب تک چلتی رہے گی

Facebook Comments HS