عوامی ریفرینڈم


پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ کے ایک اور انتخابات متنازعہ ہو چکے ہیں لیکن اس دفعہ ان میں انفرادیت کی بات یہ ہے کہ یہ واحد الیکشن ہے جس میں جیتنے والے امیدوار بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ نہیں جیتے بلکہ کوئی اور جیتا ہے اس کی ایک درخشاں مثال کراچی سے جماعت اسلامی کے جیتنے والے امیدوار حافظ نعیم الرحمن نے اپنی جیت کو آزاد امیدوار کی جیت قرار دیتے ہوئے اپنی نشست سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ جس امیدوار کے ووٹ زیادہ ہیں اس کے حق میں اعلان کیا جائے۔

مرشد مودودی کے اس پیرو کار کے اعلان نے ملکی سیاست میں کھلبلی مچا دی ہے اور جماعت کے اس کارکن کے عمل نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ قوم کا ضمیر ابھی زندہ ہے اور جو چند بے ضمیر ہیں وہ پوری قوم کی ترجمانی نہیں کرتے۔ جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی الیکشن میں جماعت کو مطلوبہ کامیابی نہ ملنے پر جماعت کی امارت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ جناب جہانگیر ترین اور پرویز خٹک جو کہ کبھی تحریک انصاف کے صف اول کے رہنماء تھے لیکن کسی خوش فہمی میں اس سے الگ ہو کر نئی سیاسی جماعتیں بنا لیں تھیں ان کو بھی الیکشن میں ناکامی نے سیاست سے کنارہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جن کی تقلید کی جانی چاہیے۔

الیکشن کا ابتدائی مرحلہ عوام کے حق رائے دہی کے استعمال کے بعد مکمل ہو گیا ہے۔ اگلا مرحلہ حکومتوں کی تشکیل ہے مرکز میں حکومت بنانے کے لئے تادم تحریر کسی بھی ایک جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے اور اس کے لئے مخلوط حکومت ہی واحد حل سامنے آیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کون سی جماعتیں اس مخلوط حکومت کے لئے باہمی تعاون پر رضامند ہوتی ہیں اور ان کے درمیان شراکت اقتدار کا کیا فارمولا طے پاتا ہے یہ طے ہونا ہنوز باقی ہے شنید یہی ہے کہ ماضی کی حریف اور گزشتہ حکومت کی حلیف جماعتیں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی ہی حکومت بنانے کے لئے تعاون پر کسی حد تک رضا مند نظر آ رہی ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز وفاقی حکومت کے لئے کوشاں ہے لیکن اس کے اپنے ہی رہنماء انتخابات میں مسلم لیگ نواز کی کامیابی کو مبینہ قرار دے رہے ہیں۔ زبیر عمر اور مفتاح اسماعیل اپنی جماعت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اس مینڈیٹ کو جعلی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز جس کے پاس حکومت بنانے کے لئے مطلوبہ تعداد میں نشستیں نہیں ہیں اور جو نشستیں نواز لیگ کے حصے میں آئی ہیں ان کی شفافیت کے متعلق بھی شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

متعدد حلقوں میں ناکام امیدواروں نے اپنے پاس موجود فارم 45 کو بنیاد بناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ کامیاب امیدواروں کے خلاف عدالتوں سے رجوع بھی کیا لیکن عدالتوں نے انہیں اسی الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنے کے لئے کہہ دیا ہے جہاں سے وہ پہلے ہی ڈسے جا چکے ہیں اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے متنازع فیصلوں کا کامیابی سے دفاع کر لے گا اور سائلین ہمیشہ کی طرح عدالتوں کے دھکے ہی کھاتے رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ الیکشن کمیشن اپنی نا اہلی کا اعتراف کر لیتا لیکن اس صورت میں الیکشن کا عمل سبوتاژ ہونے کا خدشہ ہے۔

ملک میں منعقد ہونے الیکشن میں عوام نے اپنے سیاسی نمائندوں کے خلاف جس طرح غصہ نکالا ہے اس کے متعلق ایک مدت سے یہ پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ عوام الیکشن میں اپنا غصہ نکالیں گے اور یہ پیش گوئی درست ثابت ہو گئی ہے عوام کے سمندر نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈال کر ان کو وسیع پیمانے پر کامیاب بنانے میں اپنا حصہ بخوبی ڈالا ہے۔ پولنگ سٹیشن کے اندر وہ آزاد امیدواروں کے مبہم انتخابی نشانوں پر ٹھپے لگا رہے تھے جس کا نتیجہ بھاری تعداد میں آزاد امیدواروں کی کامیابی کی صورت میں ہمارے سامنے آیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی کتابوں میں تو یہ آزاد امیدوار ہیں لیکن درحقیقت یہ تحریک انصاف کے وہ امیدوار ہیں جن سے انتخابی نشان تک چھین لیا گیا انہیں انتخابی مہم چلانے کی آزادی تک میسر نہ تھی. چھاپہ خانوں والے ان کے اشتہارات چھاپنے سے انکاری تھے کیونکہ دوسری صورت میں ان کے چھاپے خانے بند کر دیے جاتے تھے۔ ملک بھر میں کسی ایک بھی جلسے کے بغیر اور امیدواروں کی غیر حاضری کے باوجود عوام نے جس طرح تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ووٹ ڈالا ہے اور ماضی کے سیاسی نمائندوں سے جس طرح لاتعلقی کا اظہار کیا ہے وہ ایک مثال بن گیا ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ عوام نے الیکشن میں نہیں ریفرینڈم میں ووٹ ڈالا ہے اور الیکشن کو تحریک انصاف کے حق میں ریفرینڈم بنا ڈالا ہے جس کے نتائج سے سب خائف ہو چکے ہیں۔ بھاری اکثریت سے جیتنے والے آزاد امیدواروں کی یقینی جیت کو ہار میں تبدیل کرنے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ آزاد امیدوار عوام کے ووٹوں سے تو واضح اکثریت سے جیت گئے تھے لیکن ریٹرننگ افسر کے دفتر میں ہار گئے۔

عوامی حلقوں میں اس بات پر بحث و مباحثہ جاری ہے کہ رائے عامہ کا احترام کرنا سب پر لازم ہے لیکن الیکشن کمیشن نے جس طرح رائے عامہ کو روند ڈالا ہے وہ بھی ایک مثال بن چکا ہے۔ عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور یہ ووٹ انہوں نے تحریک انصاف کے حق میں دیا ہے اب ملک کی مقتدر قوتوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ عوام کے ووٹ کی حفاظت کرنی ہے یا ہمیشہ کی طرح ان کی رائے کو روند دینا ہے۔ ایک بات تو واضح نظر آ رہی ہے کہ بیساکھیوں کے سہارے قائم ہونے والی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے قاصر رہے گی ملک جو پہلے ہی معاشی زبوں حالی کا شکار ہے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا جس کا اثر لا محالہ عوام پر پڑے گا وہی عوام جو پہلے ہی اپنے حکمرانوں سے تنگ ہیں اور عوام کی مزید تنگی خدانخواستہ مزید کسی بڑے بحران میں نہ بدل جائے۔

منقسم مینڈیٹ کے باعث سادہ اکثریت سے محروم کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں کو اپنے مفادات کی قربانی دینی پڑے گی نئی حکومت کی تشکیل پر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ریاست کی مضبوطی کے لئے اشد ضروری ہے اس مرحلے میں عوامی رائے کو بھی مقدم اور شامل رکھنا ہو گا کیونکہ عوام تو اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں۔

۔

Facebook Comments HS