تحریک انصاف عاشقانِ عمران خان کو مزید آزمائش میں نہ ڈالے


میں ہرگز سمجھ نہیں پارہا کہ پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ میں بدلنے کے دعوے دار 8 فروری کی رات سے ”فتح مکہ“ کے بعد برتی فراخ دلی دکھانے سے کیوں گھبرارہے ہیں۔ کوئی پسند کرے یا نہیں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود عاشقان عمران گزری جمعرات کی صبح اپنے خاندانوں سمیت گھروں سے نکلے۔ روز انتخاب سے چند گھنٹے قبل وہ نہایت لگن سے یہ جان چکے تھے کہ ان کے حلقے میں قیدی نمبر 804 کا حمایت یافتہ امیدوار کون ہے۔ امیدوار کے نام سے زیادہ عاشقان عمران نے حمایت یافتہ امیدوار کے انتخابی نشان کو ذہن میں جمانے کی کوشش کی۔چند حلقوں سے یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ وہاں موجود تحریک انصاف کے سرکردہ کارکنوں نے واٹس ایپ گروپوں میں اپنے دوستوں کو یہ بھی سمجھادیا تھا کہ بیلٹ پیپرپر مہرلگانے کے بعد کاغذ کو کس طرح تہہ کرکے بکسے میں ڈالنا ہے تاکہ ووٹ ضائع نہ ہو۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ پولنگ کے دن ریاست نے انتخابی عمل میں رخنے نہیں ڈالے۔ 8 فروری کے دن میں لاہور میں تھا۔ ڈیفنس کے فیز 8 میں موجود ایک گھر سے باہر نکل کر گلبرگ پہنچا اور وہاں سے ”نہرو نہر“ چلتے ہوئے گڑھی شاہو کے چند پولنگ اسٹیشنوں کے مشاہدے کے بعد لکشمی چوک اور دیال سنگھ کالج کے قرب وجوار گھومتا رہا۔

گلبرگ کے علاوہ میں 8 فروری کی شام سے قبل لاہور کے جن علاقوں میں گھومتا رہا وہاں کے باسی ذرا سی بات پر مشتعل ہو جانے کے عادی ہیں۔ روز انتخاب لیکن میرے آبائی شہر میں حیران کن کشادگی اور برداشت دیکھنے کو ملی۔ مخالفین کے انتخابی کیمپ ایک دوسرے کے تقریباََ ایک ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے وجود سے قطعاً بے نیاز اپنے ہاں آئے لوگوں کی پرچیاں بناتے رہے۔پولیس کے نوجوان مختلف مقامات پر جیپوں میں موجود تھے۔ان کی اکثریت مگر کسی نہ کسی سہارے سے سرٹکائے نیند پوری کرنے کی کوشش میں تھی۔ جس شخص سے بھی بات ہوئی وہ ”نکو نک“ یعنی ”ٹکر کا مقابلہ“ ہونے کی گواہی دیتا رہا۔

لاہور شہر میں تحریک انصاف کا عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود بلے کے انتخابی نشان کے بغیر شریف خاندان کی مسلم لیگ سے ”نکو نک“ مقابلہ میری دانست میں ہمارے عوام کی سیاسی پختگی اور جمہوری نظام سے عقیدت کی متاثر کن مثال ہے۔ عوامی جذبات کا لہٰذا احترام لازمی ہے۔احترام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے تسلیم یہ بھی کرنا ہوگا کہ عوام نے 8 فروری 2024ء کے روز ہماری کسی ایک سیاسی جماعت کو اکثریت فراہم نہیں کی ہے۔ ہماری قوم کا اجتماعی شعور بلکہ تقاضہ کرتا سنائی دے رہا ہے کہ وطن عزیز کی تین بڑی جماعتیں تحریک انصاف ،پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ جینے کی راہ تلاش کریں۔ پاکستان کے دیرینہ مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لئے مشترکہ کاوشوں کی بدولت کوئی راستہ نکالیں۔ خلق خدا کی آواز کو اگر ہم دیانتداری سے نقارہ خدا تسلیم کرتے ہیں تو8 فروری کے انتخاب کے ذریعے ظاہر ہوئے عوام کے اجتماعی شعور میں چھپی خواہش کا فوری ادراک لازمی ہے۔اسے جھٹلانے کی کوششیں وطن عزیز کو مزید اور آج سے کہیں زیادہ سنگین بحرانوں کی طرف دھکیل دیں گی۔

میری دیانتدارانہ رائے ہے کہ انتخاب کا دن گزرجانے کے بعد مسلم لیگ (نون) کے قائد نواز شریف کو ”وکٹری سپیچ“ سنائی دیتی تقریر نہیں کرنا چاہیے تھی۔ وہ یہ تسلیم کرتے کہ ان کی جماعت کو عوام نے وہ طاقت فراہم نہیں کی جو اس جماعت کو اپنے تئیں حکومت بنانے کے قابل بنائے۔پاکستان میں لیکن کسی بھی نوع کی حکومت کو اب چند بنیادی اور مشکل ترین فیصلے لینا ہوں گے۔سیاسی استحکام کے بغیر ایسے فیصلوں کی رو نمائی اور ان پر عمل درآمد ممکن ہی نہیں۔ پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف اپنی تقریر کے دوران لہٰذا پرخلوص عاجزی اور انکساری سے ایک ایسی مخلوط حکومت کے قیام کی تجویز دے سکتے تھے جو ”قومی حکومت“ کی صورت نظر آئے۔ اس ضمن میں تحریک انصاف کی حمایت سے کامیاب ہوئے اراکین اسمبلی کی تعداد کا اعتراف بھی ان کی تقریر میں سنائی دینا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے یہ نہیں ہوا۔ میاں صاحب نے مسلم لیگ (نون) کو واحد اکثریتی جماعت قرار دینے کے بعد شہباز شریف صاحب کو دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کا حکم صادر کردیا۔ ان کے حکم نے پیغام یہ دیا کہ وہ 8 فروری کے انتخاب کے بعد پی ڈی ایم (2) نظرآتی حکومت کے خواہاں ہیں۔یہ تاثر دیتے ہوئے وہ یہ حقیقت نظرانداز کرگئے کہ 8 فروری کا انتخاب درحقیقت پی ڈی ایم حکومت کے 16 مہینوں کے خلاف مسلسل ابلتے جذبات کی ترجمانی کا دن تھا۔

نوازشریف صاحب تو انگریزی محاورے والی ”بس مس“کرچکے۔ تحریک انصاف کے پاس مگر بڑا دل دکھانے کا اب بھی موقع ہے۔ اس جماعت کے عمران خان کی جانب سے تعینات ہوئے سربراہ بیرسٹر گوہر کو اپنی جماعت کی حمایت سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے اراکین اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد اسلام آباد میں بلا لینا چاہیے۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل وہاں موجود افراد کی تعداد اور شناخت میڈیا کو دکھانے کے بعد تحریک انصاف کے منتخب شدہ اراکین کو آپس میں طویل مکالمے کی ضرورت ہو گی۔ ممکنہ طورپر کئی گھنٹوں تک پھیلے اجلاس کے بعد وہ چند ایسے نکات دریافت کر سکتے ہیں جن کی بنیاد پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے مجوزہ پیش قدمی سے گریز مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے اشتراک سے پی ڈی ایم (2) والی حکومت کا قیام یقینی بنا دے گا۔ اس کے نتیجے میں عاشقان عمران کی جانب سے 8 فروری کے روز نہایت خلوص ، لگن اور ذمہ داری سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو دیے ووٹ طویل المدتی تناظر میں ”ضائع“ ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف کی ذمہ داری ہے کہ عاشقان عمران کو مزید امتحان میں نہ ڈالے اور ماہرانہ سیاسی پیش قدمی سے وفاق میں حکومت بنانے کی کاوشوں میں مصروف نظر آئے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت کے حصول کے بعد ہی تحریک انصاف اپنے بانی کے لئے کسی ”ریلیف“ کو یقینی بنا سکتی ہے۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS