مذہبی جماعتوں کی عبرتناک شکست دین سے دوری کا نتیجہ ہے؟
آٹھ فروری 2024 کو عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر دیا، جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
اب رہی یہ بحث آیا کہ ماضی کی طرح حالیہ انتخابات بھی عوام کی آنکھوں میں جمہوریت کے نام پر دھول جھونکنے کا ایک پری پلان ڈرامہ تھا یا موجودہ انتخابات جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے صاف شفاف بنیادوں پر منعقد ہوئے ہیں؟
اس قسم کی بحث کا تو خیر کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ ہمارے ہاں کا چلن ہی کچھ ایسا ہے اور ماضی کی تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ہر منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد ”دھاندلی دھاندلی“ کا شور تو مچتا ہی ہے اور ہارنے والی جماعتیں ایک دوسرے پر نجانے کیسے کیسے الزامات لگاتی ہیں۔
گزشتہ انتخابات کے متعلق بھی اکثریت کا یہی موقف تھا کہ ایک ”شخص“ کو عالم اسلام کا رہنما یا ہیرو بنانے کے لیے ایک بندوبست کے تحت الیکشن کے نتائج میں رد و بدل کیا گیا اور ”آ ر ٹی ایس“ میں تعطل پیدا کر کے رات گئے نتائج تبدیل کیے گئے اور تحریک انصاف کو برتری دلائی گئی تھی۔
ان الزامات کو اس وقت کی اکثریتی پارٹی یعنی تحریک انصاف نے رد کر دیا تھا۔
اب حالیہ انتخابات میں بھی اسی پیٹرن کو دہرایا گیا اور نتائج ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔
موجودہ نتائج پر بھی ہارنے والی جماعتوں کی طرف سے وہی راگ الاپا جا رہا ہے
” دھاندلی ہوئی ہے اور نتائج تبدیل کیے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ“
عوام نے تو ووٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کر دیا اب مقتدرہ یا خداوندان نظام ان کی رائے کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں کون جانے؟
یا تہہ نظام تماشا کیا ہے جو 1947 سے چلتا آ رہا ہے؟
وہاں تک جانے میں تو ہم ایسوں کے پر جلتے ہیں کیونکہ ہم ٹھہرے شودر یا بھولے بھالے عوام، ہمارا مقتدرہ کی باریکیوں سے کیا لینا دینا؟
ہمارا کام تو ووٹ ڈالنا ہے اور چلتے بننا ہے، باقی کا کام تو وہی کریں گے جو شروع دن سے کرتے آ رہے ہیں۔
جو ہونا تھا ہو گیا لیکن حالیہ انتخابات کی سب سے دلچسپ بات جس پر غور کرنا بہت ضروری ہے کہ لوگوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو تو چار و ناچار ووٹ ڈالنا گوارا کر لیا لیکن مذہبی جماعتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ووٹ دینا تو بہت دور کی بات ہے۔
ان انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو انتہائی عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایک بڑی مذہبی جماعت جس کا شروع دن سے ایک سلوگن کے طور پر یہ دعویٰ ہوتا ہے جس کا اظہار وہ ہر الیکشن میں کرتے ہیں۔
حالیہ انتخابات میں بھی ان کے پینا فلیکس پر یہ نعرہ درج تھا
” حل صرف جماعت اسلامی“ جی ہاں! وہی جماعت اسلامی جس کے سربراہ سراج الحق ہیں جو خود بھی بری طرح سے ہارے اور جماعت کا تو خیر اتا پتا ہی نہیں ہے۔
منافقت کا یہ عالم ہے کہ خود جماعتی افراد بھی اپنے امیدوار کو ووٹ دینا پسند نہیں کرتے بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں کو ووٹ ڈالتے ہیں۔
ہمارے علاقہ میں بھی یہی ماجرا ہوا ہے، جماعتی صالحین نے اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت کا امیدوار چند ووٹ ہی حاصل کر پایا۔
