سوانح عمری ”گئے دنوں کی یاد“ تحریر ایم اے قوی


تبصرہ نگار: گوہر تاج

لندن میں رہنے والے اکثر لوگ ایک ایسے سر پھرے شخص سے واقف ہیں کہ جو خواہ آندھی ہو یا طوفان، برفباری ہو یا موسلادھار بارش، سالوں ہر ہفتے لندن کے پاکستانی ہائی میشن کے سامنے پرویز مشرف کی فوجی اور غیر جمہوری حکومت کے خلاف ہاتھ میں پوسٹر اٹھا کے تنہا کھڑا ہوتے، جو ان کا فوجی اور غیر جمہوری حکومت کے خلاف پر امن احتجاج تھا۔ پوسٹر پہ درج تھا۔ ”پاکستان میں آمریت کا خاتمہ کرو اور جمہوریت بحال کی جائے۔“ وہ افغانستان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے پہ بھی پرویز مشرف کے سخت مخالف تھے۔

اس کے خلاف بھی وہ ہر جمعے ایک پلے کارڈ اٹھاتے جس پر اردو میں لکھا تھا۔ ”تم نے ہمارے شہیدوں کا خون بیچ دیا۔“ ان کے اس پرامن احتجاج کا سلسلہ مشرف کی فوجی حکومت کے خاتمہ پہ رکا۔ ان صاحب کا نام ایم۔ اے۔ قوی ہے۔ جن سے میری شناسائی ان کی سوانح عمری ”گئے دنوں کی یاد“ کے توسط سے ہوئی۔ جو ان کی وفات کے بعد 2023؁ء میں شائع ہوئی۔

قوی صاحب1936؁ء میں دہلی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1948؁ ء میں ان کے خاندان نے کراچی، پاکستان ہجرت کی۔ تعلیم اور ابتدائی ملازمت کے چودہ سال چٹاگانگ میں گزارنے کے بعد 1970؁ء کی دہائی میں شارجہ متحدہ عرب امارات میں انٹیرئیر فٹنگز کا کاروبار شروع کیا۔ اور اپنی ذہانت اور غیرمعمولی کاروباری صلاحیتوں کی بناء پہ 1979؁ء کو انہیں دوبئی ٹریڈ ٹاور کی انٹیرئیر فٹنگز کا کنٹریکٹ ملا۔ 1983؁ئمیں برطانیہ منتقل ہو گئے اور لندن میں پائن فرنیچر کے نام سے کاروبار کا آغاز کیا جو ریٹائرمنٹ تک ان کی پہچان بنا رہا۔ وہیں گھر بنایا اور اولاد کو پروان چڑھایا۔

اپنے حلقے میں ان کی مقبولیت کا سبب ان کی زندہ دلی، روشن خیالی اور پرکشش شخصیت تھی۔ ان کی دلچسپیوں میں مشرقی اور مغربی ادب، ثقافت، تھیٹر، کلاسیکی موسیقی، تاریخ، فلسفہ، اسپورٹس، سیاست، حالات حاضرہ، شاعری اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پہ بحث و مباحثہ شامل تھا۔ انہیں اردو، فارسی اور انگریزی شاعری پڑھنے اور سننے سنانے کا شوق تھا۔ ان کی شخصیت میں ایسے والدین کی تربیت کا کردار نمایاں تھا جنہوں نے ہجرت جیسے کڑے حالات میں بھی اپنی اولادوں میں انسان دوستی، دردمندی، اور علم و ثقافت کا قیمتی ورثہ منتقل کیا۔

قوی صاحب نے ابتدائی عمر کی عسرت سے لے کر صاحب ثروت ہونے کا سفر بہت استقامت اور کامیابی سے طے کیا۔ لیکن اپنی محنت سے کمائی دولت کو ذاتی بینک بیلنس میں اضافہ کرنے کے بجائے سماجی تبدیلی کے سب سے طاقتور ہتھیار یعنی تعلیم اور فلاحی اداروں کی اعانت کی مد میں صرف کیا۔

وہ سماجی حلقے میں مقبول سہی لیکن میری طرح اور بھی بہت سے لوگ ان کے نام سے واقف نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنے نام کی تمنا نہ تھی۔ وہ بے شمار طلبا کے تعلیمی اخراجات کے علاوہ بڑے سماجی اور سیاسی مقاصد کے لیے بہت خاموشی سے کام کرتے۔ ہاں البتہ سچ اور حق کے داعی ہونے کی وجہ سے جس بات کو غلط جانتے اس کے خلاف ببانگ دھل پرامن احتجاجی جلسوں میں شرکت کرتے اور احتجاجی بینرز اٹھاتے۔ ان کے ضمیر کی آواز نے انہیں کبھی سونے نہیں دیا۔ اور وہی انسان بڑا ہوتا ہے جس کا ضمیر جاگتا ہے اور جو کبھی اپنے مفاد کے لیے اصولوں کا سودا نہیں کرتا۔

وہ کئی بین الاقوامی ویلفیر اداروں بشمول سٹیزن فاؤنڈیشن اور اپنے والدین کی یاد میں قائم کیے روشنی ویلفیر ٹرسٹ سے وابستہ تھے۔ تا دم مرگ وہ خاموشی سے پاکستان سے لے کر فلسطین تک کے غریب اور ذہین بچوں کی تعلیم اور ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرتے رہے۔

عالمی سطح پہ سماج کے مسائل سے جڑے رہنے کے لیے وہ لندن میں اقوام متحدہ کی ایسوسی ایشن کے اجلاس، کوئی کر کی میٹنگز اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے اجتماع میں شرکت کرتے۔ دنیا میں ہونے والے ہر ظلم اور زیادتی کے واقعات کے خلاف پرامن ریلیوں اور جلسوں میں بینرز اٹھا کے اپنے احتجاج کا مظاہرہ کرتے رہنا ان کا خاصا تھا۔

ان کی سوانح پڑھتے ہوئے مجھے جو بات سب سے نمایاں نظر آئی وہ فلسطینی عوام کی آزادی، حقوق و انصاف کے لیے آخری سانسوں تک ان کی عملی جدوجہد تھی۔ وہ سچ اور انسانی حقوق کے لیے دیوانگی کی حد تک ڈٹ جانے والی عجیب و یکتا ہستی تھے۔

نائین الیون کے واقعہ کے بعد ان کی توجہ مسلم دنیا کی بدحالی کی ممکنہ وجوہات پہ تھی خاص کر فلسطین اور اس کے مقبوضہ علاقے۔ مسائل کی وجوہات کو جاننے کے لیے وہ ذاتی طور پہ وہاں جاکر حالات کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے 2002؁ء میں پہلی بار فلسطین کا سفر رملہ میں ہونے والے انٹر نیشنل سولیڈیرٹی مومنٹ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے کیا۔ اس سفر میں جہاں بطور مسلمان انہوں نے مقام مقدسہ کی زیارات کیں وہاں مقبوضہ فلسطین کے عوام کے ساتھ اسرائیلیوں کا ہزیمت اور تشدد سے بھرپور رویہ چیک پوائنٹس سے لے کر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کی محرومیوں کو بھی دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں، ”فلسطینیوں کی حالت زار اور ان کے معاملات میں بہتری نہانے کی مایوسی و نا امیدی واقعی دل ہلا دینے والی ہے۔“

انہوں نے گولہ باری سے مسمار تباہ شدہ پرانے مکانات اور سیوریج اور پانی کے ٹوٹے پائپ دیکھے۔ فلسطینی عوام کی بنیادی ضروریات زندگی سے محرومی اور اس کے برعکس قبضہ کرنے والی اسرائیلی بستیوں کی خوشحالی دیکھی۔

فلسطین کے اعلیٰ سطح کے تعلیمی ادارے جامعہ بیرزیت کا دورہ کیا جس کا معیار اعلی ہونے کی وجہ سے پوری فلسطین سے طلباء آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ”یہاں کے لوگ دشمن قابض قوت کے زیر تسلط کیسی اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں اور فلسطینیوں کی دو نسلوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے کس طرح جدوجہد کی ہے۔“

