ایئرلائن ٹریکنگ سے ٹیلر سوئفٹ اور ایلون مسک جیسی شخصیات کو پریشان کرنے والے طالبعلم: ’یہ پرواہ کیے بغیر کہ کون کیا ہے، یہ سب کرتا ہوں‘

مائک وینڈلنگ - بی بی سی نیوز


امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم کو دنیا کے چند امیر ترین اور طاقتور لوگوں کو دِق اور پریشان کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ لیکن وہ یہ کام کیسے کرتے ہیں؟

تو ہم آپ کو بتا دیں کہ وہ دنیا کے باقی لوگوں کو یہ بتا کر ان امیر لوگوں کی ناک میں دم کیے ہوئے ہیں کہ ان کے نجی طیارے کس مقام پر مائل پرواز ہیں اور ان سے کتنا کاربن اخراج ہوتا ہے۔

وہ طالب علم جیک سوینی ہیں اور وہ یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے پاس کچھ اچھی دھنیں ہیں۔

وہ یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ انھیں اپنے خلاف قانونی کارروائی کا خطرہ ہے کیونکہ وہ یہ بتا دیتے ہیں کہ ان مشاہیر کا نجی طیارہ کہاں جا رہا ہے، اور یہ کہ کتنی بار پرواز کے لیے جاتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو ایک ای میل میں بتایا: ’سچ کہوں تو میں ہر کسی کی معلومات شیئر کرنے کی کوشش کرتا ہوں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔‘

لیکن ان کی دی ہوئی معلومات خاص طور پر امیر اور طاقتور افراد کے نجی طیاروں کے مقامات کے بارے میں ہوتی ہیں اور وہ اسے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کرتے ہیں۔ اور اس کی وجہ سے 21 سالہ نوجوان بار بار خبروں میں رہتے ہیں اور انھیں قانونی خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

جیک سوینی ایئر لائن مینٹیننس آپریشنز کنٹرولر اور ایک استاد کے بیٹے ہیں۔ وہ اورلینڈو کے مضافات میں پلے بڑھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ہمیشہ سے ہی ہوابازی اور اس کی ٹیکنالوجی اور بطور خاص ایلون مسک کی سپیس ایکس اور ٹیسلا کمپنیوں میں دلچسپی رہی ہے۔

اور پھر ہوا یوں کہ ان دلچسپی نے آہستہ آہستہ انھیں ہوائی جہاز سے باخبر رہنے کی ویب سائٹ دی ایئر ٹریفک ڈاٹ کام بنانے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تیار کرنے کی راہ پر گامزن کر دیا جو کہ مشہور شخصیات، سیاست دانوں، بڑے تاجروں اور روسی اولیگارک کے طیاروں کو ٹریک کرتے ہیں۔

یہ کیسے کام کرتا ہے؟

ان کا یہ نظام شوقیہ کام کرنے والوں کے ذریعہ جمع کردہ عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے۔ فضا میں طیارے باقاعدگی سے ان لوگوں کے بارے میں معلومات بھیجتے ہیں کہ وہ کہاں پرواز کر رہے ہیں، اور یہ کہ ان کے سگنلز زمین پر سستے ریسیورز استعمال کرنے والے لوگ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

طیاروں کو آن لائن ٹریک کرنے والوں کا یہ روز افزوں گروپ اوسنٹ (یعنی اوپن سورس انٹلیجنس) جیسی بڑی کمیونٹی کا حصہ ہے، جو ایسے لوگوں سے آباد ہے جو آزادانہ طور پر دستیاب آن لائن ڈیٹا کے بڑے پیمانے پر معلومات کے مجرمانہ، معلومات افروز یا محض سادہ دلچسپ ٹکڑوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ مختلف قماش کے لوگوں کا ایک گروپ ہے جس میں تھوڑی بہت دلچسپی رکھنے والوں سے لے کر سنجیدہ اور مستغرق محققین کے ساتھ پرعزم تحقیقاتی صحافی تک شامل ہیں۔

جیک سوینی اس وقت فلوریڈا کی سینٹرل یونیورسٹی میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی ڈگری کے تیسرے سال میں ہیں۔ انھوں نے کہا: ’در اصل میں نے اس صرف شوقیہ طور پر شروع کیا کیونکہ یہ مجھے دلچسپ لگا۔‘

وقت گزرنے کے ساتھ انھیں اس میں واضح مقصد نظر آنے لگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’شفافیت اور عوام کو معلومات دیے جانے کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں۔‘

اور اس میں ایک ماحولیاتی زاویہ ہے: ’پرواز والے (کاربن) کے اخراج کی خراب پی آر کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ان کے ڈیٹا کا ان مطالعات میں استعمال کیا گیا ہے جس میں ٹیلر سوئفٹ اور ان کے وفد کے بڑے کاربن فوٹ پرنٹ کو دکھایا گیا ہے۔ گلوکارہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے تازہ ترین دو دوروں میں اخراج کو کم کرنے کے لیے کافی کاربن آفسیٹس خریدے ہیں۔

لیکن ان معلومات کی فراہمی میں رازداری کے مسائل بھی ہیں۔ ٹیلر سوئفٹ نے اپنے وکلا کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نجی طیارے کے مقام کے انکشاف سے وہ اپنا پیچھا کرنے والوں کے خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

ٹیلر سوئفٹ
ٹیلر سوئفٹ بدھ کو ٹوکیو ڈوم میں پرفارم کر رہی تھیں

ٹیلر سو‏ئفٹ کا خط

واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے ان کا ایک خط سامنے آیا ہے جس میں گلوکارہ کے وکلا نے لکھا کہ ان کے ہوائی جہاز کی ٹریکنگ کرنا ’زندگی یا موت کا سوال‘ ہے اور یہ کہ ’اس معلومات میں کسی کی کوئی جائز دلچسپی یا عوامی ضرورت نہیں سوائے پیچھا کرنے، ہراساں کرنے، تسلط اور کنٹرول کرنے کے۔‘

جیک سوینی ان دعووں کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاپ سٹار کے طیارے کے محل وقوع کا پتہ لگانے میں بنیادی عوامی دلچسپی ہے۔ اس کا ثبوت خود سوفٹیز یعنی سوفٹ کے پرستار ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ان کے پرستار، جنھوں نے ٹیلرسوئفٹ جیٹ اکاؤنٹس اور سبریڈیٹ (ریڈٹ کے اندر ذیلی عنوانات) کو بڑھایا ہے وہ ان میں واقعی دلچسپی رکھنے والے ہیں۔ ان ٹریکنگ اکاؤنٹس میں زیادہ تر ان کے حامی اور پرستار ہوتے ہیں۔‘

اور ان کے عالمی دوروں اور متعدد عوامی پروگراموں جن میں حال ہی میں ان کی این ایل ایف گیمز میں شرکت کے پیش نظر یہ عام طور پر یہ جاننا کافی آسان ہے کہ ٹیلر سوئفٹ مستقبل میں کسی خاص وقت کہاں ہوں گی۔

مثال کے طور پر گذشتہ پندرہ دن کے دوران ان کی مصروفیات کے بارے میں متعدد کہانیاں شائع ہوئی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو اہم پرفارمنس کے درمیان کیسے سفر کر سکتی ہیں یعنی اگر ٹوکیو میں ان کا سنیچر کو نائٹ شو ہے اور لاس ویگاس میں اتوار کا سپر باؤل ہے تو وہ کیسے سفر کرتی ہیں۔

اس میں زیادہ تر عوامی معلومات ہوائی جہاز کے مقام سے زیادہ دلچسپ اور اہم ہیں۔ پرواز کے ڈیٹا سے یہ پتا چل سکتا ہے کہ طیارے کا مالک کون ہے اور یہ کہ کوئی طیارہ فضا میں کہاں پرواز کر رہا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس میں کون کون سوار ہے، یا یہ کہ اس میں سوار طیارے کہ اترنے کے بعد کہاں کا سفر کریں گے۔

لیکن ٹیلر سوئفٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ طیارے کی معلومات ان کی نقل و حرکت کے صحیح اوقات اور مقامات بتاتی ہیں اور یہ کہ حال ہی میں ان کا ایک مبینہ سٹاکر ان کے نیویارک کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مز سوئفٹ کی پبلسٹی کرنے والے ٹری پین نے ایک بیان میں کہا: ’ان کی پوسٹس آپ کو بالکل بتاتی ہیں کہ وہ کب اور کہاں ہوں گی۔‘

جیک سوینی بھی سٹار کو کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ وہ نرمی کے ساتھ یہ تجویز کرتے ہیں کہ اگر پرائیویسی ان کی اولین فکر ہے، تو وہ اپنے نجی جیٹ کو کسی گمنام کارپوریٹ ادارے کے ذریعے رجسٹر کرا سکتی ہیں اور کسی شناختی کوڈ کا انتخاب کر سکتی ہیں جس میں ان کی سالگرہ اور ابتدائی نام شامل نہ ہوں۔

