اسلام میں خدا کا تصور: ابن رشد
الغزالی نے ایک مبہم میراث چھوڑی ہے۔ انہوں نے اس تصور کی شدت سے مخالفت کی کہ خدا کے وجود اور اس کی خصوصیات کو یونانی فلسفے کی بنیاد پر سمجھنا ممکن ہے۔ انہوں نے اپنی مشہور تصنیف تہافت الفلاسیفہ میں الفارابی اور ابن سینا کی ان تعلیمات کو خاص طور پر نشانہ بنایا جن کی بنیاد نیوپلاٹونک فلسفے پر رکھی گئی تھی۔ انہوں نے ان اسلامی اسکالرز کو چیلنج کیا جو ارسطو کے پیروکار تھے۔ اپنی بعد کی زندگی میں انہوں نے تصوف کی طرف رجوع کیا۔ ان کی کتاب احیاء علوم الدین نے سنی الہیات اور صوفی تصوف کو یکجا کیا۔ یہ ایک المیہ ہے کہ الغزالی کے کچھ عرصے بعد مسلم دنیا میں عظیم فلسفیانہ روایت ختم ہو گئیں اور اشعریت، تصوف اور بنیاد پرستی جیسی دوسری روایات مسلم معاشرے پر حاوی ہو گئیں۔
عظیم مسلم فلسفیوں کی روایت میں آخری اہم شخصیت، ابو الولید محمد بن احمد ابن رشد تھے۔ ابن رشد غزالی کی وفات کے صرف پندرہ سال بعد 1126 عیسوی میں اسلامی اسپین کے شہر قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق اندلس کے ایک با اثر خاندان سے تھا جو اپنے وقت میں اعلی عدالتی عہدوں پر فائز تھا۔ اس سلسلے میں زیر بحث تمام بڑے فلسفیوں کے برعکس، وہ واحد شخص تھے جو بغداد میں عباسی طاقت کے بڑے مرکز سے دور مغرب میں پیدا ہوئے تھے۔
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ابن رشد نے مسلم سوچ پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا جو فلسفے سے وابستہ منطقی اور عقلی نقطہ نظر سے دور ہو رہے تھے۔ 1198 عیسوی میں ابن رشد کی موت کے ساتھ یا شاید اس سے پہلے الغزالی کے منظر سے ہٹ جانے کے ساتھ ہی اسلام میں فلسفیانہ سوچ زوال پذیر ہو گئی۔ اسلامی دنیا نے پھر کبھی بھی اس قد کا کوئی اور فلسفی پیدا نہیں کیا جن کا ذکر اس مضامین کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ ایک اہم سوال جواب طلب ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ میں اس موضوع پر اپنا نقطہ نظر اگلے مضمون میں پیش کروں گا۔
تاہم ابن رشد، مسیحی یورپ کو فلسفے سے روشناس کرانے والوں میں سب سے زیادہ اثر انداز تھے۔ انہوں نے ارسطو کے تمام کاموں پر تفسیریں لکھیں۔ ان کے متاثر کن کام نے یورپیوں کے لیے ارسطو کو دوبارہ دریافت کرنے میں اہم کردار ادا کیا جسے وہ رومی سلطنت کے زوال کے ساتھ بنیادی طور پر کھو چکے تھے۔ ابن رشد، جنہیں مغرب میں Averroes کے نام سے جانا جاتا ہے، آج بھی مغربی فلسفے کی ایک انتہائی قابل احترام شخصیت کے طور پر شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ کہنا شاید مبالغہ آرائی نہ ہو گا کہ ابن رشد جدید مغربی تہذیب کے بانیوں میں سے تھے۔
الغزالی کی طرح ابن رشد کا خیال تھا کہ وہ دلائل جن کی تائید شواہد سے کی جا سکتی ہے وہ حق کا راستہ ہے۔ انہوں نے تین قسم کے دلائل کی نشاندہی کی،
ایک جو قائل کرنے پر مبنی ہیں،
دوسرے جو بحث و مباحثہ پر مبنی ہیں، اور
تیسرے جو منطق پر مبنی ہیں۔
ان کا خیال تھا کہ قرآنی تعلیمات بنیادی طور پر قائل کرنے پر مبنی ہیں۔ تاہم، فلسفہ کی بنیاد منطق پر ہے۔ ان کی سوچ تھی کہ فلسفے کو مذہبی سچائیوں تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے نزدیک مذہب کو فلسفے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مذہب کو سمجھنے کے لیے فلسفیانہ طریقوں سے کام لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الغزالی سے اتفاق کیا کہ فلسفیانہ علم مذہبی معاملات میں اس وقت تک اہم ہے جب تک کہ وہ قرآن سے متصادم نہ ہو۔
الغزالی کے ساتھ ان کا بڑا تنازعہ یہ تھا کہ جہاں الغزالی نے ارسطو کے فلسفے کو رد کیا، وہیں ابن رشد نے ارسطو کے نظریات کی بالادستی کی حمایت کی۔ الغزالی نے الفارابی اور ابن سینا کے نیو پلاٹینی فلسفے کی تردید کے لیے تہافت الفلاسفیہ لکھی تھی۔ ابن رشد نے اپنی کتاب ”تہافت التہافت“ میں الغزالی کے دلائل کی نکتہ بہ نکتہ تردید کی۔
یہاں کچھ مثالیں ہیں جن سے ان دونوں کے نظریات اور سوچ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
الغزالی نے دلیل دی کہ
”یہ ضروری ہے کہ فلسفی کے سبب اور اثر کے مابین تعلق پر یقین کو چیلنج کیا جائے، کیونکہ اس تعلق کی نفی ہی میں معجزات کے وجود کی تصدیق کا جواز ممکن ہے، ایسے معجزات جو فطرت کے معمول میں خلل ڈالتے ہیں، جیسے لاٹھی کا سانپ میں تبدیل ہو جانا یا مردہ کا زندہ ہو جانا یا چاند میں شگاف پڑ جانا، اور جو لوگ فطرت کے معمول کو ایک منطقی ضرورت سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک یہ سب ناممکن ہے۔“
یہاں وہ فرعون کے دربار میں موسیٰ کے اپنے عصا کو سانپ میں تبدیل کرنے، حضرت عیسی کے مردوں کو زندہ کرنے اور چاند کے ٹکڑے ہو جانے کا ذکر کر رہے ہیں جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے۔ ابن رشد نے فلسفیوں (ابن سینا اور الفارابی) کا یہ کہہ کر دفاع کیا:
”اپنی مشہور تصنیف تہافت الفلاسیفہ میں قدیم فلسفیوں نے معجزات کے مسئلے پر بحث نہیں کی، کیونکہ ان کے مطابق ایسی چیزوں کو جانچنا اور ان پر سوال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ دین کے اصول ہیں، اور جو شخص ان کے بارے میں سوال کرتا ہے اور ان پر شک کرتا ہے، وہ سزا کا مستحق ہے، بالکل اس شخص کی طرح جو دوسرے عام مذہبی اصولوں کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے، جیسے کہ خدا کی موجودگی یا اس سے وابستہ برکت اور فضائل۔ ان سب کے وجود میں شک نہیں کیا جا سکتا، اور ان کے وجود کی بنیاد ایسے الہامی اصولوں پر ہے جن کا ادراک انسان کے بس میں نہیں۔“
الغزالی واقعات کی وجہی نوعیت کی نفی کے ساتھ یہ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں :
”ہمارے نزدیک جس چیز کو عام طور پر وجہ سمجھا جاتا ہے اور جس کو اثر سمجھا جاتا ہے ان کے درمیان تعلق ضروری نہیں ہے۔ ان دونوں چیزوں، وجہ اور اثر، میں سے ہر ایک کی اپنی انفرادیت ہے۔ ، نہ ہی ایک کی موجودگی یا غیر موجودگی دوسری کے اثبات، انکار، وجود اور عدم وجود میں مضمر ہے۔ “
ان کا کہنا ہے کہ وجہ اور اثر کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہر چیز کا ایک انفرادی وجود ہوتا ہے اور کسی بھی چیز کے جوہر اور صفات سے قطع نظر، یہ خدا ہی طے کرتا ہے کہ وہ کسی دوسری شے کے ساتھ کس طرح تعامل کرے گی۔
اس کے جواب میں ابن رشد کہتے ہیں کہ اگر یہ درست ہے تو مختلف اشیاء میں تفریق کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق کسی بھی طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی چیز کے ساتھ ایک خاص جوہر وابستہ ہو۔ ان کے الفاظ میں :
”ماہرین الہٰیات ان بنیادی اسباب کے بارے میں کیا کہتے ہیں، جن کی تفہیم ہی سے ہم کسی چیز کو سمجھ سکتے ہیں؟ کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ ہر چیز کے جوہر اور صفات ہوتے ہیں جن سے اس چیز کی خصوصیت وابستہ ہوتی ہے اور جن کی بنیاد پر ہم چیزوں کے جوہر اور ناموں میں فرق کرتے ہیں۔ اگر کسی چیز کی مخصوص نوعیت نہ ہوتی تو اس کا کوئی خاص نام اور تعریف نہ ہوتی اور تمام چیزیں ایک ہی ہوتیں۔“
وہ الغزالی کے اس نظریے سے متفق نہیں کہ کائنات ابدی نہیں ہے اور اس کی ابتدا ایک خاص وقت پر ہوئی۔ الغزالی کا خیال تھا کہ ابن سینا کا ابدی کائنات کا تصور قرآن سے متصادم ہے۔ انہوں نے کائنات کی عدم ابدیت کو اس بنیاد پر قائم کیا تھا کہ حقیقی زندگی میں لامحدود موجود نہیں ہیں۔ تاہم، ابن رشد اس خیال کو رد کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ قرآن میں کسی جگہ ایسی بات بیان نہیں کی گئی جس کے مطابق خدا کائنات کی عدم موجودگی میں موجود رہا ہو یا اس نے کائنات کو ایسی حالت سے تشکیل دیا ہو جب کچھ بھی موجود نہ تھا۔ ابن رشد ایک ابدی کائنات کے تصور کی تردید کرتے ہیں اس کے باوجود کہ نہ تو اس کی کوئی ابتدا ہے اور نہ ہی اس کا انجام۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ ”نہ کوئی ابتدا اور نہ کوئی انجام“ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کائنات ابدی ہے کیونکہ ماضی تو گزر گیا اور مستقبل کا ہم نے ابھی تجربہ نہیں کیا ہے۔
ابن رشد نے ثبوت کے طریقوں کی نمائش (الکشف ان مناہج العادلہ فی عقائدالملا) کے عنوان سے اپنی کتاب میں خدا کے وجود اور فطرت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے خدا کے اس تصور پر تنقید کی جو اس وقت صوفیانہ اور بنیاد پرست روایات کی بنیاد پر مرکزی دھارے میں موجود تھا۔ انہوں نے خدا کی موجودگی کے لیے ایسے دلائل پیش کیے جن کی جڑیں منطق اور مشاہدے میں تھیں۔ ان کے مطابق، خدا ضروری ہے کیونکہ کائنات انسانوں کے وجود کے لئے انتہائی موزوں ہے اور یہ کسی خدا کی براہ راست مداخلت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔
سورج اور چاند جیسی افلاکی اشیاء اور ان کی حرکت کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ زمین پر زندگی کا وجود ممکن ہو۔ سورج کی روشنی، موسم کی موجودگی، دن اور رات کے چکر، یہ سب دنیا کے ایک ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خدا کے وجود کی یہ دلیل موجودہ دور کی اس بحث کی بازگشت ہے کہ آیا فطرت کے قوانین کی حیرت انگیز ٹھیک ترتیب کائنات کے کسی ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ابن رشد بھی خدا کا پرتو اس کی مخلوقات میں دیکھتے ہیں۔ ابن رشد کے نزدیک خدا کا وجود ایک ڈیزائنر کا ہے جس نے ایسی کائنات تشکیل دی جس میں موجود تمام اشیاء کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔
وہ ان صفات کی فہرست بتاتے ہیں جو خدا سے وابستہ ہونی چاہئیں۔
ابن رشد کے نزدیک خدا کی سب سے اہم صفت علم ہے۔ تاہم، خدائی علم کی نوعیت انسانی علم سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ خدا کا علم کائنات کے خالق کا ہے جبکہ انسانی علم خدا کی تخلیق کے اثر کو دیکھنے کا ہے۔
یہاں وہ خاص طور پر ابن سینا پر تنقید کرتے ہیں جن کا خیال تھا کہ خدا کی وحدانیت اور سادگی کی فطرت نے خدا کو متعدد اشیاء کا علم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ابن سینا کے مطابق، خدا، ایک ناقابل تغیر ہستی کے طور پر ، انسانوں کی طرح کائنات کو نہیں دیکھ سکتا۔ وحدانیت کو برقرار رکھنے اور خدا کی فطرت میں کثرت سے بچنے کے لیے ابن سینا بغیر کسی جزوی تفصیلات کے خدا کے علم کو عالمگیر تک محدود کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں خدا نہیں جانتا۔
اس کا ہمارے اعمال اور ارادوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ الغزالی کی پوزیشن اشعری نظریات کی روشنی میں اس سے بہت مختلف ہے۔ ان کے مطابق خدا کائنات کے چلانے میں براہ راست ملوث ہے اور اس کی واضح ہدایات کے بغیر کوئی چیز حرکت نہیں کرتی۔ الغزالی نے ابن سینا کے موقف کو قرآن کی ان تعلیمات کے برعکس قرار دیا ہے جس کے مطابق خدا ہر چیز اور ہر ایک کی تقدیر کو کنٹرول کرتا ہے۔
ابن رشد ایک طرف ابن سینا کے خدا کے تصور کو رد کرتے ہیں جس کے مطابق خدا ہماری دنیا سے بہت بعید اور بہت دور ہے اور دوسری طرف وہ سمجھتے ہیں کہ الغزالی کی تعلیم کے مطابق خدا کا علم ہمارے اپنے علم سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ ابن رشد کے مطابق یہ دونوں نظریات درست نہیں۔ ان کے مطابق، دنیا کے بارے میں خدا کا علم انسانوں کی طرح براہ راست مشاہدہ کرنے یا دیکھنے سے نہیں آتا۔ اس کے بجائے، خدا کا علم تو اس کی اپنی فطرت میں پنہاں ہے۔ کائنات کے خالق کے طور پر ، خدا اپنے جوہر کی بنیاد پر تمام کائنات کا علم رکھتا ہے۔ ابن رشد کے مطابق خدا سب کچھ جانتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔
لیکن پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب چیزیں حرکت میں آتی ہیں تو کیا خدا کا علم بدل جاتا ہے؟
الغزالی اور ابن رشد کی بارہویں صدی میں ایسے خدا کا تصور ناقابل قبول تھا جو وقت کے ساتھ تبدیل اور ارتقا پذیر ہو۔ اس طور ایک مسئلہ یہ درپیش تھا کہ جب اس کائنات یا انسانی زندگی میں کوئی تبدیلی آتی ہے، تو نیا علم پیدا ہوتا ہے اور خدا کی ذات میں بھی اس نئی معلومات کی روشنی میں تبدیلی آتی ہے۔ اس صورت حال کو ایک ایسے خدا سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے جو وقت کے ساتھ کسی تغیر کا شکار نہ ہو۔
الغزالی نے اس مسئلے کو یہ دلیل دے کر حل کیا تھا کہ خدا کو تمام اشیاء کا علم ہے اور یہ علم اس وقت تبدیل نہیں ہوتا جب کوئی چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتی ہے۔ ابن رشد نے اس وضاحت سے اختلاف کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ ہر تبدیلی مزید تبدیلی کا باعث ہوتی ہے۔ اس طور یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کسی چیز کی حرکت خدائی علم میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتی۔
ابن رشد نے اس مخمصے کو ارسطو سے وابستہ اولین محرک (prime mover) کے تصور کی بنیاد پر حل کیا۔ ان کے مطابق، اولین محرک کے طور پر خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کا ابدی علم اپنے پاس رکھا۔ لہٰذا، جو چیز انسان کے نزدیک تبدیلی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے وہ خدا کے لیے تبدیلی نہیں ہے کیونکہ اس کا تو اس کو پہلے سے ادراک تھا۔
ابن رشد اسپین میں ایسے وقت میں رہتے تھے جب اسلامی سلطنت کے بڑے مرکز کو مختلف سمتوں سے حملوں کا سامنا تھا۔ یہ ہنگامہ خیز دور تھا۔ اسلام میں فلسفیانہ تحریک اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور تصوف کی جڑیں مضبوط ہو رہی تھیں۔ یہ اگلے مضمون کا موضوع ہو گا۔


