برلن میں 11 فروری کو دوبارہ انتخابات کی دلچسپ کہانی
11۔ فروری 2024 کو، برلن کے 2256 انتخابی حلقوں کے 455 حلقوں میں، قریباً ساڑھے پانچ لاکھ ووٹرز، ایک بار پھر، 26 ستمبر 2021 کو منعقدہ وفاقی انتخابات، جس کے نتیجے میں 8 دسمبر 2021 کو موجودہ سہ جماعتی مخلوط حکومت بنی تھی، کے دوبارہ انتخابات میں، حصہ لے رہے ہیں۔
ان انتخابات کے نتیجے میں کسی قسم کی حکومتی یا سیاسی تبدیلی نہیں آئے گی۔ البتہ متعلقہ انتخابی حلقوں میں جو امیدوار ستمبر 2021 کے انتخابات میں جیت کر، جرمن پارلیمان میں پہنچے تھے اور اگر وہ اس بار دیگر انتخابات میں ہارتے ہیں تو ان کو وفاقی پارلیمان سے اپنا بوریا بستر سمیٹنا ہو گا۔
اس بات کا قوی امکان ہے کہ ستمبر 2021 کے انتخابات میں ڈائریکٹ جیتے ہوئے اراکین قومی اسمبلی، جماعتی لسٹوں میں اونچی پوزیشنوں میں لکھے جانے کی وجہ سے، برلن کے باردیگر انتخابات میں ممکنہ شکست کے باوجود، اپنی رکنیت بحال رکھ سکیں گے۔
جرمن انتخابی نظام میں، ہر ووٹر کو، دو لسٹوں پر نشان لگانا ہوتا ہے یعنی اس کے دو ووٹ ہوتے ہیں :
ایک لسٹ میں اس انتخابی حلقے کے تمام امیدواروں کے اور دوسری لسٹ میں اس حلقے میں انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کے نام لکھے ہوتے ہیں۔
اسی طرح ہر سیاسی جماعت اپنے امیدواروں کو انتخابی حلقوں کے لئے ڈائریکٹ نامزد کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے امیدواروں کے نام، ایک لسٹ میں پوزیشن کے لحاظ سے لکھ کر، انتخابات کی تاریخ سے پہلے، وفاقی انتخابی قوانین کے مطابق ریٹرننگ افسر یا انتخابی کمیشن کو بھیجتی ہے۔
انتخابات کے بعد ، سیاسی جماعتیں اپنے نتائج (حاصل کردہ فی صد ووٹ ) کی روشنی میں، صرف لسٹوں ہی میں لکھی گئی پوزیشنوں کے مطابق، جماعتی اراکین کو، پارلیمان میں بھیجنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ جرمن پارلیمان میں تقریباً نصف اراکین، ڈائریکٹ منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ باقی اراکین، سیاسی جماعتوں کی لسٹوں کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔
وفاقی پارلیمان (Bundestag ) میں، سیاسی جماعت کو ایک گروپ ( فریکشن) کی حیثیت کے لئے کم از کم 5 فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ 5 فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کے اراکین، رکن بطور فرد واحد تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے حقوق و مراعات محدود ہوتے ہیں۔
26 ستمبر 2021 کے انتخاب کے دوران، برلن کے مندرجہ بالا انتخابی حلقوں میں بہت سے ووٹروں کو قطاروں میں کھڑے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ ووٹر لسٹیں غلط تھیں یا بالکل دستیاب نہیں تھیں۔ پولنگ اسٹیشنز کو قبل از وقت بند کر دیا گیا یا ان کو اختتامی وقت شام 6 بجے کے بعد خلاف قانون کھلا رکھنا پڑا تھا۔
نومبر 2022 میں وفاقی پارلیمان نے، موجودہ مخلوط حکومت کے ووٹوں سے، برلن کے 524 انتخابی حلقوں میں انتخابات دوبارہ کرانے کا عندیہ دیا لیکن وفاقی آئینی عدالت (Bundesverfassungsgericht) نے دسمبر 2023 میں مزید 31 انتخابی حلقوں کو باردیگر انتخابی عمل میں شامل کرنے اور 60 دن کے اندر برلن میں، حکومت کو انتخابات دوبارہ منعقد کروانے کا پابند کیا تھا۔
جرمن عدالتی نظام کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ، وفاقی آئینی عدالت نامی عدالت عظمیٰ کے علاوہ مزید چار دوسری اعلیٰ عدالتیں بطور عدالت عظمیٰ کام کرتی ہیں۔
عام دائرہ اختیار کی صوابدید کے لئے Bundesgerichtshof یعنی وفاقی عدالت ہے۔
فیڈرل لیبر عدالت (Bundesarbeitsgericht ) ، لیبر قوانین کی عدالت عظمیٰ ہے۔ سماجی دائرہ اختیار کی عدالت عظمیٰ ( Bundessozialgericht) ہے۔ انتظامی صوابدید کی (Bundesverwaltungsgericht) ہے جبکہ مالیاتی ٹیکسز کے لئے جرمنی میں بطور عدالت عظمیٰ Bundesgerichtshof کرتا دھرتا ہے۔


