دوارکا: ایک اڑھائی ہزار سال پرانا مندر، سمندر میں ڈوبا ہوا نو ہزار سال پرانا شہر
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
میرے پاس موجود کتاب میں بھارت کے بارے لکھا تھا کہ بھارت کے مغرب میں دوارکا نامی ایک شہر ہے، جو احمد آباد سے کئی سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس شہر کی دو اہم خصوصیات ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں پر لارڈ کرشنا کا بنایا ہوا اڑھائی ہزار سال پرانا مندر ہے۔ جہاں ہر سال لاکھوں ہندو اس کی یاترا کے لیے آتے ہیں دوسری خصوصیت اس شہر کا سمندر میں ڈوبا ہوا ہونا ہے۔ ان دو باتوں کی وجہ سے میں نے ضروری سمجھا کہ اس شہر کے بارے میں کچھ معلومات آپ کی خدمت میں پیش کروں۔
ہماری ٹرین میں کچھ ایسے ہندو بھی تھے جو پہلے سے دوارکا جا چکے تھے۔ میں نے ان سے دوارکا کے بارے بہت سی معلومات حاصل کیں جو نہایت ہی دلچسپ تھیں۔ ان کا مختصر احوال حاضر خدمت ہے۔
دوارکا: ہندوؤں کا ایک متبرک مقام
دوارکا شمال مغربی بھارت میں گجرات کا ایک صدیوں پرانا شہر ہے۔ یہ شہر دریائے گومتی کے دائیں کنارے پر اوکھمنڈل جزیرے کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹا شہر ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی نقطۂ نظر سے یہ شہر ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ دوارکا کا ایک تعارف قدیم دور میں لارڈ کرشنا کی وجہ سے بھی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اسے گجرات کا پہلا دارالحکومت مانا جاتا ہے۔ اس شہر کے نام کا لفظی مطلب گیٹ وے ہے۔
تاریخ میں اس کے کئی نام ملتے ہیں۔ اس کا تذکرہ مہابھارت کی قدیم زمانوں کی کہانیوں میں بھی ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لارڈ کرشنا ماتھورہ سے دوارکا آئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لارڈ کرشنا نے دوارکا بنانے کے لیے سمندر سے ایک بڑا علاقہ حاصل کیا تھا۔ اس شہر کو بنانے کا سہرا لارڈ کرشنا کے سر جاتا ہے ۔ پندرہویں صدی میں گجرات کے ایک مسلمان حکمران محمود بیگڑا نے بھی دوارکا پر حملہ کیا۔ اس کے بعد سولہویں صدی میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت دوارکا ہندوؤں کا ایک اہم یاترا مرکز مانا جاتا ہے۔ ہندوؤں کی کتابوں میں دوارکا شہر سے متعلق بے شمار داستانیں موجود ہیں جو دلچسپ بھی ہیں اور حیرت انگیز بھی۔
اس شہر کے متعلق شکاریپور رنگانتھ راؤ کی کتاب The Lost City of Dvārakā جو 1999 ء میں شائع ہوئی میں تفصیل سے اس شہر کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ میں نے جو کچھ اس بارے میں جانا اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
دوارکا بھارت میں بارہ تاریخی اور قدیم شہروں میں سے ایک ہے۔ دوارکا میں واقع ڈیسہ مندر جسے جگت مندر بھی کہا جاتا ہے بھارت کا ایک اہم مندر مانا جاتا ہے۔ اسے راجہ جگت سنگھ راٹھور نے تعمیر کروایا تھا اسی لیے اسے جگت مندر کہا جاتا ہے۔ یہ مندر سطح سمندر سے چالیس فٹ بلندی پر بنایا گیا ہے۔ یہ پانچ منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جو بہتر ستونوں پر تعمیر کی گئیں ہے۔ اس مندر پر سورج اور چاند کی نشانیوں والا ایک بہت بڑا جھنڈا لہرایا جاتا ہے۔ دوارکا میں ایک لائٹ ہاؤس بھی واقع ہے جو اس شہر کی ایک پہچان ہے۔ ایک مینار کی شکل کا یہ لائٹ ہاؤس سطح سمندر سے ستر فٹ بلندی پر واقع ہے۔ اس کی روشنی سولہ کلومیٹر کے فاصلے سے بھی دکھائی دیتی ہے۔
