یہی نتیجہ نکلنا تھا


حالیہ عام انتخابات سے قبل ہمارے سینئر کالم نگار نون لیگ کو سو سے ایک سو دس سیٹیں یا پھر مصالحہ زیادہ ڈلنے کی صورت دو تہائی اکثریت ملنے کی پیشگوئیاں کر رہے تھے مگر میں گزشتہ سال اگست سے مسلسل لکھ رہا تھا کہ آئندہ حکومت بھی پی ڈی ایم کی طرز پر بنے گی۔ اس کالم کے ذریعے یہ نا چیز عرصہ سے دہائی دے رہا تھا کہ عمران حکومت کی رخصتی کے بعد جو بھی فارمولا بنا اس سے ملکی مسائل فوراً حل ہوں گے نہ ہی پلک جھپکتے عوامی مشکلات میں کمی آئے گی۔

کیونکہ جو بھی سیٹ اپ قائم ہوا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اسے ہر صورت مکمل کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی حکومت آ جائے زمینی حقیقت یہی رہے گی کہ ریاست پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کی خواہشات سے روگردانی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نون لیگ کے چند اہم رہنماؤں تک بھی اپنے تحفظات پہنچائے کہ موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں کسی بھی دوسری جماعت کی نسبت نون لیگ کے مفاد میں یہ صورتحال سب سے نقصان دہ ہوگی۔ کیونکہ آئی ایم ایف سے معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچا تو لا محالہ مہنگائی کا سیلاب آئے گا جس کے بعد تحریک انصاف اپنی ناکامی عوام کے ذہنوں سے محو کر کے خود کو سیاسی شہید کے طور پر متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ اس خدشے کا بھی اظہار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جیسی جماعتیں اقتدار کے فوائد سے مکمل طور پر بہرہ مند ہوتی رہیں گی مگر حکومتی اتحاد کی سربراہی سنبھال کر بدنامی صرف نون لیگ کے حصے میں آئی گی۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے نون لیگ کے خلاف جس زبان کا استعمال کیا اس سے ہماری یہ بات بھی درست ثابت ہوئی۔ اس عرصے کے دوران نون لیگ کے جس رہنما سے بات ہو سکی ہر کسی کے سامنے اپنے خدشات رکھے کہ لوٹوں کے سہارے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور شہباز شریف وزیراعظم بن بھی گئے تو ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ تباہ ہو جائے گا۔ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے کسی سیاستدان نے ایک مفروضہ خوف کے بیان کے علاوہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا کہ صرف عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس سے نکالنے سے عوام کے مسائل کس طرح حل ہوں گے اور کیا گارنٹی ہے کہ نئی بننے والی حکومت کو آسانی سے چلنے دیا جائے گا۔

ن لیگ اور اس وقت کی دیگر اپوزیشن جماعتوں کو مگر تحریک انصاف کو اقتدار کے ایوانوں سے بیدخل کرنے کی پتہ نہیں کیا جلدی تھی؟ پچھلے ساڑھے تین سال میں معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس پس کر عوام بدحال ہو چکے تھے۔ چند ماہ مزید اسی طرح گزرتے تو جس خوشحال طبقے کے دل میں عمران خان کی محبت تھوڑی بہت برقرار تھی یقیناً وہ بھی تائب ہو جاتا۔ آئی ایم ایف تحریک انصاف کی حکومت کے سر پر ڈنڈا لیے کھڑا تھا، دوست ممالک بھی تحریک انصاف کی قیادت کی بے مروتی اور بد اخلاقی پر مبنی رویے سے خائف ہو کر پاکستان کی مزید مدد سے انکاری ہو چکے تھے۔

موجودہ حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں بالخصوص نون لیگ کے ذہن پر پھر بھی نجانے کیوں یہ خوف طاری تھا کہ اگر عمران خان کی حکومت رواں سال نومبر تک کا عرصہ نکال گئی تو وہ ایک اہم عہدے پر اپنی من پسند شخصیت لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس خوف کو جواز بنا کر یہ طے کر لیا گیا تھا کہ یہ تقرری ہو گئی تو اگلے انتخابات میں بھی تحریک انصاف کی جیت پکی ہوگی اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمات قائم کر کے ان کا سیاسی مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک کر دیا جائے گا۔ حالانکہ نون لیگ اور پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں اگر اقتدار حاصل کرنے میں اتنی بے صبری کا مظاہرہ نہ کرتیں، تو دیوالیہ پن کے کنارے پر کھڑی معیشت میں کسی ریاستی ادارے کے لیے دوبارہ تحریک انصاف کی سرپرستی کا تصور ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا۔

بعد میں جب پنجاب میں ہوئے ضمنی انتخاب کے نتائج نے ہمارے تمام خدشات درست ثابت کیے اس وقت ہی لیگی قیادت کی آنکھیں کھل جانی چاہیے تھیں۔ یہ سوچنا چاہیے تھا کہ عمران خان اپنے دور حکومت کی بدترین کارکردگی کے باوجود دوبارہ سے عوامی مقبولیت کے عروج پہ کیوں ہیں؟ لوگ مہنگائی اور بے روزگاری بھول کر ان کے سازشی پراپیگنڈے کو ہاتھوں ہاتھ کیوں لے رہے ہیں؟ حیرت کی بات ہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد بھی یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ خان صاحب کسی سہارے کے بغیر انتخابات میں نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکیں گے۔

یقیناً اس میں تحریک انصاف کے پراپیگنڈے کی صلاحیت کو داد بنتی ہے کہ مشکل ترین حالات کے باوجود انہوں نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ لیکن اس شکست کی بڑی وجہ ابلاغ کے محاذ پر نون لیگ کی کمزوری کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور کی کمی اور نا خواندگی بھی ہے۔ ہم مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ عمران خان کا کرپشن مخالف بیانیہ بھی خوب بکا تھا اور ہمارے جیسے نیم خواندہ معاشرے میں امریکہ مخالف سازشی بیانیہ بھی بہت اثر انگیز ہو سکتا ہے۔

لہذا ضروری ہے کہ جلد از جلد حکومت سپریم کورٹ کے ذریعے کھلی سماعت میں امریکی سازش یا مداخلت کی تحقیقات کرائے تاکہ تحریک انصاف دوبارہ کسی مفروضے کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ نون لیگ مگر جوابی بیانیہ تیار کرنے کی بجائے مقتدر اداروں پر تکیہ کیے بیٹھی رہی اور اداروں کی جانب سے تحریک انصاف کو نو مئی جیسی کھلی بغاوت پر بھی ڈھیل پر ڈھیل ملتی رہی جس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔

پی ڈی ایم حکومت کے تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ مقتدر قوتوں اور شریک اقتدار جماعتوں کی حد تک تو یہ فارمولہ بہت آئیڈیل ہے مگر آنے والے وقت میں یہ حکومت محض ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی کا کام دے گی۔ ایسی حکومت میں شریک جماعتیں تمام وقت آپسی کھینچا تانی پر صرف کریں گی اور ہو سکتا ہے وزیراعظم کی کرسی بھی میوزیکل چیئر بنی رہے۔ اس وقت ملک کے لیے توانائی، تعلیم، معیشت، امن و امان اور خارجہ پالیسی جیسے امور پر منظم منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن یہ تمام شعبہ جات مکمل یکسوئی اور منظم تدبیر کے متقاضی ہیں۔ کوئی بھی کمزور یا ربر اسٹمپ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکتی۔ اس کے باوجود نون لیگ اپنے گلے میں طوق رسوائی ڈال کر رہی سہی مقبولیت کا جنازہ نکالنا چاہتی ہے تو فبہا۔

Facebook Comments HS