عمران خان اپنے مینڈیٹ کا احترام کریں!
حالیہ انتخابات کے بعد جاری ہونے والے اعداد و شمار ہی درست مان لیے جائیں تو پاکستانیوں کی اکثریت نے جس شخصیت کو ووٹ کیا ہے، وہ ہیں بانی تحریک انصاف جناب عمران خان، جو آج کل اڈیالہ جیل میں اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تیسری بار تحریک انصاف کو حکمرانی کا موقع ملنے والا ہے۔ پنجاب میں بھی مسلم لیگ سے خوب مقابلہ کیا ہے۔ بڑے بڑے برج خان صاحب کے نام لیواؤں نے گرا دیے ہیں۔
حیران کن طور پرقیدی نمبر آٹھ سو چار کو لاہور اور کراچی میں وہ نتائج میسر نہیں آئے جن کی بعض تجزیہ کار توقع کر رہے تھے۔ انتخابات اور حلقوں کی سیاست میں مہارت رکھنے والے صحافی بار بار عندیہ دے رہے تھے کہ روایتی سیاست کے اہم بت جیسا کہ برادری، جاگیرداری، الیکٹیبلز اور عقیدت وغیرہ، پاش ہونے والے ہیں۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ کوئی بھی تبدیلی بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں میں منتقل ہوتی ہے۔ نئے رجحانات اور تصورات ترقی یافتہ علاقوں سے پسماندہ علاقوں کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ مگر سونامی کی موجودہ لہر سے لاہور و کراچی محفوظ رہے۔ اسے کوئی سادہ لوح بھی حضرت ہجویری و عبداللہ شاہ غازی کی کرامت کہنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ اس کا کریڈٹ ”حضرت زندہ پیر“ کو دینے پر مصر ہے۔
انتخابات سے قبل و بعد کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی قوم کی اکثریت کا لیڈر عمران خان ہے۔ انتخابی نشان سے محروم کر کے ووٹر کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ تحریک انصاف کے امیدواروں کو پوری طرح سے کیمپین بھی نہیں کرنے دی گئی۔ گھروں پر چھاپے اور توڑ پھوڑ آئے روز کا کھیل تھی۔ خان صاحب کی پارٹی کے امیدواروں کو آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لینا پڑا۔ پارٹی کے نشان سے محرومی کے نتیجہ میں ایک طرف تو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے جماعت کو کئی پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں تو دوسری طرف ہارس ٹریڈنگ کا عفریت منہ کھولے ہوئے ہے۔
آزاد اراکین کی خرید و فروخت کے دھندے کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ لاہور میں عمران خان کا حمایت یافتہ رکن قومی اسمبلی رائیونڈ یاترا کر چکا ہے۔ لیہ کا بھی ایک رکن صوبائی اسمبلی جاتی امرا کی سیر کر آیا ہے۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ موجودہ انتخابات میں بنسبت گزشتہ الیکشن کے عمران خان کو زیادہ عوامی حمایت حاصل تھی۔ موجودہ جاری کردہ نتائج تحریک انصاف مینڈیٹ سے چھیڑ چھاڑ کے بعد ہی جاری کیے گئے ہیں۔ یہ پوری طرح سے عوامی رجحان کی عکاسی نہیں کر رہے۔
تاہم تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود بلے باز نے بغیر بلے کے سینچری سکور کی ہے۔ عمران خان اور ان کے ہم نوا بضد ہیں کہ ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ وہ ہی سنگل لارجسٹ پارٹی ہیں۔ لیکن خود عمران خان کو بھی اپنے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ عوام نے تحریک انصاف کو اقتدار کے لیے ووٹ دیا ہے۔ وہ اپنی جماعت کو حکومتی ایوانوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ خان صاحب کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مل کر ایک مضبوط وفاق تشکیل دے سکتے ہیں۔
مرکز اور وفاق میں ایک مضبوط حکومت، جس میں تحریک انصاف بھی شامل ہو، خیبر پختونخوا کے لیے کسی نعمت غیر متبرقہ سے کم نہیں ہوگی۔ بصورت دیگر وفاق اور صوبے کی جنگ میں تیسری بار تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے عام لوگ پستے رہیں گے۔ صوبے کے حالات پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہیں۔ ملازمین کو کافی عرصہ سے بروقت تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ خان صاحب کو اپنے ووٹروں پر رحم کرنا چاہیے۔ خان صاحب کی عدم دل چسپی کے سبب پنجاب کے آزاد امیدوار بھی اڑان بھرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔
اگر وہ چاہتے تو پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی کوشش کر سکتے تھے۔ لیکن اب پنجاب بھی ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ کیا تحریک انصاف میں کوئی ایسا فرد نہیں جو بانی کو قائل کر سکے کہ وہ اپنے ووٹروں کو ریلیف دینے کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا لیں۔ عوام نے آپ کو طاقت میں دیکھنے کے لیے ووٹ کیا ہے۔ آپ خود تو اپنے مینڈیٹ کا احترام کریں۔ کیوں اپنے چاہنے والوں کو ایک بار پھر شریف فیملی کے سپرد کر رہے ہیں۔ یہ وہ فیملی ہے جسے اپنے گھر کے علاوہ کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا۔ مریم پنجاب کی وزارت عالیہ جبکہ ان کے چچا شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ رہے نام اللہ کا!