ایلون مسک
ایلون مسک

’مزید کارروائی کا خطرہ نہیں‘

جیک سوینی کے وکیل جیمز سلیٹر کا کہنا ہے کہ انھیں امید نہیں ہے کہ ٹیلر سوئفٹ مزید کوئی قانونی کارروائی کریں گی۔

انھوں نے کہا: ’یہ خط جیک کو کچھ کرنے کی صورت میں ڈرانے کی کوشش تھی جس کا قانونی طور پر کوئی معنی نہیں ہے۔ بدقسمتی سے طاقت اور پیسے والے لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں۔

وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہا ہے۔‘

ٹیلر سوئفٹ کے وکلا سے اس بابت تبصرہ کرنے کی درخواست کی گئی تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کیا سوئفٹ کے پرستار تازہ ترین خبروں کے بعد بھی جیک سوینی کے اکاؤنٹس کو فالو کریں گے؟

قانونی خط کی کہانی کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کیس کے بارے میں آن لائن پر کافی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ اس میں جیک سوینی کی حمایت بھی شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ایسے جذبات کا بھی اظہار کیا گيا ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ کیا ’جیک سوینی ٹیلر سوئفٹ کو شہزادی ڈیانا کی طرح مروانا چاہتے ہیں۔ میں اسے جانے نہیں دوں‏ گا۔ میں بہت ناراض ہوں۔‘

لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے جب جیک سوینی امیر اور مشہور لوگوں کی طرف سے دباؤ کا شکار رہے ہوں۔

خیال رہے کہ ایلون مسک نے جب سنہ 2022 میں ٹوئٹر (اب ایکس) کو خریدا تھا تو انھوں نے اظہار رائے کی آزادی کے نام پر وعدہ کیا تھا کہ وہ جیک سوینی کے @elonjet ٹریکنگ اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔

لیکن پھر چند ہفتوں میں ہی ایلون مسک نے اپنا مؤقف تبدیل کر دیا اور اکاؤنٹ پر پابندی لگا دی اور مقدمہ کرنے کی دھمکی دی اور یہ دعویٰ کیا کہ @elonjet کے نتیجے میں ایک سٹالکر نے انھیں ٹریک کیا اور ان کے طیارے پر چڑھ گیا جبکہ ان کا چھوٹا بچہ اندر ہی موجود تھا۔

پولیس نے بعد میں ایلون مسک کی سکیورٹی ٹیم کے ایک رکن کو مشتبہ شخص کے طور پر شناخت کیا اور کہا کہ جیک سوینی کے اکاؤنٹ کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایلون مسک کا نجی طیارہ
ایلون مسک کا نجی طیارہ

ایلون مسک کی ٹریکنگ

جیک سوینی اب ایک ایسا اکاؤنٹ چلاتے ہیں جو ایلون مسک کے جیٹ کو 24 گھنٹے کی تاخیر سے ٹریک کرتا ہے، تاکہ ریئل ٹائم لوکیشن ٹریکنگ پر پابندی والے سائٹ کے اصول کی تعمیل کی جا سکے۔

وہ کم کارڈیشین، جیف بیزوس، بل گیٹس، مارک زکربرگ، ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر کی ملکیت والے طیاروں پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس پر کئی اکاؤنٹس بھی چلاتے ہیں۔

لیکن انھوں نے سوشل میڈیا کے قوانین پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میٹا نے ٹیلر سوئفٹ کے طیارے کو ٹریک کرنے والے ان کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو معطل کر دیا ہے، لیکن دیگر ہوائی جہاز سے باخبر رہنے والے اکاؤنٹس کو چھوڑ دیا ہے، ان میں وہ اکاؤنٹس بھی شامل ہیں جو مارک زکربرگ کے طیارے کو ٹریک کرتے ہیں۔

بی بی سی نے تبصرہ کے لیے میٹا سے رابطہ کیا ہے۔

دریں اثنا ڈسکارڈ سائٹ پر جیک سوینی کے سرور پر چیٹ کرنے والے طیاروں کے ٹریکرز نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے شوق کے لیے جوش و خروش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اور ان میں سے بعض نے تو یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ خود بھی ٹیلر سوئفٹ کے مداح اور پرستار ہیں۔

چیٹ میں ایک شخص نے کہا: ’مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی پاگل نے انھیں یوں ہی دھمکیاں دی ہوں گی۔ لیکن ایئرپورٹ کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں انھیں کوئی خطرہ ہو۔‘

اضافی رپورٹنگ گیرتھ ایونز


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31961 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments