سیاسی شعور یا نوجوان نسل کی بربادی
سیاسی شعور کے نام پر پاکستانی نسل کو جس طرح معاشرتی اور اخلاقی طور پر تباہ جا رہا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ آج سے چند سال پہلے تک لوگ سیاسی طور پر اتنے باشعور نہیں تھے لیکن سیاسی نظریات پر دلائل کے ساتھ سامنے والے سے بات کرتے تھے۔ ان کی باتوں میں بحث ہوتی تو آس پاس کے موجود لوگ ان کی گفتگو کو غور سے سنتے اور مسحور ہوتے چاہے وہ غیر تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔ گفتگو میں ادب کو مرکوز خاطر رکھا جاتا تھا۔ سیاسی اختلاف کے باوجود مخالف جماعتوں کے کارکنوں کے ساتھ گفتگو میں عزت و احترام کا دامن نہیں چھوڑا جاتا تھا۔
لیکن اس کے برعکس آج کی نسل زیادہ تعلیم یافتہ اور ملکی سیاست میں بہت گہری دلچسپی رکھنے لگی ہے۔ لیکن کیا ہم بحیثیت پاکستانی قوم سیاسی طور پر باشعور ہو رہے ہیں؟ یا اپنی نسلوں کو سیاسی شعور کے نام پر اخلاقی اور تہذیبی طور پر برباد کر رہے ہیں۔ کیوں کے گزشتہ چند سالوں میں سیاسی اختلافات نے نہ صرف ہماری سوسائٹی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی عدم برداشت اور گھٹیا زبان کے بے جا استعمال کا ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔
آج کے دور میں سیاسی کارکن مخالف جماعت کے کارکن کی بات کو سمجھنے اور ڈائل سے بات کرنے کے بجائے گالم گلوج مار پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس عدم برداشت کی اصل وجہ ہماری سیاسی قیادت ہیں۔ جو سیاسی شعور کے نام پر ہماری نوجوان نسل کو اخلاقی اور تہذیبی طور پر تباہ کرنے کی اصل ذمہ دار ہے۔ بطور سیاسی لیڈر جب کارکن اپنی لیڈر شپ کو مخالف جماعت کی قیادت کے خلاف چاہیے وہ عورت ہو یا مرد ان پر سیاسی یا ذاتی طور پر کردار کشی اور غلیظ ترین زبان استعمال کرتے دیکھتے ہیں تو اس عمل کو صحیح سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر یہ سب وہ اپنے دوستوں اور آس پاس کے لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی نظر میں نظریاتی اختلاف ان کی انا اور خود کو صحیح ثابت کرنے کا آسان طریقہ بنتا جا رہا ہے۔
آج کی نوجوان نسل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو سیاسی شعور کے نام پر اخلاقی طور پر تباہ کر دیا ہے۔ یہاں ہر دوسرا بندہ دوسرے کی کردار کشی اور گالم گلوج کو اپنا سیاسی حق سمجھنے لگا ہے۔ ان کا لیڈر صحیح اور باقی سب غلط ہیں کی پالیسی اپنائی لی گئی ہے۔ اس عدم برداشت کی وجہ سے بعض دفعہ یہ سیاسی نظریاتی جھگڑا سوشل میڈیا سے نکل کر ذاتی زندگی تک آ جاتا ہے اور بات گالم گلوج سے نکل کر مار پیٹ اور قتل تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس کی تازہ مثلاً حالیہ الیکشن سے قبل تصادم کی صورت میں نظر آئی۔
یہ نفرت کی سوچ نہ صرف ہماری سوسائٹی بلکہ معاشرے کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔ کیونکہ یہ نظریاتی جنگ ہمارے اندر سے صبر و تحمل اور آزادی رائے کے احترام کو ختم کر رہی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو اس سیاسی شعور کے نام پھیلائے جانے والی نفرت پر سوچ نے کی ضرورت ہے کے وہ نوجوان نسل کو اپنے مفادات کے لیے ان کے ذہن کو کس حد تک مفلوج کر رہے ہیں۔ جو ان کی آنے والی زندگی اور معاشرے دونوں کے لیے خطرہ کا سبب ہے۔
اس نفرت کا شکار نہ صرف ہماری نوجوان نسل بلکہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہو رہے ہیں۔ وہ بچے جن کو سیاست کا مطلب بھی نہیں پتہ وہ بھی نفرت کی بولی بولنے لگے ہیں۔ یہ بچے اپنی نفرت کا اظہار ٹک ٹوک ویڈیوز بنا کر رہے ہیں۔ ان ویڈیوز میں مخالف سیاست دانوں کی کردار کشی کر کے بچے اپنے اوپر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس پر ان کی حوصلہ افزائی ان کے ماں باپ بھی کرتے ہیں۔ باحیثیت والدین ماں باپ کو سوچ نے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے بچوں کی منفی اور نفرت کی سوچ کو کس طرح پروان چڑھا رہے ہیں۔ یہ نفرت کی سیاست ہمارے ملک کے آنے والی نسلوں کا سنہرا مستقبل اور ملک تباہ کر دے گی۔


