نعمان فاروق کی تخلیقی کائنات


نعمان فاروق کی اردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ انھوں نے ہر نو وارد کی طرح ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا اور کئی خوبصورت اشعار اردو ادب کو دیے۔ پھر تخلیقی نثر کی طرف آ گئے۔ پراسرار کبوتر، پچھل پیری اور اب کفن چور جیسا خوب صورت ناول شائقین ادب کی نذر کیا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں یہ ان کا تیسرا ناول ہے جو بچوں کے لئے لکھا گیا ہے۔ کفن چور کا ”وجدان“ بھی اسی نفرت، حقوق کی پائمالی، فیکٹریوں کے ذریعے فطرت کو پہنچنے والے نقصان پر دل جلاتا ہے اور نوادرات چوری کرنے والوں کے خلاف اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔

”کفن چور“ کا لوکیل حسب سابق ان کا آبائی علاقہ ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار وجدان ہے۔ وجدان پچھل پیری کے ”پارس“ کی طرح خیر کا نمائندہ ہے۔ وہ پڑھا لکھا بے روزگار نوجوان ہے۔ اس کا کتابوں کے علاوہ ایک ہی دوست ہے جس کا نام دانش ہے۔ جو اسے دانشمندانہ مشورے دے کر دوستی کا حق ادا کرتا رہتا ہے۔

والدین کا وجدان پہ دولت کمانے کا دباؤ وجدان کو ان سے دور کر دیتا ہے۔ ثمینہ ہمارے سماج کی ایسی عورت ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پھیلاتی ہے اور جادو ٹونہ کرتی ہے۔ ثمینہ وجدان کو اس کے علاج کے لئے ادھار دیتی ہے۔ وجدان اس سے ادھار لینے کے بعد بری طرح اس کے جال میں پھنس جاتا ہے اور بات قبر سے کفن چرانے تک پہنچ جاتی ہے۔ کفن چوری کرنا وجدان کو داود تک پہنچا دیتا ہے جو ایک چہرے پر کئی چہرے چھپائے پھرتا ہے۔ داود افغانی، وجدان کو اپنا ملازم رکھ لیتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے گا لیکن پس پردہ وجدان کے ذریعے نوادرات کی چوری اور انہیں فروخت کرنے کے مکروہ دھندے کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ وجدان یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کام اچھا نہیں، مجبوری کے تحت وہ یہ کام کرتا رہتا ہے۔

پھر ایک دن ایک بوڑھی عورت سے قیمتی گلاس (جو اس عورت تک اس کی نانی سے ہوتا ہوا پہنچا تھا) کے وسیلے سے اس کی آنکھیں کھلتی ہیں تو وہ دنگ رہ جاتا ہے کہ میں اپنی تہذیب و تاریخ اور اپنی زمین سے کیا ظلم کر رہا ہوں۔ گلاس والا واقعہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے یہاں اس کی تفصیل میں نہیں جاتا۔ ادھر داود افغانی اس کے خلاف ہو کر اسے جیل میں ڈلوانے کے منصوبہ باندھتا ہے، ادھر وجدان، داود کے خلاف تمام ثبوت اکٹھے کرنے کہ بعد کہانی کو فیصلہ کن موڑ کی طرف لاتا ہے۔ وجدان پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مر تو جاتا ہے لیکن داود افغانی کو کیفر کردار تک پہنچا دیتا ہے۔ اور خود کو اپنی مٹی پر وار کر ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتا ہے۔

”کفن چور“ کو اگر بطور سماجی علامت کے دیکھا جائے تو یہ وہ لوگ ہیں جو تاریخی مقامات میں چھپے نوادرات کو چوری کرتے ہیں۔ اس کے لئے وہ ظاہری طور پر کوئی کاروباری لباس اوڑھ لیتے ہیں لیکن عوام کی آنکھوں سے اوجھل قیمتی چیزوں کو چراتے اور انہیں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ اس طرح اگر داود کے کردار کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ کنویں میں کتا خود پھنکواتا ہے اور بعد ازاں صفائی کا اعلان کرتا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی رحم دلی کی دھاک بیٹھ جائے لیکن اس کا مقصد کنویں میں سے قیمتی زیورات حاصل کرنا ہوتا ہے۔

مذکورہ ناول کی متعدد جہات کو فردا فردا دیکھا جائے تو مختلف النوع موضوعات سامنے آتے ہیں جن میں وجدان : چھٹی حس اور کتب بینی، خودغرض والدین اور بچوں کی پرورش، وفادار دوست اور دانش، عامل بابا: انسانی کھوپڑی اور اس کی فروخت، ضرورت کے آگے خوف کی موت، جادو ٹونا اور ثمینہ، لوک داستانوں کی اصل، اداروں کی غیر ذمہ داری، افغانیوں کا مکروہ کردار، مزار اور مندر: انسانی فطرت کی کمزوریاں وغیرہ۔ اس ناول کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ شروع ہی سے قاری کو باندھ لیتا ہے۔

جو شخص اس کے ابتدائی چند صفحات پڑھ لیتا ہے وہ اسے ختم کیے بغیر نہیں رک سکتا۔ اس کی نثر بہت رواں دواں اور بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ نعمان فاروق کا یہ ناول ”کفن چور“ دوسرے ناولوں کی طرح نہ صرف ادبی دنیا میں نام کمائے گا بلکہ بچوں میں وہ حوصلہ بھی پیدا کرے گا جو سماج میں پھیلے ہوئے کفن چوروں کی شناخت کے بعد ان کا قلع قمع کر سکے۔ ان کے اندر مٹی سے وفاداری، تہذیب سے آشنائی اور کتب بینی کا شوق پیدا کر سکے۔

Facebook Comments HS