منافقت اور بے شرمی کا یہ منظر نامہ ہر مذہبی پارٹی میں تقریباً ایک سا ہی ہے اور اس قسم کے منافقانہ کلچر کو ہر مذہبی پارٹی کے ”بڑے“ بھی بخوبی جانتے ہیں۔
جماعتی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے امیدوار بھی چن لیتے ہیں اور اندر ہی اندر جیتنے والے گھوڑوں سے ساز باز بھی کر لیتے ہیں۔
تحریک لبیک کو دیکھ لیں، خود سعد رضوی اپنی نشست نہ بچا پایا۔
آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ ان کو ووٹ دینا پسند نہیں کرتے؟ مولانا فضل الرحمن المعروف ”غیبی امداد“ والے بڑی مشکل سے اپنی ایک سیٹ بچا پائے اور دوسری نشست پر علی امین گنڈاپور سے، جن کے متعلق عمومی رائے دستور کی شق 62 اور 63 سے مطابقت نہیں رکھتی، سے بری طرح ہار گئے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے ایک عیاش کو ووٹ دینا تو گوارا کر لیا لیکن صاحب تقوی و طہارت مولانا فضل الرحمان کو نہیں؟
علی امین گنڈا پور کے متعلق بیڈ کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی تو مذہبی فہم رکھنے والوں نے ہی جاری کر رکھا ہے ہمیں ان کی ذات یا نجی زندگی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ہماری نظر میں تو کسی کی ذاتی زندگی میں تانک جھانک کرنا بداخلاقی ہے اور پست ذہنیت کی رزیل ترین شکل ہے۔ لیکن جینوئن سوال تو بنتا ہے نا! کہ ایک ایسا شخص جو مذہبی نظروں میں راندہ درگاہ یا شیطان ہے وہ تو عوامی نظروں میں معتبر ٹھہرے اور الیکشن جیت جائے اور مد مقابل جو کہ رجسٹرڈ فرشتہ صفت ہو بری طرح سے ہار جائے تو سوالات تو کھڑے ہوں گے نا! ؟
حالانکہ مولانا فضل الرحمن کے اوپر تو سایہ تبلیغی جماعت بھی ہے۔
جی ہاں! وہی جماعت جن کا حج کے بعد دوسرا بڑا تبلیغی اجتماع ہوتا ہے پھر بھی خاطرخواہ کامیابی سے کوسوں دور کیوں؟
آخر کیا وجہ ہے بڑی بڑی مساجد و مدارس کے یہ مالکان عوامی رائے کو اپنی طرف کرنے میں ناکام کیوں رہ جاتے ہیں؟ جلسے جلوسوں میں ان کا مجمع لاکھوں میں ہوتا ہے، پریشر گروپ کے طور پر سڑکیں بلاک کرنا، سپریم کورٹ کے آگے دھرنا دینا اور اپنی بات زور زبردستی یا ڈنڈے کے زور پر منوانے کے لیے ریاست کو گھٹنے تک ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں مگر حیرت ہے الیکشن میں خدا اور رسول کے واسطے دینے کے باوجود بھی عوامی شعور کو اپنی طرف کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیوں؟
ہم تو وارثان دین و منبر کو یہ طعنہ بھی نہیں دے سکتے کہ ان کی شکست کی سب سے بڑی وجہ ان کی دین سے دوری ہے۔ کیونکہ یہ تو خود ہی دین کے داعی ہیں اور نجانے کب سے اس کے تحفظ کا علم تھامے ہوئے ہیں۔
ہم دنیا دار تو ضرور دین سے دور ہو سکتے ہیں یا بھٹک سکتے ہیں یا گمراہ ہو سکتے ہیں لیکن یہ تو خود وارثان دین ہیں یہ بھلا کیسے بھٹک سکتے ہیں؟ تحریک لبیک والوں نے تو حضور اقدس ﷺ کے نام پر عوام سے ووٹ کا مطالبہ کیا جبکہ فضل الرحمان گروپ نے قرآن کریم کے نام پر ووٹ مانگے لیکن عوام کے دلوں کو پگھلانے میں ناکام رہے، کیا اس قسم کی بیچارگی والی پوزیشن یا کیفیت مذہبی جماعتوں پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟
کہیں لوگ ان کے رویوں کی وجہ سے دین سے دور یا بیزار تو نہیں ہونے لگے ہیں؟
ہر مذہبی جماعت کو اپنے تئیں اس سنجیدہ سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو گا ورنہ پھر داستان تک نا ہوگی داستانوں میں۔


