الیکشن اور سیاسی استحکام


الیکشن 2024 نے بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لیکن کوئی ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار نہیں۔ لوگ عمران خان کی حکومت جاتے ہی آنے والے الیکشن پر خدشات کر رہے تھے لیکن اب یہ سمجھ آتی ہے کہ ان کے خدشات میں وزن تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کے عمران خان کی حکومت غیر مقبول تھی مگر ان کو ہٹانے کا سبب اس کی غیر مقبولیت نہیں تھی بلکہ عمران خان ہٹانا کچھ لوگوں کے ذاتی مفاد میں تھا۔ اس کو ہٹا کر ایک اور غیر مقبول حکومت لائی گئی۔ اس نے ملک میں تباہی کے سارے رکارڈ توڑ دیے لیکن اس حکومت کی پرفارمنس پر حکومت بنانے والوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ الیکشن میں بھی دیر اس لیے کی گئی کہ عمران خان کو سیاسی طرح ناک آؤٹ کیا جائے اور پورے بندوبست کے ساتھ عمران خان پر سیاسی، کرپشن اور ذاتی کردار کے کیس بنا کر اس کو لمبی قید دی جائے۔ اس میں وہ پورے طرح کامیاب ہوئے۔ عمران خان کو تین کیسز میں 31 سال الیکشن سے پہلے سزا آ گئی۔

لیکن الیکشن والے دن ملک کے نوجوانوں نے ایسا تاریخی کام کیا جو سب کے ہوش اڑ گئے۔ پورے ملک میں نوجوانوں نے عمران خان کے کھڑے کیے لوگوں کو ووٹ دیا۔ جب کہ عمران خان کا انتخابی نشان بلا بھی بیلٹ پیپر پر نہیں تھا۔ لیکن ملک کے نوجوانوں نے ایک امپاسبل مشن کو پاسیبل کر کے دکھایا۔ الیکشن کرانے والوں نے سوچا تھا کہ عمران خان کی پارٹی کا نشان بھی نہیں اب عمران خان کو ووٹ نہیں ملے گا اور نواز شریف کو سادہ اکثریت مل جائے گی۔ اور نواز شریف بھی بڑے پراعتماد تھے کہ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا ہو گا۔ اس نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ الیکشن سے پہلے میرے ووٹرز جشن منا رہے ہیں۔ نواز شریف کے اس کانفیڈنس کی وجہ سے اس نے پورے ملک میں الیکشن کی مہم بھی نہیں چلائی، سندھ اور بلوچستان مٰیں اس نے ایک بھی سیاسی جلسہ نہیں کیا۔

الیکشن کرانے والوں کو بھی یہ یقین تھا کہ الیکشن کے نتائج ان کی خواہش والے آئیں گے اس لیے انہوں اعلان کیا ٹی وی چینلز شام 6 بجے کے بعد غیر حتمی نتائج اعلان کر سکتے ہیں۔ جیسے ہی 6 بجے ٹی وی اسکرینوں پر نتائج کا اعلان ہونے لگا۔ کچھ گھنٹوں میں 80 فیصد نتائج میں آزاد امیدوار جیت رہے تھے لیکن جب یہ خطرے کی گھنٹی بجنی شروع ہوئی تو ایک دم نتائج آنا بند ہو گئے اور حکمت عملی تبدیل کی گئی کہ اب الیکشن کمیشن خود نتائج کا اعلان کریں گے۔

یاد رہے یہ وہ الیکشن کمیشن ہے جس پر پی ٹی آئی جانبداری کے الزام لگاتی رہی ہے۔ مجھے یہاں ایک ڈسکلیمر دینا ہے کہ میں پی ٹی آئی کا بہت بڑا کریٹک ہوں اور میں نے زندگی میں کبھی بھی پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں کیا لیکن الیکشن آبزرو کرنا اور ملک کی سیاست کو پڑھنا سمجھنا میرا سب سے بڑا شوق ہے۔ اس لیے میں حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا۔ جیسے ہی نتائج آنا بند ہوئے ایسے لگنے لگا کہ ڈیمیج کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ سینٹرل پنجاب جو نواز لیگ کا سیاسی قلعہ ہے وہاں تو نواز شریف ہار چکا تھا اب نارتھ پنجاب جہاں نواز شریف کی روایتی سیٹیں نہیں وہ بھی نواز شریف نے جیتنا شروع کردی۔

لیکن پی ٹی آئی والے تب بھی بڑے پرامید تھے کہ وہ ملک میں میجارٹی سیٹیں لے لیں گے۔ مگر پھر ایسا ہوا کہ کراچی کے نتائج آنا بالکل بند ہو گئے۔ جبکہ تھر، چولستان اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی نتائج آ گئے تھے مگر کراچی کہ نتائج بالکل نہٰیں آ رہے تھے۔ اس کے باوجود کچھ لوگوں کو اطمینان تھا کیوں کہ ان کو فارم 45 مل چکے تھے۔ مگر دوسرے دن جب نتیجے آنے لگے تو پی ٹی آئی والوں کی پریشانی بڑھ گئی۔ جن ایم کیو ایم پاکستان کے لوگوں نے بائی الیکشن میں 7 ہزار ووٹ لیے تھے ان کے 70 ہزار سے اوپر ووٹ نکلنا شروع ہو گئے۔

ایک پی ٹی آئی کے امیدوار نے اپنے سارے 45 فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپلوڈ کر دیے جس میں دیکھا جا سکتا ہے ایم کیو ایم کے لوگوں کو کسی پولنگ اسٹیشن پر 100 تک ووٹ نہیں ملے جبکہ پی ٹی آئی والوں کو ایوریج 300 تک ملے ہیں۔ ان نتائج سے یہ لگتا ہے ایم کیو ایم پاکستان کو کراچی کے اردو اسپیکنگ والوں نے معاف نہیں کیا۔ آج بھی اکثریت کراچی میں رہنے والے اردو اسپیکنگ ایم کیو ایم پاکستان کو غداروں کا ٹولہ کہتی ہے۔ ان کا خیال ہے ان لوگوں نے بانی ایم کیو ایم کے ساتھ غداری کی ہے۔

اس الیکشن پر بیں الاقوامی اداروں نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے، الیکشن میں آنے والی شکایت کو سنا جائے۔ لیکن آج کی خبر یہ ہے جن لوگوں نے کورٹ سے رجوع کیا تھا ان کو کورٹس نے یہ کہا ہے کہ آپ الیکشن کمیشن سے رجوع کرین۔ اب ان شکایت کو حل کرنے کی امید بھی کم ہو گئی ہے۔

ایسی ہونے والے الیکشن کے نتائج میں آنے والی حکومت ملک کے درپیش مسائل کیسے حل کرے گی اور ملک میں سیاسی استحکام کیسے آئے گا۔

اب پی ڈی ایم ٹائپ حکومت بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ شہباز شریف کہتے ہیں جیسے پہلے کہا تھا ملک کا چوتھی بار وزیراعظم نواز شریف بنے گا اب اس کا وقت آ چکا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما کریم کنڈی کہتے ہیں۔ بلاول کو اگر وزیراعظم نہیں بنائیں گے تو پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ پی ٹی آئی کے آزاد ممبران نے ابھی تک کسی سیاسی پارٹی جوائن نہیں کیا۔ اس سے لگتا ہے حکومت بنانے میں ڈیڈلاک ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے اگر پیپلز پارٹی نے نواز لیگ کی حکومت کا ساتھ دیا تو اس کا پنجاب میں جو تھوڑا بہت کم بیک ہوا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔

جو بھی ہو اگر نواز لیگ حکومت بناتی ہے تو وہ زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ پی ٹی آئی والے جلد ہی پیپلز پارٹی سے مل کر نواز شریف کی چھٹی کرا دیں گے، جیسے نواز لیگ پیپلز پارٹی سے مل کر عمران خان کی چھٹی کرائی تھی۔ پیپلز پارٹی اس کو ڈیموکریسی کو مضبوط کرنے کا نام دے گی۔ عدم اعتماد کو جمہوریت کا حسن سمجھے گی۔

Facebook Comments HS