عام انتخابات 2024، ایک عوامی ریفرنڈم مگر کس کے خلاف؟


عام انتخابات 2024 کے انعقاد کے بعد ملک میں حکومت سازی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس بار بھی 2018 کے عام انتخابات کی طرح کوئی بھی سیاسی جماعت سادہ اور واضح اکثریت سے کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے، لہذا ایسے میں مخلوط حکومت کی تشکیل ریاست کا مقدر ٹھہرا ہے۔ 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کے عمل میں برتی گئی تاخیر کی وجہ سے انتخابات کی شفافیت مشکوک ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ انتخابات کس حد تک آزادانہ اور شفاف ہوئے ہیں اس حوالے سے بہت کچھ کہا اور دکھایا جا رہا ہے لیکن انتخابات کے نتائج کے حوالے سے میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر جو تجزیے پیش کیے جا رہے ہیں وہ سطحی ہی نہیں بلکہ غیر سنجیدہ بھی ہیں۔

ایک جانب انتخابات کے پورے عمل بالخصوص انتخابی نتائج کے عمل کو مشکوک بنانے کی گردانیں ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ان ہی نتائج کی بنیاد پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی مقبول جماعت یا قیادت جیسے یہی ہو۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علماء اسلام (ف) جیسی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو ۔

ڈی گریڈ کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں اور قیادت کی کرپشن کی کہانیاں اپنی جگہ موجود ہیں، اسی طرح جہاں تک کارکردگی کی بنیاد پر کسی بھی جماعت کو ووٹ پڑنے کا معاملہ ہے تو ایسے میں پیپلز پارٹی سندھ میں اور پی ٹی آئی خیبر پختون خوا اور پنجاب میں اس قدر کامیابی حاصل نہیں کر پاتی جو اسے ان انتخابات میں نصیب ہوئی ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کی بات ہے تو وہ بھی اتنی متاثر کن نہیں ہے کہ وہ کسی بھی انتخابات میں سادہ اور واضح اکثریت حاصل کر پاتی۔ تو پھر ایسا کیا ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتائج کچھ اس طرح سے سامنے آئے ہیں جو نہ صرف نئی بننے والی حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ملکی سیاسی قیادت کو بھی لاچار ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے ہے جس پر اس مضمون میں بحث مقصود ہے۔

سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہو جائے کہ ملک میں بننے والی نئی مخلوط حکومت اس قدر کمزور اور اپاہج ہوگی کہ وہ ملک کو درپیش سیاسی و معاشی چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر پائے گی، یعنی نئی حکومت بھی ریاستی امور ایڈ ہاک ازم کے تحت چلانے پر مجبور ہوگی۔ اس کا سیدھا اور سادہ سا مطلب یہی ہوا کہ نئی مخلوط ہکو مت اس صلاحیت سے محروم ہوگی جو ملک میں جاری سیاسی معاشی عدم استحکام کو ختم کرسکے، یعنی ملک میں جاری سیاسی و معاشی بحران اپنی جگہ جوں کا توں موجود رہے گا جبکہ یہ بحران شدت بھی اختیار کر سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو نئی مخلوط حکومت کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے اس امر کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

آخر حالیہ انتخابات کو کس کی ناکامی یا کامیابی سے تعبیر کیا جائے۔ ایسے میں حالیہ عام انتخابات کی شفافیت اور غیر جانب داری کے حوالے سے کوئی ایک حتمی رائے قائم کرنا بھی ضروری ہو گا، بصورت دیگر ان انتخابات کی ایک ”گیم تھیوری“ سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں ہوگی جو ممکنہ طور پر مقتدرہ قوتوں کی جانب سے رچائی گئی ہوگی۔

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ حالیہ عام انتخابات آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف ہوئے ہیں تو انتخابات کے نتائج کے تناظر میں کس طرح کا تجزیہ کیا جائے گا اور کوئی رائے قائم کی جائے گی۔ جہاں تک ملکی نجی نیوز چینلز کا تعلق ہے تو اس پر بحث ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ حالیہ انتخابات سابق وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی فکر کے حامیوں اور مخالفین کا معاملہ ہے اس لیے ان انتخابات میں پی ٹی آئی کے نمائندوں نے اپنے انتخابی نشان بلے کے بغیر آزاد حیثیت میں حصہ لیا اور بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے۔

اگر اس بحث کو حقیقت تسلیم کر لیا جائے تو پھر عمران خان مخالف ووٹ زیادہ پڑا ہے جو بلا شبہ مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہو کر پڑا ہے لیکن پڑا ضرور ہے۔ لہذا اس دلیل کی روشنی میں یہ مفروضہ تو اپنی موت آپ مر گیا کہ یہ انتخابات کسی کے حامیوں یا مخالفین کا معاملہ تھا۔ لیکن یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں جو بیان کی گئی اور اپنی موت آپ مر گئی تاہم اس بحث کا یہ پہلو ضرور معدوم ہو گیا کہ یہ انتخابات کسی کی سیاسی فکر کی فتح اور شکست کا مسئلہ تھا، یعنی یہ معاملہ کسی صورت سیاسی مسئلہ یا معاملہ نہیں تھا جس میں عمران خان کو فتح یا نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری جیسی دیگر سیاسی قیادت کو شکست ہوئی ہو۔ تو پھر کیا معاملہ ہو سکتا ہے٫۔ ؟

حالیہ انتخابات کے نتائج کے تناظر میں جو تجزیہ کیا جاسکتا ہے اسے ہر صورت سیاسی و معاشی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی اعتبار سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک سیاسی و معاشی پہلوؤں کی بات ہے تو یقیناً سیاسی قوتوں کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کو پرکھا جائے گا جس میں اخلاقی اور نفسیاتی پہلو بھی نمایاں ہوں گے اور اس طرح ایک واضح سماجی پہلو ابھر کر سامنے آئے گا۔ حالیہ انتخابات سے پہلے یا پھر 2018 کے عام انتخابات کے دوران جس طرح کا سیاسی سماج تشکیل دیا جا رہا تھا اور اس نئے سیاسی سماج میں جس طرح کی روایات اور اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کی گئیں تھیں وہ ابھی سنجیدگی کے معیار کو پہنچ بھی نہیں پائی تھی کہ اسے ریورس گیئر لگا کر یک دم پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی، یعنی نابالغ سیاسی فکر اور نا پختہ بیانیوں کی بنیاد پر پہلے ایک نیا سیاسی سماج تشکیل دیا گیا اور پھر اسے یک دم معدوم کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

ایسے میں یقیناً ایک ایسا سیاسی سماج ہی باقی رہ سکتا ہے جو ”خود رو“ تحریکوں کی مانند ہوتے ہیں، لہذا کسی بھی سیاسی سماج کی تشکیل یا تبدیلی کے لیے جو محنت اور کوششیں کی جاتی ہیں، اگر ایسے سیاسی سماج کا خاتمہ بھی لازم ہو تو اس کے لیے بھی اتنی ہی محنت اور کوششیں درکار ہوتی ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو نیا سیاسی سماج تشکیل دینے والوں سے اوجھل ہو گیا اور اس کا عملی مظاہرہ عام انتخابات 2024 کے نتائج کی صورت میں دیکھا گیا۔ تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ انتخابات کسی بھی سیاسی قوت کے حامیوں اور مخالفین کا معاملہ ہے۔

تو پھر آخری بات جو تجزیہ بن کر ابھرتی ہے وہ یہی کہ حالیہ انتخابات کو در اصل ایک ”ریفرنڈم“ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جس کے نتائج ملک کی مقتدرہ قوتوں یعنی ”اسٹیبلشمنٹ“ سے اظہار بیزاری کرتے ہیں اور تقاضا کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست سے خود کو مکمل طور پر الگ کر لیں۔ جہاں تک اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کی بات ہے تو یہ بات بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ ملکی سیاست میں اب بھی اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ باقی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments