ملا نصیر الدین


ملا نصیر الدین 13 ویں صدی عیسوی کا مشہور صوفی منش، درویش اور ذہین انسان تھا جو اپنے فی البدیہہ جملوں، فقروں اور لطیفوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سلجوقی تھا اور موجودہ ترکیہ کے شہر اک شہر میں رہتا تھا۔ ملا نصیر الدین کی قبر بھی ترکیہ کے شہر قونیہ کے قریب اک شہر میں واقعہ ہے، جہاں ہر سال 5 سے 10 جولائی کو ملا نصیر الدین انٹرنیشنل فیسٹیول منعقد کیا جاتا ہے، جس میں پوری دنیا سے لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

اس کی پیدائش 13 ویں صدی کے اوائل میں اور وفات 1275 ءسے 1285 ءکے درمیان ہوئی۔ ملا نصیر الدین پر ہزاروں کتب لکھی جا چکی ہیں۔ سب سے قدیم ترین مسودہ جو اس کے متعلق ملتا ہے، وہ 1571 ءکا ہے۔ آج خاص طور پر مسلم دنیا میں ملا نصیر کی حکایات، کہانیوں، قصوں اور لطیفوں پر کئی کتب دستیاب ہیں۔ ان کے اردو، انگریزی، فارسی، ترکی، ازبک اور پشتو سمیت دنیا کی بہت سی زبانوں میں تراجم موجود ہیں۔ وہ ایک بین الاقوامی شخصیت بن چکے ہیں۔ 1995۔ 97 ءکا سال یونیسکو نے ”ملا نصیر الدین“ کے سال کے طور پر منایا تھا۔

ایک دفعہ لوگوں نے ملا نصیرالدین کو اپنے ایک اجتماع میں خطاب کرنے اور تقریر کرنے کے لئے مدعو کیا۔ ملا مقررہ جگہ اور مقررہ وقت پر خطاب اور وعظ کے لئے پہنچ گیا۔ اس نے اجتماع میں لوگوں سے پوچھا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ وہ کس موضوع پر وعظ کرنے جا رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں، وہ نہیں جانتے کہ وہ کس موضوع پر بولنے اور خطاب کرنے والے ہیں؟ یہ سن کر ملا بہت ناراض ہوا اور یہ کہہ کر مجلس سے چل دیا کہ اگر اس مجلس میں موجود لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ میں کس موضوع پر بولنے جا رہا ہوں تو ایسی مجلس اور مجمع سے اور لوگوں سے خطاب کرنا فضول ہے ”۔

اگلے روز لوگوں نے پھر ملا کو دعوت دی کہ وہ آج تو ضرور خطاب کرے۔ اس بار جب اس نے کل والا سوال کیا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ وہ کس موضوع پر بات کرنے والے ہیں تو لوگوں نے اس مرتبہ کہا کہ ہاں وہ جانتے ہیں کہ وہ کس موضوع پر خطاب فرمائیں گے۔ یہ سن کر ملا نصیرالدین یہ کہہ کر چل دیا کہ اگر آپ کو پتہ ہے کہ میں کیا کہنے جا رہا ہوں تو میرے تقریر اور وعظ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

لوگ ایک بار پھر بڑے مایوس ہوئے، لیکن فیصلہ کیا کہ اگلی بار ضرور ملا کو دعوت خطاب دیں اور آپس میں حکمت عملی بھی طے کرلی کہ آدھے لوگ ہاں کہیں گے اور آدھے نہیں۔ ایک ہفتے بعد جب تیسری بار ملا نصیر الدین کو دعوت خطاب دی گئی تو اس نے پھر لوگوں سے وہی پرانا سوال دہرایا۔ اس مرتبہ آدھے لوگوں نے کہا کہ ہاں وہ جانتے ہیں کہ وہ کس موضوع پر کیا کہنے جا رہے ہیں، جبکہ باقی ماندہ آدھے لوگوں نے کہا کہ نہیں وہ نہیں جانتے کہ ملا کس موضوع پر کیا خطاب کرتے ہیں۔ یہ ہاں اور نہیں والا جواب سن کر ملا نے یہ کہا: ”وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ میں اپنے وعظ میں کیا کہنے جا رہا ہوں۔ وہ دوسروں کو جو نہیں جانتے ان کو بتا دیں“ ۔ یہ کہہ کر ملا تیسری مرتبہ بھی مجلس سے بغیر خطاب کیے چل دیے اور لوگ سر پیٹتے رہ گئے اور ان کا ملا کا وعظ سننے کا شوق پورا نہ ہو سکا۔

