کیا انتخابات کے بعد ہم آگے بڑھ پائیں گے؟
دنیا میں ریاستیں خود کو فلاحی ریاست کہلوانے کی تگ و دو میں ہیں۔ اس غرض سے وہ عوام کو زندگی کی تمام سہولتیں دینے کی کوشش کرتی ہیں اور حکومتی اخراجات کم سے کم رکھتی ہیں۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ ممالک میں حکومت اور انتظامیہ کے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہوتی ہے۔ امریکہ جیسے بڑے ملک کی کل کابینہ 26 افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ نائب صدر، پندرہ محکمہ جاتی سربراہ، اور دس کابینہ سطح کے وزیر۔ یہ افراد اس عظیم ملک کا سارا انتظام سنبھالتے ہیں۔
انگلستان میں یہ تعداد پندرہ ہے۔ چین میں چھبیس، جاپان میں سات ہے۔ کینیڈا میں پچیس، آسٹریلیا میں بیس، جنوبی کوریا میں پندرہ، یہ سارے ممالک وہ ہیں جن کے وسائل ہم سے لاکھوں گنا زیادہ ہیں۔ ان ممالک میں بیوروکریسی کی تعداد بھی اتنی کم ہے کہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ جبکہ ان ممالک میں اسٹبلشمنٹ نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ ان ممالک کے مقابلے میں پاکستان کو رکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ کھربوں کے قرض ملکی اور غیرملکی لے لے کر وزیروں، مشیروں، معاونین، لاکھوں کی تعداد میں افسر شاہی اور لاکھوں کی تعداد میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افراد کو وہ تعیشات دے رہے ہیں جن کا تصور بھی ترقی یافتہ دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
ان تمام ممالک میں حکومت کا کوئی بھی بندہ سرکاری مراعات اپنے ذات کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ دوران ڈیوٹی ایک سرکاری گاڑی ان کے استعمال میں ہوتی ہے جو ڈیوٹی کے دورانیے کے بعد ان کو میسر نہیں ہوتی۔ ان کو اور کے بچوں کو نہ تو کوئی فری ٹکٹس ملتے ہیں اور نہ ہی ان کے گھروں کے کرائے اور یوٹیلٹی بل حکومت کے خزانے سے دیے جاتے ہیں۔ یہ تفریحی دورے اپنے خرچوں پر کرتے ہیں۔ اور ایک ایک پائی جو ان کے پاس ہوتی ہے اس کا حساب دیتے ہیں۔
یہ اپنے منصب کو کسی بھی ذاتی یا تجارتی مقصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ ان کو کوئی ترقیاتی فنڈ نہیں دیا جاتا۔ یہ تمام لوگ ان ممالک کے قوانین کے دائرے میں رہ کر ان ممالک کے نظام کو چلاتے ہیں۔ جب ان ممالک میں انتخابات ہوتے ہیں تو اس میں یہ کسی سرکاری سہولت کا استعمال نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ اپنے انتخابات پر پیسہ خرچ کر سکتے ہیں۔ یہ سب اخلاقی اور قانونی دائرے کے اندر رہتے ہیں۔ جس دن یہ کوئی غیر اخلاقی یا غیر قانونی کام کرتے ہیں ان کو ان کے ملکوں کے قوانین کے تحت پکڑ کر سزا دی جاتی ہے۔
عام شہریوں کے نسبت ان ممالک کے حکومت میں موجود افراد کے لیے ضابطہ اخلاق بہت سخت ہے۔ اس وجہ سے یہ ممالک مسلسل ترقی کے راستے پر گامزن ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں جتنے مراعات کا تصور کیا جاسکتا ہے اس سے زیادہ یہاں کے حکومت کرنے والوں، افسر شاہی اور نادیدہ قوتوں کو حاصل ہیں۔ جو بھی یہاں اقتدار میں آتا ہے وہ تاحیات ان مراعات کا اہل ہوتا ہے۔ حکومت اور عہدے سے فارغ ہونے کے بعد بھی ریاست ان کی عیاشیوں، گھروں اور اولاد اور زمینوں کے خرچے اٹھاتی ہے۔
یہ سارے اخراجات پورے کرنے کے لیے جو بھی سیاسی حکومت ہوتی ہے وہ دوسرے ملکوں اور ملکی بنکوں سے قرضے لیتی ہے۔ بدانتظامی کی یہ حالت ہے کہ یہاں پی آئی اے، ریلوے، سٹیل مل اور ہر ادارہ خسارے میں ہے۔ جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ چن چن کر منافع بخش ادارے اونے پونے بیچ دیتا ہے۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ سڑک سے لے کر ایوان اقتدار تک بھتہ خواری کا بازار گرم ہے۔ عدالتوں میں انصاف لینے کے لیے لاکھوں افراد رل رہے ہیں۔
تعلیم اور صحت کا نظام دنیا کی بدترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ شہری بد انتظامی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اب کوئی بھی شہر رہنے کے قابل نہیں رہا۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ کہ پاکستان کے بیشتر شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہے۔ بیروزگاری ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے۔ ملک کے معدنی وسائل پر مافیاز کا قبضہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہاں کچھ بھی ایسا نہیں ہے کہ اسے امید افزا کہا جا سکے۔
اس پر مستزاد یہ کہ قدرت بھی مہربان نہیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ملک میں ہر برس چھوٹی بڑی تباہی آتی ہے اور اس ملک کے باسیوں کو مزید غربت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اس ملک کی اشرافیہ یہاں کے وسائل لوٹ کر عرب ممالک اور دنیا کے دیگر خطوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس ملک میں دوائی سے لے کر خوراک تک ذخیرہ اندوزوں کے اختیار میں ہیں جب چاہتے ہیں قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، مہنگائی یہاں دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
ایسے میں یہاں کے ہر انسان کی ایک ہی خواہش ہے کہ یہاں کوئی ایسا حکمران آئے۔ جو اس ملک کو بھی دوسرے ممالک کی طرف اشرافیہ کی چنگل سے نکال کر ترقی کی راہ پر لگائے۔ اب تک جتنے بھی حکومتیں آئیں ان کے ماضی کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ اس وہ قابل نہیں ہیں۔ اس ملک میں کرپشن ہر نئی حکومت کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اور لوگوں کی زندگی مشکل تر ہوتی جاتی ہے۔
اس لیے ان سے امید لگا لینا بے کار ہے۔ ہمارے جیسے حالات کسی زمانے میں چین اور دیگر ممالک کو بھی درپیش تھے۔ ان ممالک نے جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ افراد اور اداروں کے تمام غیر ضروری اخراجات اور مراعات ختم کر دیں۔ ملک میں سرکاری مشنری کے بجائے نجی سطح پر کاروباروں کو ترقی دینا شروع کر دیا۔ جنگوں اور پنگوں سے خود کو دور کیا۔ ملک میں تعلیم پر سب سے زیادہ وسائل خرچ کیے۔ زراعت اور سائنس دونوں کو ترقی دینا کا انتظام کیا۔ اور احتساب کا بہت ہی کڑا معیار مقرر کیا۔ دنیا کے ساتھ تجارتی روابط پیدا کیے۔ اور اپنے وسائل کا حقیقی استعمال شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں یہ ممالک ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں اتنی ترقی کر گئے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ حالیہ مثال بنگلہ دیش اور ویتنام کی ہے۔ ان دونوں ممالک نے بھی تمام غیر ترقیاتی اخراجات زیرو کر دیے اور اپنے جی ڈی پی کا دس سے پندرہ فیصد تعلیم پر خرچ کرنا شروع کر دیا۔ خواتین کو کام اور کاروبار میں شریک کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ مفلوک الحال ممالک اب تیزی کے ساتھ ترقی کے زینے طے کر رہے ہیں۔
ان کی فی کس آمدنی میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ ان ممالک کے نوجوان جدید تعلیم کی بدولت دنیا بھر سے قیمتی زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ یہ دونوں ممالک کپڑے اور چمڑے کے مصنوعات بنا بنا کر دنیا بھر میں بیچ رہے ہیں۔ اب ترقی یافتہ دنیا بنگلہ دیش کے کپڑے پہنتی ہے اور ویت نام کے جوتے پہنتے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ ان اقوام نے ملکی وسائل حکومتی اور افسرشاہی کے عیاشیوں کی جگہ تعلیم، صحت اور عوام پر خرچ کرنا شروع کیے۔
اب ان ملکوں میں ایک ہی حکومت چند وزیروں کے ساتھ اتنی با اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنے ملک کے اندر ملک کے قوانین اور وسائل پر قبضہ جمانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اب ہندوستان بھی ان کی تقلید میں ایسا کر رہا ہے۔ افغانستان جیسے ملک میں طالبان کی عبوری حکومت نے تمام غیر ضروری اور غیر ترقیاتی اخراجات کنٹرول کر کے جس تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے کیا وہ کسی سے پوشیدہ ہے۔ افغانستان میں چند ہزار رضاکاروں نے قانون کے نافذ کا جو انتظام کیا ہے اسے دیکھ کر کیا ہمارے لاکھوں افسران جو اربوں روپے کے مراعات لیتے ہیں کو شرم نہیں آتی۔
آپ کراچی سے پشاور تک سفر کریں۔ راستے میں پولیس کہیں نہ کہیں بھتہ لیتی ہے۔ یعنی آپ اپنے ملک میں بھتہ دیے بغیر سفر نہیں کر سکتے۔ اس ملک میں انتظامیہ فٹ پاتھ تک بیچ دیتی ہے۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں عطائی بھتہ دے کر لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ لاکھوں افغانیوں کو پاکستانی پاسپورٹس چند ہزار روپے کے عوض دیے جاتے ہیں۔ یہاں ہر غنڈا بدمعاش اور سیاست دان کے پاس اتنا اسلحہ ہے کہ دنیا میں جو پرائیویٹ آرمی ہیں وہ بھی اس کا تصور نہیں کر سکتے۔
آپ کسی شادی پر جائیں وہاں آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ یہ ریاست کس کی ہے۔ وہاں آپ ہزاروں کلاشنکوف بردار دیکھیں گے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو ان لوگوں کے شخصی غلاموں کی طرح خدمت کرتے دیکھیں گے۔ سینکڑوں سرکاری گاڑیاں ان گنے چنے افراد کی خدمت کے لیے حاضر ہوتی ہیں اور یہ افراد ان شادیوں میں لاکھوں روپے ہوا میں اس طرح اچھال دیتے ہیں جیسے یہ کاغذ کے ٹکڑے ہوں۔ اب تو شادیوں میں ان افراد کے بچوں کو کروڑوں روپے کی سلامی بھی دی جاتی ہے۔
ایسے ملک میں انتخابات ہوئے ہیں۔ حکومت میں آنے والے سارے پرانے چہرے ہیں۔ جو صرف ان مراعات اور عیاشیوں کے لیے جان لڑا کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں۔ ان کی مدد اور خدمت کے لیے بیوروکریسی ہاتھ باندھے تیار ہے۔ کیا ایسے میں یہ لوگ غیر ترقیاتی اور اضافی اخراجات ختم کرسکیں گے۔ کابینہ کا حجم کم کرسکیں گے۔ سرکاری خزانے پر عیاشیوں کا بوجھ کم کرسکیں گے۔ ملک کی ترقی کے لیے کوئی منصوبہ بندی اور عملی کام کرسکیں گے۔ کیا عدالتوں میں انصاف میسر ہو گا۔
کیا سڑکوں سے لے کر ایوانوں تک جو بھتہ خوری ہے اس کا خاتمہ ہو سکے گا۔ کیا تعلیم اور صحت کے لیے بجٹ کا چار سے پانچ فیصد مختص ہو سکے گا۔ کیا افغان مہاجرین کو اس ملک سے اپنے ملک بھیجا جا سکے گا۔ کیا اپنے ملک کے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کرنے کا کوئی انتظام ہو گا۔ یا پھر ماضی کی طرح ٹی وی کی سکرین سے لے کر سپریم کورٹ تک میں ہم ان کے ڈرامے دیکھیں گے۔