انہوں نے ہسپتالوں میں دو اؤں کی عدم دستیابی دیکھی بلعین کی کاشتکار برداری کی پرامن مزاحمتی تحریک، روشن ضمیر اسرائیلیوں اور عیسائیوں کو فلسطینیوں کے حق خود ارادی کی حمایت میں پر امن احتجاج کرتے دیکھا۔ جامعہ میں انہیں بتایا گیا کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی تعداد میں خاصا عدم توازن اس لئے ہے کہ لڑکے قابض افواج کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔

قوی صاحب نے چھ بار لندن سے پریشان حال اور ستائے ہوئے فلسطین کا دورہ کیا۔ اور پھر اس دھرتی کے عشق میں اس درجہ گرفتار ہوئے کہ مستقل بیت سحور، فلسطین، منتقل ہو گئے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب ان کو پھیپھڑے کے سرطان کی تشخیص ہو چکی تھی۔ مگر انہوں نے فلسطین کی ابتری کے آگے اپنی بیماری کی پرواہ نہ کی۔

فلسطین میں ان کا قیام اپنے دوست مازین بطرس قمصیہ اور ان کی اہلیہ کے ساتھ تھا۔ جو فلسطینی کے مانے ہوئے سائنس دان، مصنف، ماہر تعلیم اور بیت لحم یونیورسٹی کی استاد تھے۔ اس قیام کے دوران انہوں نے خود کو فلسطینوں کے حقوق کی تحریک کے لیے وقف کر دیا۔ وہ کسی کو اپنی بیماری کا بتائے بغیر خاموشی سے اپنا علاج کراتے اور فلسطین کے حق میں خاموش احتجاج کرتے رہے۔ ان کے ایک امید افزا بینر پہ پیغام درج تھا ”امید کو زندہ رکھو۔“

کتاب کا آخری حصہ ان کی وفات پہ لکھے تعزیتی مضامین اور پیغامات کا ہے۔ ایک مضمون میں رالف چیپلن کی نظم ”مرنے والوں کا سوگ نہ کرو“ شامل ہے۔ یہ وہ آخری نظم ہے کہ جو اپنی وفات سے قبل قوی صاحب نے انگریزی سے عربی میں ترجمہ کروا کے لوگوں میں تقسیم کی۔ نظم کا پیغام یہ ہے کہ مرنے والوں یا اسیر ہونے والوں ساتھیوں کے بجائے ہمارا ماتم تو ان بے حس اور بزدل لوگوں کا ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے۔

میں سوچتی ہوں کہ یہ اچھا ہوا کہ وہ سات اکتوبر 2023؁ء کو حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی بیہمانہ خونی کارروائی کے بعد فلسطین کی تباہی دیکھنے کے لیے اس دنیا میں نہیں تھے۔ ورنہ اپنے محبوب ملک کی زمین پہ آگ برساتے بم، جابجا بکھری لاشیں، بچ جانے والوں کی کسمپرسی اور بے گھری، بھوک اور بیماری اور اس کربناک المیہ پہ خاموش تماشائی دنیا کی بے حسی تو انہیں جیتے جی مار دیتی۔

قوی صاحب کا انتقال فلسطین میں 27 اگست 2017؁ ء میں ہوا۔ موت کے وقت گھر والے ان کے سامنے نہیں تھے۔ ان کا گھرانا اور دوست احباب ان کی جدوجہد کے قدردان اور ان کی فلسطین منتقل ہونے کے فیصلے کے ساتھ تھے۔

۔

( یہ تحریر قوی صاحب کی عظمت کے اعتراف میں معمولی سا نذرانہ ہے۔ ان کی سوانح کو ’ورثہ پبلشرز‘ نے شائع کیا ہے۔ )

(یہ تحریر قوی صاحب کی عظمت کے

Facebook Comments HS

One thought on “سوانح عمری ”گئے دنوں کی یاد“ تحریر ایم اے قوی

  • 15/02/2024 at 10:54 صبح
    Permalink

    بہت بہت شکریہ۔ پڑھ کر مزہ آگیا

Comments are closed.