انتخابات اور انتخابی مہم کے بدلتے طریقے
8 فروری کو منعقد ہونے والے عام انتخابات تمام تر تحفظات، دھاندلی کے شور اور بے قاعدگیوں کی بازگشت کے باوجود پاکستان کی پارلیمانی جمہوریت کے تسلسل میں تازہ ہوا کا جھونکا ہیں۔ 2008 سے اب تک ہونے والے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں جو پارلیمان کی مدت کے اختتام پر منعقد ہوئے۔ تاہم جمہوریت کا یہ تسلسل فی الحال اعلیٰ سطح تک ہی محدود ہے اور ملک کے تمام صوبوں بالخصوص پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد میں وہ تسلسل دیکھنے میں نہیں آیا جو ایک مستحکم جمہوری نظام کی علامت ہو۔ نتیجتاً 5 سے 6 سال بعد منعقد ہونے والے انتخابات ایک ایسا ایونٹ بن کر رہ گئے ہیں جس میں سیاسی جماعتیں، امیدوار، ووٹرز حتیٰ کہ انتخابی کاروبار سے وابستہ طبقات بھی اس مشق سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ملک کے دیگر حصوں کی طرح پنجاب میں بھی ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے سیاسی جماعتیں اور امیدواران مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں جن میں وہ اپنے ماضی کے کام گنواتے ہوئے انہیں مستقبل کے سہانے خواب دکھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں روایتی طریقوں سے بھی امیدواران اپنا ووٹ بینک بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں ایک گاؤں کی ایک یا زیادہ برادریوں کے سرکردہ فرد کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں جس سے ان کے زیر اثر خاندانوں کے افراد کے ووٹ خود بخود اس امیدوار کو مل جاتے ہیں تاہم 2018 سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ دیہات میں ووٹ زیادہ تقسیم ہو رہا ہے اور نہ صرف برادریوں کے بڑے اپنی برادریوں پر اپنا اثر و رسوخ کھو رہے ہیں بلکہ خاندانوں کے اندر بھی سیاسی جماعتوں سے لے کر امیدواروں کی انفرادی پسند نا پسند کے بارے میں شدید تقسیم پائی جاتی ہیں۔
راقم کے گاؤں میں ایک شخص اپنے پورے خاندان سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹر ہے اور روایتی جیالا سمجھا جاتا ہے تاہم اس مرتبہ پولنگ والے دن ہم نے دیکھا کہ اس کا اپنا بیٹا تحریک لبیک کا نہ صرف سپورٹر تھا بلکہ وہ اپنی گاڑی میں ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن پہنچا کر ان سے اپنی پسند کے امیدوار کے لیے ووٹوں کا طلبگار تھا۔ اس طرح کی درجنوں مثالیں صرف ایک پولنگ اسٹیشن پر دیکھی گئیں۔
دیگر بہت سی وجوہات کے علاوہ معاشرے میں آنے والی اس تبدیلی کا بڑا محرک سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کا منہ زور طوفان ہے جس نے نہ صرف آج کے نوجوان بلکہ بڑی عمر کے لوگوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والے ایک ادارے کے جائزے کے مطابق ملک کی 31 فیصد سے زائد آبادی کسی نہ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح کیبل ٹی وی اور ڈش انٹینا کے ذریعے سیٹلائٹ نیوز چینلز تک رسائی بھی اب دیہی باشندوں کے لیے مشکل نہیں رہی۔
سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز تک ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے رسائی سے ان پلیٹ فارمز پر آنے والی جھوٹی سچی معلومات کے طوفان نے ان دیہی علاقوں میں عام آدمی کے سیاسی نقطہ نظر کو بڑی حد تک تبدیل کیا ہے۔ اس دفعہ انتخابی مہم کے دوران ہم نے کئی امیدواروں کو ووٹرز کے سخت سوالات کا سامنا کرتے بھی دیکھا جبکہ کئی جگہ امیدوار اپنی انتخابی مہم میں جدید ذرائع کے استعمال سے ووٹرز کو راغب کرنے میں کامیاب رہے۔
درج بالا بحث کا مقصد یہ بتا نا ہے کہ 2024 کے انتخابات کے نتائج پر حیران بلکہ کسی حد تک پریشان روایتی سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اب ووٹ اور ووٹر کا نظریہ بدل چکا ہے۔ اب بات صرف انتخابی مہم تک بات محدود نہیں رہی بلکہ ووٹر انتخابات کے اعلان سے بھی پہلے اپنا ذہن بنا چکا ہوتا ہے کہ اس کی پسندیدہ جماعت یا امیدوار کون ہو گا۔ اس کی بڑی وجہ اس کی سارا سال جاری رہنے والی ذہن سازی ہے جو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والے مباحثوں اور معلومات کے ذریعے ہو رہی ہوتی ہے۔
حالیہ انتخابات میں ایک سیاسی جماعت کے حمایت یافتہ ایسے امیدواروں نے بھی فتح سمیٹی جو ایک دن کے لیے بھی انتخابی مہم کے لیے باہر نہیں نکلے بلکہ انہوں نے اپنے ووٹرز اور حامیوں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے رابطہ رکھا اور وہ اپنا بیانیہ بیچنے میں کامیاب رہے۔ وسطی پنجاب کے ضلع ساہیوال کے حلقہ این اے۔ 143 سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی رائے حسن نواز ان درجنوں امیدواروں میں سے ایک تھے جو مختلف مقدمات کی وجہ سے منظر عام سے غائب ہیں اور انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنے حلقے کے ووٹروں سے صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رابطہ رکھا اور وہ ووٹرز کے پاس چل کر نہیں گئے پھر بھی انہوں نے اپنے حلقوں کے نامی گرامی مخالفین کو ووٹوں کے ایک بڑے فرق سے شکست سے دوچار کیا۔
حالیہ انتخابات میں اگرچہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی حتی المقدور سوشل میڈیا کا استعمال کیا تاہم پاکستان تحریک انصاف، جس کا انتخابی نشان تکنیکی بنیادوں پر واپس لے لیا گیا تھا اور اس کے امیدوار مختلف نشانات پر میدان میں اترے، نے اپنے ووٹرز تک پہنچنے کے لیے اس میڈیم کا بہترین استعمال کیا۔ فیلڈ میں درپیش مشکلات اور لیول پلینگ فیلڈ کی شکایات کے باوجود خیبر پختونخوا اور وسطی پنجاب میں اس سیاسی جماعت سے وابستہ امیدواروں کی شاندار فتح نے گھر گھر جاکر ووٹ مانگنے کے طریقہ کار کو قصہ پارینہ بنا دیا ہے۔ ووٹرز کو اپنے انتخابی نشانات، پارٹی کا حقیقی امیدوار بتانے سے لے کر آن لائن جلسوں کے انعقاد اور اب اپنے ہارنے والے امیدواروں کے لیے منظم مہم تک پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے پاکستانی سیاسی مہموں کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
اگر چہ سوشل میڈیا کے ذریعے ووٹرز تک پہنچنے کا رجحان 2018 کے عام انتخابات سے جاری ہے تاہم 2024 میں یہ بام عروج تک جا پہنچا ہے اور اب دیگر سیاسی جماعتیں بھی مجبور ہوں گی وہ اپنا بیانیہ ووٹرز تک پہنچانے اور انہیں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا زیادہ استعمال کریں۔ توقع ہے کہ آنے والے وقت میں ہمیں میدان سے زیادہ سیاست سکرینوں پر دیکھنے کو ملے گی اور ممکن ہے کہ انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کو مناظرے کی پیشکش جیسے ایونٹس مستقبل میں حقیقت کا روپ دھار لیں۔