اس علاقے کا سب سے مشہور تہوار لارڈ کرشنا کی پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک یہ علاقہ بھگوان کرشن کی رہائش تھا۔ یہ تہوار کئی دنوں پر مشتمل ہو تا ہے۔ اس موقع پر مقامی لڑکے ایک بڑا ٹیلہ تیار کرتے ہیں اور کرشنا کے لباس میں ایک چھوٹا لڑکا اس ٹیلے پر چڑھتا ہے۔ اس سارے عمل کو ”دھی ہانڈی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ایک مرتبہ محمد شاہ نے بھی دوارکا پر حملہ کیا اور مندر کو نقصان پہنچایا۔ اس جنگ کے دوران، پانچ براہمنوں جن کے نام کچھ یوں تھے ؛ وراجی ٹھاکر، ناتھو ٹھاکر، کرسن ٹھاکر، والجی ٹھاکر، اور دیوسی ٹھاکر۔ انھوں نے مل کر محمد شاہ کا مقابلہ کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اور سارے کے سارے مارے گئے۔ اس علاقے کے ہندوؤں کے نزدیک وہ ان کے ہیرو تھے۔ ان کی یاد میں مندر کے پاس ہی ایک عمارت بھی تعمیر کی گئی جسے ”پنچ پیر“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پیر اصل میں مسلمان صوفیہ کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اس علاقے میں ہندو جنگجو اسے بہادر لوگوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب گجرات کے سلطان محمود بیگڑا نے اس شہر پر حملہ کر کے مندر کو تباہ کر دیا۔ اس جنگ کے دوران ولبھا آچاریہ نے اس مندر سے ایک نہایت ہی مقدس بت نکال کر اسے ایک گمنام گاؤں میں منتقل کر دیا لیکن یہاں بھی ایک ترک جرنیل نے اس پر حملہ کر دیا اور یوں ہندوؤں کے لیے اپنا بت بچانا مشکل ہو گیا۔
سمندر میں ڈوبا ہوا نو ہزار سال پرانا شہر
چند سال پہلے اس علاقے کے سمندر سے کچھ آثار قدیمہ ملے جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں پر کبھی ایک عظیم شہر ہوا کرتا تھا۔ اس کا نام کیا تھا، وہ لوگ کون تھے، یہ ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان آثار میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں ملی جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ان لوگوں کا مذہب کیا تھا؟
آثار قدیمہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس ڈوبے ہوئے شہر کی تاریخ چھ سے نو ہزار سال پرانی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی تاریخ پندرہ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ ڈوبا ہوا شہر دنیا بھر کے سمندری آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے ایک پراسرار معمہ ہے۔ ہندوؤں کا خیال ہے کہ اس ڈوبے ہوئے شہر کے ملنے کے بعد مہابھارت کی داستان کی تصدیق ہوتی ہے۔ زیر سمندر پائے جانے والے کھنڈرات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر نو ہزار سال پرانا ہے۔
بھارتی آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا نے 1963 ء میں بحیرہ عرب میں دوارکا کے ساحل اور سمندر کے کنارے، آثار قدیمہ کی تحقیقات کیں اور ابتدائی تحقیقات میں بہت ساری نئی چیزیں سامنے آئیں۔ سمندر کے کنارے پر کی جانے والی کھدائی کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں ایک بڑی بستی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ بستیاں بیرونی اور اندرونی دیواروں اور قلعے کی شکل میں ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شہر کسی زمانے میں ہندوستان کے مشرقی علاقوں بندرگاہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ کچھ ماہرین کے مطابق اس شہر کا تعلق ہڑپہ دور سے ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ شہر کب تعمیر کیا گیا؟ ماہرین اپنی سی کوشش کر رہے ہیں جو تا حال جاری ہیں۔
آپریشن دوارکا
بھارت اور پاکستان کے درمیان ستمبر 1965 ء میں ایک جنگ ہوئی۔ اس جنگ کے دوران پاک بحریہ نے 7 اور 8 ستمبر 1965 ء کو دوارکا پر کامیاب حملہ کیا اور بھارت کی دفاعی تنصیبات کو بے حد نقصان پہنچایا۔ اسے دوارکا آپریشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے بھی دوارکا اہل پاکستان کے لیے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔



