بلوچ بچے کی ڈائری


اس دفعہ کوہ سلیمان کی سردیوں نے پانی کی طرح ہمیں بھی منجمند کر کے رکھ دی ہے۔ پہلے لکھنے پڑھنے کے بعد کچھ دیر باہر جانے کا موقع ملتا، اب کمرے میں بیٹھے سارا وقت گزر جاتا ہے۔ مگر کمرے میں روکنے کی وجہ سے کافی دلچسپ تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ کمرے میں پڑی چیزوں کا بہت نزدیک سے معینہ کرتا ہوں اور ان چیزوں پر لگے نشانات اور لکھے الفاظ مجھے میری بچپن کی یاد دلاتی ہیں مزید وقت گزارنے کے لئے کبھی کبھار پرانی کتب پر لگی دھول صاف کر لیتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ پرانے نوٹسز نکال کر ایک نظر دیکھنا کا موقع بھی مل جاتا ہے اور جو دلچسپ لگے اس کو پڑھ لیتا ہوں۔

اگر کوئی خیال اچھی لگے تو اس کو اپنی نئی ڈائری پر لکھ لیتا ہوں۔ کل حسب معمول بیٹھا الماری کے خانوں کے اندر جھانک رہا تھا اور اچانک کرسی کے پیچھے لگی شلیف میں کتابوں کی بغل میں پڑی پیلی کور کی پرانی ڈائری نظر آئی۔ اس کے دھول چٹانے کے بعد اس کو کھول کر بیٹھا گیا۔ اس میں کئی خوبصورت یادوں بھری ٹوٹی پھوٹی جملوں میں تحریریں پڑھنے کو ملی۔ اس کے ایک صفحے پر کچھ سوال لکھے نظر آئے۔ جو سکول کے زمانے میں لکھے تھے۔

جب بھی اخبار پڑھتے وقت ذہن میں جو خیال آتے ان کو لکھ لیتا تھا، اپنے لڑکپن کے سوالوں کو پڑھتے کافی لطف آیا، ان کی لفاظی کی درستگی کے بعد سوچا کہ ان میں سے کچھ آپ کے سامنے رکھ دوں۔ جو اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے آج کے حالات حاضرہ پر بھی ایک تنقیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ شاید ان معصومانہ سوالوں سے اس نظام کی خرابیوں کی طرف آپ کا توجہ مبذول ہو سکے اور شاید آپ بھی میری لڑکپن کے سوالوں کے طرح کچھ سوال لکھ لو اور ایک دن ہم سب اپنے سوالوں کو اکٹھا کر کے ان حکمران طبقہ کو اپنے سامنے بیٹھا کر پوچھنے کے قابل ہو جایں گے اور شاید اس نظام میں کوئی تبدیلی آئے۔ جس نظام میں اب غریب لوگوں کے لئے سانس لینی دشوار کردی ہے۔ اور جس کا کوئی حل نکل سکے۔ ویسے اب بھی میری عمومی طور پر یہی عادت ہے کہ پڑھتے وقت جو سوال ذہن میں آ جاتے ہیں ان کو روز اپنی ڈائری پہ لکھ لیتا ہوں اور ڈائری کو اپنے ساتھ رکھ کر باہر نکلتا ہوں اور صبح سے شام تک ان کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے اسلام آباد میں گھومتا رہتا ہوں۔ اکثر کے جواب آئی نائن میں بنی ماشاءاللہ ادبی ڈبے سے مل جاتے ہیں۔ مگر بچے کھچے کو یونی ورسٹی کے بستے میں ڈال کر یونی ورسٹی کے دوستوں کی سنگت میں بیٹھے نکال کر ان سے پوچھنے بیٹھ جاتا ہوں۔

اور اس سب کی کرنے کو میں اپنی صحافتی تجربہ کی بڑھوتری سمجھتا ہوں اور کبھی کبھار دوست کچھ سوالوں کے تسلی بخش جواب دے جاتے ہیں۔ مگر اکثر کے جواب کچھ اور سوالات ساتھ لے آتے ہیں۔ گتھیاں سلجھانے کے بجائے الجھتی رہتی ہے۔ اور ہمارے درمیان نہ ختم ہونے والی بحث اگلے دن کی ملاقات کے وعدے کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ تو ہاں اس صفحے کے سوالات کچھ یوں تھے

کہ کیا ایک شہری کی سوچ اتنی خطرناک ہے! کہ اس کی بندش کے لئے ریاست کو اتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس کے والدین کو پیسے کی لالچ دیے کر اس کو سکول بھجواتے ہیں۔ سکول میں اساتذہ کو پیسے کا لالچ دے کر اس کی سوچ پر کیچڑ پھنکواتا ہے۔ اور اٹھارہ سال کے ہوتے ہی اس پھر قانون کا پلندا دے مارتا ہے۔ اور اگر کوئی اس کے باوجود کچھ سوچنے کی جسارت کر لے۔ تو اس کو پاک قانون کے ذریعہ، جسم اور سانسوں کے رشتہ کو جدا کر دیتا ہے!

جس حکومتی ادارے کو قانونی اختیارات وسیع کردی جاتی ہیں وہ خود مختار کیوں بن جاتے ہیں؟

اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قانون کو اپنے اوپر بھی نافذ کر دیں تو قانون حقیقی معنوں میں با اختیار ہو جائے گا کہ نہیں؟

کیا اپنے شہروں کو گول روٹی کی گرد چکر لگتے رکھنا، ریاست کی کامیابی ہے یا ناکامی؟ حق اور سچ کی زندگی اس ریاست میں کم اور مشکل کیوں بنی ہوئی ہے؟ کیا اس پاکستان میں لالچ اور خوف کے علاوہ بھی کسی کی حکومت رہی ہے؟ کیا پاکستان پر لالچ کی وجہ سے چند لوگ حکمرانی کر رہے ہیں، یہ وہ عقل کل ہیں؟ کیوں آج کے لوگ عام انسان کی تنقید برداشت نہیں کرتے لیکن سردار کے کہنے پر قتل بھی معاف کر دیتے ہیں؟ انسان دوسروں کے جذبات کو اپنے ساتھ کیوں جوڑنا چاہتا ہے۔ اور دوسرے کے جذباتی ردعمل کو کیوں برداشت نہیں کرتا؟ ایک انسان دوسرے انسان کے کہنے پر تیسرے کو کیوں قتل کرتا ہے؟

بچی کا علاج نہیں کرواتے مگر بچے کی عیاشیوں کے لئے، خون پسینہ بہا دیتے ہیں؟
عورت کو الزام کی بنیاد پر قتل کر دیتے ہیں۔ لیکن سیاہ کار مرد کو جیل سے چھڑوا کر ہار پہنا دیتے ہیں

انسان اپنی تاریخ ہی پر کیوں فخر کرتا ہے۔ اور تاریخ پر تنقید کیوں برداشت نہیں کرتا؟ ووٹ کو عزت نہیں دیتے لیکن ریاست کو گالیاں نکالتے ہیں؟ خودکش حملہ آور کیوں آخری وقت بھی اپنے کان سردی سے بچانے کے لیے ٹوپی پہن کر نکلتے ہیں؟ قرآن کو خود نہیں پڑھتے لیکن چلتے پھرتے لوگ کو کیوں پڑھا رہے ہوتے ہیں؟ خود پیسہ کمانے میں لگے ہوتے ہیں دوسروں کو اگلے جہاں کے دلکش مناظر دکھاتے ہیں؟ گھر کے کام کو بے عزتی لیکن باہر کے واش روم تک صاف کر دیتے ہیں؟

جرابیں تو گندی پہناتے ہیں لیکن کپڑے استری کے بغیر نہیں پہنتے۔ بچوں کو سچ بولنے کا درس دیتے ہیں لیکن خود جھوٹ نہیں چھوڑتے۔ چاہتے حکومت ہیں مگر کرتے حکومت کی نوکریاں ہیں۔ بچوں کو امیروں کے سکول میں پڑھاتے ہیں۔ لیکن خود ان کو نوکری کا درس دیتے ہیں۔ صبح بچوں کو مدرسہ میں عربی تلفظ درست کرنے بھیجتے ہیں۔ لیکن شام کو انگریزی گرائمر سکھاتے ہیں۔ اب آپ بتاؤ اس دوغلے معاشرے کی ترقی کس طرح ممکن ہو سکتی ہے؟

Facebook Comments HS