ایک بار ملا کا ہمسایہ ملا سے اس کا گدھا چند گھنٹوں کے لئے مستعار لینے آیا۔ ملا اس کو گدھا دینا نہیں چاہ رہا تھا۔ ملا نے اس کو یوں جواب دیا۔ معذرت خواہ ہوں، میں پہلے ہی گدھا کسی کو بیگار کے لئے آپ کے آنے سے پہلے دے چکا ہوں۔ اتنے میں گدھے کی ہینچوں ہینچوں کی آواز آتی ہے۔ ہمسایہ دوبارہ ملا کو کہتا ہے کہ دیکھ ملا گدھا تو ادھر موجود ہے۔ یہ سن کر ملا یوں جواب دیتا ہے۔ ”تمہیں گدھے پر اعتماد ہے یا مجھ پر یقین کرتے ہو؟ جاؤ میں کوئی گدھے کی آواز نہیں سن رہا۔ گدھے پر یقین مت کرو، مجھ پر یقین کرو اور چلے جاؤ“ ۔

ایک مرتبہ ملا اپنے مشہور و معروف گدھے پر واپس اپنے گھر آ رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں انگوروں کی ٹوکری تھی۔ محلے کے بچوں نے جب انگور کی ٹوکری دیکھی تو ملا سے انگور مانگنے شروع کر دیے۔ ملا نے تھوڑے سے انگور ان بچوں کو دے دیے۔ بچوں نے جب دوبارہ انگور مانگے تو ملا نے یوں جواب دیا۔ ”بچو! سب انگوروں کا ذائقہ ایک جیسا ہے اور انگور کھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سب ایک جیسے ہیں“ ۔ یہ کہہ کر ملا چل دیا۔

ایک مرتبہ لوگوں نے ملا سے اس کی عمر پوچھی۔ اس نے کہا کہ چالیس سال، چند سال بعد پھر لوگوں نے ملا سے یہی سوال کیا تو ملا نے وہی جواب دیا، چالیس سال۔ لوگ بڑے حیران ہوئے اور پوچھا کہ اے ملا چند سال پہلے بھی آپ نے یہی عمر بتائی اور چند سال بعد بھی وہی عمر۔ یہ کیا ماجرا ہے؟ ملا یوں گویا ہوا: ”ایک سچا اور صادق انسان کبھی اپنی بات سے نہیں پھرتا۔ میں بھی اپنی بات پر قائم ہوں۔ اپنے قول کو بالکل بھی نہیں بدلا“ ۔

ملا نصیر الدین کے چند مزید مشہور لطائف، فقرے اور ذومعنی جملے قارئین کی دلچسپی کے لئے درج کیے جا رہے ہیں۔

ملا نصیر الدین سے لوگوں نے پوچھا کہ ملا نصیر الدین یہ تو بتائیے کہ جنازے کے آگے آگے چلنا چاہیے یا جنازے کے پیچھے پیچھے یا دائیں بائیں۔ ملا نے یوں جواب دیا: ”بھئی، بس جنازے کے تابوت کے اندر مت ہوں، چاہے آگے چلیں یا پیچھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا“ ۔

ملا نصیر الدین کے ہمسائے میں شادی کا پروگرام جاری تھا۔ ملا بھی مدعو تھا۔ وہ سارا دن اپنے کام کاج میں مصروف رہا تھا۔ واپسی پر گھر جانے کی بجائے سیدھا شادی والے گھر پہنچ گیا۔ گھر کے دروازے پر کھڑے دربان یا چوکیدار نے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس جب اس شخص کو دیکھا، جسے وہ نہیں جانتا تھا تو اس نے کوئی فقیر یا عام شخص سمجھ کر اسے شادی میں جانے سے روک دیا اور اندر نہ جانے دیا۔ ملا بغیر اپنا تعارف کروائے واپس اپنے گھر کی راہ ہو لیا۔ گھر آیا، سب سے اچھا اور قیمتی لباس زیب تن کیا اور دوبارہ شادی والے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اسی دربان اور چوکیدار نے جب اپنی طرف ایک خوش لباس اور سوٹڈ بوٹڈ شخص کو آتے دیکھا تو جھک کر سلام کیا اور اندر کی طرف تشریف لے جانے کی درخواست کی۔

جب کھانے کا وقت آیا تو برخلاف رسم و روایت ملا نے کھانا خود کھانے کی بجائے اس لباس کا ایک کنارہ پکڑ کر باآواز بلند کیا کہ اے زرق و برق لباس کھائیے یہ کھانا۔ لوگ یہ دیکھ کر بڑے حیران ہوئے اور ملا سے پوچھا کہ حضرت یہ کیا کر رہے ہیں؟ کیا کبھی کپڑوں اور لباس نے بھی کھانا کھایا۔ یہ سن کر ملا نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے آگاہ کیا، جس سے سب محظوظ ہوئے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ لباس واقعی شخصیت کا آئینہ دار اور انسان کے وقار اور عزت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

ملا نے جب اپنی بیٹی کو ساتھ والے گاؤں کے قریب کنویں سے پانی لانے کے لئے گھڑا دیا تو ساتھ ہی اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ ملا بغیر کسی وجہ کے اپنی بیٹی کو زد و کوب کر رہا ہے تو کہا کہ ملا اس بیچاری بے گناہ لڑکی کو کیوں پیٹ رہے ہو؟

یہ سن کر ملا نے یوں جواب دیا: ”اس سے پہلے کہ یہ پانی کا گھڑا راستے میں توڑ دے۔ اس وقت جب گھڑا ٹوٹ چکا ہو، اس وقت مارنے سے پہلے بہتر ہے، پہلے ہی خبردار کر دیا جائے، تاکہ احتیاط برتی جا سکے۔ بعد میں مارنے کی ضرورت نہ پڑے“ ۔ لوگ ملا نصیر الدین کی یہ حکمت عملی، احتیاط اور انداز فکر سن کر خوب ہنسے۔

ایک بار ملا نصیر الدین کا مشہور و معروف گدھا گم ہو گیا۔ ملا نے بہت ڈھونڈا، لیکن نہ ملا۔ تھک ہار کر جب واپس گھر آیا تو ہمسائے نے پوچھا کہ مجھے آپ کے گدھے کی گمشدگی کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ یہ سن کر ملا نصیرالدین یوں گویا ہوئے : ”شکر ہے کہ گدھے پر میں سوار نہیں تھا، ورنہ گدھے کے ساتھ میں بھی گم ہوجاتا“ ۔ ایک بار لوگوں نے ملا نصیر الدین سے پوچھا کہ ملا یہ تو بتائیے کہ ہماری زمین کا مرکز اور جگہ کون سی ہے۔ ملا نے جھٹ جواب دیا: ”میرے گدھے کے پاؤں کے نیچے۔ اگر یقین نہیں ہے تو جاؤ پیمائش کر کے دیکھ لو“ ۔

ملا نصیرالدین کے لطیفے اپنی جگہ، بعض اوقات ان کے ذومعنی جملے اور فقرے اپنے اندر لوگوں کے لئے اہم پیغام بھی لئے ہوتے ہیں۔ آج کل ایسے کردار بہت محدود ہو گئے ہیں۔ اگر ہیں بھی تو فکر معاش اور مخدوش حالات کی وجہ سے منظر سے غائب ہیں۔ بس تھیٹر شو رہ جاتے ہیں۔ ٭

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti