صرف 20 سال کیلئے
جب چین نے 1949 ء میں آزادی حاصل کی تب چین کی اقتصادی حالت انتہائی نازک تھی، انڈسٹری برائے نام تھی اور غربت کی شرح انتہائی بلند تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان جو 1947 ء میں آزاد ہوا تھا، ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کر رہا تھا۔ پاکستان کی ترقی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستان نے اپنا پہلا ڈیم ”وارسک“ 1949 ء میں تعمیر کرنا شروع کر دیا تھا اور پی آئی اے نے 1955 ء سے انٹر نیشنل پروازیں شروع کردی تھی۔ چین کے انجینئرز پاکستان میں ٹریننگ کے لئے بھیجے جاتے تھے۔ دنیا پاکستان کو ایشین ٹائیگر مانتی تھی۔ اگر 60 ء کی دہائی میں کوئی یہ دعویٰ کرتا کہ چین مستقبل میں پاکستان سے ترقی میں آگے نکل جائے گا تو دنیا اس بات کو کبھی تسلیم نہ کرتی۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم حماقتوں پر حماقتیں کرتے چلے گئے۔ ہم نے جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیا اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کیے رکھا جس کا نتیجے میں 1971 ء میں ملک دولخت ہو گیا اور رہی سہی کسر بھٹو صاحب کی معاشی پالیسیوں اور پرائیویٹ اداروں کو قومی تحویل میں لیے جانے نے پوری کردی۔ ملک میں سرمایہ کاری رک گئی اور انڈسٹری کا بیڑا غرق ہو گیا۔ جبکہ دوسری طرف چین نے اپنا سارا دھیان اور ساری توجہ ملک کی معاشی ترقی کی طرف مرکوز کیے رکھی۔
1978 ء سے لے کر 2018 ء تک کے 40 سال چین کی معاشی ترقی کے لئے بہت اہم سال تھے۔ دنیا آج اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ چین ان 40 سالوں میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے اور بہت جلد دنیا کی سپر پاور بننے کی جانب گامزن ہیں۔ ان 40 سالوں میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی اور عالمی سیاست اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 1979 ء میں ایران میں انقلاب آیا، روس افغانستان میں داخل ہوا اور 10 سال تک افغانستان میں جہاد کو لڑا گیا، افغانستان میں روس کو شکست ہوئی اور 15 نئے ممالک وجود میں آ گئے۔
2001 ء میں نائن الیون ہوا اور امریکہ تقریباً 50 ملکوں سمیت افغانستان پر حملہ آور ہوا اور 20 سال تک افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی مگر ان سب ہنگاموں اور جنگوں کے باوجود چین نے اپنی توجہ صرف اپنی ترقی پر مرکوز کیے رکھی۔ آپ کو ان سب مذکورہ بالا واقعات میں کہیں چین کا نام تک نہیں ملے گا، چین نے خود کو اپنے ملک تک محدود کئے رکھا اور اپنا فوکس کلیئر رکھا۔ ان 40 سالوں میں چین نے سوئی سے لے کر جہاز تک اور موبائل فونز سے لے کر بحری جہاز تک بنا ڈالے، چین ان 40 سالوں میں دنیا کی فیکٹری بن گیا اور آج دنیا کی معاشی ترقی کو چین کے بغیر تصور کرنا بھی محال ہے۔
شاید یہ بات آپ کے لئے حیران کن ہوگی کہ ان 40 سالوں میں چین نے اپنے ملک میں 88 سے 90 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا جو کہ جدید دنیا میں ایک ریکارڈ ہے اور 2021 ء میں چین دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے سرکاری طور پر اعلان کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے مقر کردہ غربت کے پیمانوں کے مطابق اب اس کے ملک میں کوئی بھی غریب باقی نہیں ہے۔ یہ ہوتی ہے عوام دوست ریاستیں۔
دوسری طرف پاکستان جس کی 50 اور 60 کی دہائی میں ترقی ایک مثال تھی، نے 1978 ء سے لے کر 2018 ء تک اپنا فوکس اور توجہ ملکی ترقی کی بجائے عالمی طاقتوں کا آلہ کار بننے پر مرکوز کیے رکھی۔ ہم نے 10 سال تک خود کو امریکہ کا اتحادی بنا کر روس کے خلاف جہاد جاری رکھا، جہادی پاکستان میں تیار ہوتے تھے اور افغانستان جاکر لڑتے تھے۔ اس جہاد کے چکر میں لاکھوں افغانی پاکستان منتقل ہو گئے جنہوں نے بعد میں پاکستان کو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر تحفے میں دیا اور ملکی معیشت پر اس کا کتنا برا اثر پڑا اس کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ جس وقت دنیا انڈسٹریل اور ایگریکلچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مصروف تھی تب ہم اغیار کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑنے میں مصروف تھے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ روس کی شکست کے بعد خود سپر پاور کی کرسی پر براجمان ہو گیا اور ہمارے حصے میں سوائے جہادی فیکٹریوں کے کچھ نہیں آیا۔
نائن الیون کے بعد امریکہ کو ایک بار پھر سے ہماری ضرورت پیش آئی اور ہم نے بنا سوچے سمجھے انہی افغانوں کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شمولیت اختیار کرلی کہ جن کو ہم نے خود تیار کیا تھا۔ امریکہ خود تو افغانستان سے ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھا تھا، اس کے اپنے ملک میں ایک پتھر تک نہیں گرا مگر پاکستان میں دہشت گردی کی جو خون ریز لہر اٹھی اس نے پاکستان کا سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیا۔ سرمایہ کاری تو بھول ہی جائے جو تھوڑی بہت انڈسٹری باقی بچی تھی انہوں نے بھی اپنا سرمایہ اور انڈسٹری کو بیرون ملک منتقل کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔
لاکھوں پاکستانی خود کش حملوں میں بے موت مارے گئے جن کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ بیروزگاری اور غربت آخری حدوں کو چھونے لگی۔ ان سب غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم پائی پائی کے محتاج ہیں، اگر دوست ممالک ہمارے اکاؤنٹس میں پیسے جمع نہ کروائیں تو ہم دیوالیہ ہو جائے اور اگر آئی ایم ایف ہمیں سود پر ڈالر نہ دیں تو ہم سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ چاہے ہمیں یہ بات کتنی ہی ناگوار گزرے مگر دنیا اب ہمیں ایک بھکاری کی طرح ہی دیکھتی اور ڈیل کرتی ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہم بہت سارا قیمتی وقت ضائع کرچکے ہیں مگر اپنے آپ کو سنبھالنے اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا تھوڑا سا وقت ابھی بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم چین کی طرح 40 نہیں تو کم سے کم 20 سال کے لئے اپنے آپ کو صرف اپنے ملک تک محدود کر لیں۔ ان 20 سالوں کی پلاننگ کے لئے تمام اسٹیک ہولڈر مل کر بیٹھیں اور ایک ہی وقت میں یہ فیصلہ کر لیں کہ اس ملک کو چلانا کیسے ہے۔ اگر جمہوری طریقے سے چلانا ہے تو کھلے دل سے عوامی فیصلے کو قبول کریں اور جو سیاسی جماعت اکثریت حاصل کرے اس کو بنا رکاوٹ کے حکومت بنانے دی جائے۔
ایک ہی دفعہ معاشی پالیسیاں مرتب کرلی جائیں اور 20 سال تک ان کو من و عن نافذ کر کے ان پر عمل کروایا جائے۔ سیاسی استحکام اور ملکی امن پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ان 20 سالوں میں اپنے اداروں کو ٹھیک کیا جائے، کرپشن پر قابو پانے کے لئے آخری حد تک جایا جائے، سرمایہ داروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، پولیس کا نظام بہتر کیا جائے، تعلیمی نظام کو از سر نو مرتب کیا جائے، فرقہ واریت اور لسانی نفرت کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے، آئی ٹی سیکٹر کو سہولیات فراہم کی جائے اور آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کو سمجھنے کے لئے ادارے قائم کیے جائے۔
اگر ہم ان 20 سالوں میں خود کو تنازعات سے دور رکھیں، عالمی طاقتوں کا آلہ کار بننے سے پرہیز کریں اور صرف اپنے دفاع اور ملکی مفادات کو ترجیح دیتے رہے تو ان 20 سالوں کے بعد ہم اگر ایک عالمی طاقت نا بھی بن سکے تو علاقائی طاقت تو بن ہی جائیں گے۔ اس کی واضح مثال چین ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ایک دفعہ ہم یہ تجربہ بھی کر کے دیکھ لیں ورنہ کھائی میں گرنے کا سفر تو ویسے بھی جاری ہی ہے۔


