ہے مجھ کو حکم نفرت الگ کر دوں


میں اپنے کمرے میں کرسی پر سر ٹکائے ہوئے کچھ لمحوں کے لئے دم لے رہا تھا کہ بیٹا ٹی وی لانچ میں داخل ہوا۔ اگرچہ میں اس وقت آنکھیں موندے ہوئے قیلولہ کر رہا تھا مگر پھر بھی میں نے بیٹے کی قدموں کی آہٹ کو محسوس کرتے ہوئے اپنی آنکھوں کو کھول کر اس کی طرف دیکھا۔

میں نے اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ جی بیٹا آپ کچھ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اس کی خاموشی پر میں نے مزید کہا کہ بیٹا کیا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟

بیٹے نے کہا کہ بابا کیا بچوں کو اپنے بابا سے اگر کوئی کام ہی ہو تو وہ ان کے پاس جایا کریں؟

بیٹے کا دیا ہوا جواب مجھے کچھ شرمندہ سا کر گیا تھا۔ میں نے اپنی جھینپ مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے بیٹے سے کہا کہ نہیں بیٹا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ آپ کسی بھی وقت کسی بھی کام کے بغیر میرے پاس آسکتے ہیں۔

بیٹے نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور میرے چہرے کی طرف نگاہ ڈال کر مجھ سے کچھ یوں کہا، بابا میں آپ کے پاس یہ کہنے کے لئے آیا ہوا ہوں کہ مجھے آپ سے محبت ہے۔

میں نے حیرانی سے بیٹے کے چہرے کی طرف نظر دوڑائی تو مجھے اس کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ نظر آئی۔ مجھے بیٹے کہ یہ الفاظ معمول سے کچھ ہٹ کر لگے سو میں نے اس سے از راہ تفنن کہا کہ بیٹا مانا کہ آپ اب جوان ہو رہے ہیں مگر آپ کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ یہ الفاظ آپ نے کس کے سامنے ادا کرنے ہیں۔

بیٹے نے میرے چہرے پر پیار بھری نگاہ ڈالی اور مجھ سے پوچھا کہ بابا آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ الفاظ مجھے کس کے سامنے ادا کرنے چاہیے ہیں؟

میں نے پھر از راہ مذاق بیٹے سے کہا کہ بیٹا آپ کوئی خوبصورت سی دوشیزہ دیکھ کر یہ الفاظ اس سے کہیں۔ اگر یہ الفاظ اثر کر گئے تو آپ کی بات کو ہم آگے چلائیں گے۔

میں نے بات مکمل کی تو بیٹا پھر مجھ سے مخاطب ہوا اور کہا کہ نہیں بابا ایسا کچھ نہیں ہے مجھے یہ الفاظ آپ سے ہی کہنے تھے کہ میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔

بیٹا اپنی بات ختم کر کے خاموش ہی ہوا تھا کہ میں نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا گو کہ بیٹے کا یہ اظہار محبت آج مجھے ایک نئی زندگی دے گیا تھا مگر مجھے یہ موضوع پھر بھی کچھ عجیب سا لگ رہا تھا کہ ہم نے تو کبھی بھی اپنے والدین سے اظہار محبت نہ کیا تھا۔ شاید کہ ہمارے ہاں ایسا کرنا کچھ معیوب سا بھی جانا جاتا تھا۔ ہمارے نزدیک تو محبت گھر والوں سے چھپ کر سات پردوں میں کرنے کی کوئی شہ تھی۔ میں اس بات کا اظہار لفظوں میں بھی کر دیتا مگر باپ و بیٹے کے درمیان شرم آڑے آ گئی تھی۔

بیٹے نے مجھے سوچوں میں گم پایا تو بنا توقف کیے ہی مجھ سے کہا کہ بابا میں نے آج ایک حدیث پڑھی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”جب آدمی کو اپنے کسی بھائی سے محبت ہو، تو اسے چاہیے کہ اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔“

بابا ابھی میں اماں کے پاس سے آ رہا ہوں ان کو یہ بتا کر کہ مجھے ان سے محبت ہے اور میں آپ کو بتا کر پھر اپنے بہنوں اور بھائیوں کو بھی بتانا ہے کہ مجھے ان سے بھی محبت ہے۔

میں آج اپنے ہی بیٹے کے سامنے بے بس سا نظر آ رہا تھا کہ چاہتے ہوئے بھی اس کو اتنا نہ بتا پا رہا تھا کہ بیٹا مجھے بھی آپ سے محبت ہے۔ سوچا وہی گھسی پٹی سی دلیل اٹھا کر بیٹے کے سر پر تھوپ دوں کہ کم از کم بیٹا خاموش تو ہو جائے کہ بیٹا جہاں محبت ہو وہاں اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لیکن میں ایسا چاہتے ہوئے بھی نہ کر سکا کہ میرے ذہن میں بیٹے کی بیان کردہ حدیث کے الفاظ مسلسل گونج رہے تھے۔ اس وقت مناسب یہی لگا کے چپ سادھ لوں سو خاموشی ہی میں عافیت جان لی۔

بیٹا میرے پاس ہی موجود تھا اور شاید اس نے میرے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا تھا وہ میرے قریب آیا اور میرے ماتھے پر بوسہ دے کر مجھے گلے لگا لیا اور مسکرانے لگا۔

اس وقت مجھے ایسے لگا کہ جیسے میں دوبارہ سے جوان ہو گیا ہوں۔ میں نے بیٹے سے کہا کہ بیٹا آپ نے کہہ دیا کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے سو اتنا ہی کافی ہے یہ گال و ماتھا چومنے کی کیا ضرورت ہے؟

بیٹے نہ کہا کہ بابا آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟

میں نے بیٹے سے جو اباً کہا۔ بیٹا ایک تو یہ ہمارے معاشرے میں کچھ معیوب سا سمجھا جاتا ہے۔ مرد کو اس کے احساسات کو اپنے اندر ہی چھپا کر رکھنا چاہیے تاکہ وہ مضبوط نظر آ سکے۔

بیٹے نے کہا، بابا بے شک وہ مرد اندر سے بے انتہاء کمزور ہی کیوں نہ ہو؟ اتنا کمزور کے اپنے احساسات کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی اس کو نہ آتا ہو؟ بابا ذرا مجھے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ تو بتائیں کے احساسات کا اظہار کرنے کے لیے ہمت چاہیے یا کہ اس کو چھپانے کے لئے ہمت درکار ہے؟

یقیناً بیٹا ان احساسات کا اظہار کرنے کے لئے بہت زیادہ ہمت درکار ہے۔

اس سے پہلے کہ میں مزید کچھ کہتا بیٹے نے مزید بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ بابا میں نے آج یہ بھی پڑھا ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ ”

بابا کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ ہمارے دلوں سے رحم نکال لیا گیا ہے اور اب ہمارے دل کچھ اس قدر سخت ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنے آس پاس، کسی درد مند کے درد کا احساس ہی نہیں ہو پاتا ہے۔ بابا دلوں کی سختی جنت کے مکینوں کا وصف نہیں ہے۔

بیٹے کہ یہ الفاظ میرے اندر ایک خوف کی سی کیفیت پیدا کر گے تھے اور حد تو یہ کہ میں نے یہ الفاظ نہ پہلے کہیں پڑھے اور نہ ہی پہلے کہیں سنے اور میں تو اتنا لاچار سا کھڑا تھا کہ اپنے بچے کا ماتھا چوم کر یہ بھی نہ بتا سکتا تھا کہ بیٹا مجھے بھی آپ سے بہت محبت ہے۔ شاید کہ میں بھی ان لوگوں کی صف میں شامل ہو چکا تھا جو کہ محبت کے اظہار میں کنجوسی برتتے برتتے اب اس قدر سخت دل ہو گئے تھے کہ ان میں اب جذبہ محبت کی کوئی بھی رمق باقی نہ رہ گئی تھی۔

بیٹے نے مجھ سے اب جو کہا وہ تو مجھ پر کپکپاہٹ سی طاری کر گیا تھا کہ بابا ایک حدیث ہی کے الفاظ ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے مومن کی صفت کچھ اس طرح بیان کی ہے کہ مومن سراپائے الفت ہے۔

شاید ہمارے اس معاشرے میں موجود زبان سے شعلے اگلتے ہوئے مومن دیکھ کر میرے ذہن نے بھی مومن کا کوئی اور ہی نقشہ کھینچ کر رکھا تھا کہ اب میرے اس دل میں نفرت کی اتنی فراوانی ہو گئی تھی کہ مخلوق خدا آج مجھ سے پناہ مانگتی ہوئی نظر آتی تھی۔ شاید اس محبت کے اظہار کے فقدان ہی کی سبب ہمارے بچے اس جذبے کو نہ سمجھ پائے اور اس کو تلاشنے کو باہر نکل گئے۔ پھر وہاں موجود گھات لگائے ہوئے چند وحشی بھیڑیوں نے ان کو آن دبوچا۔ مشینوں کے سے اوصاف لئے ہوئے ہم جیسے کتنے ہی انسانوں کے رویوں کے سبب ہمارے معصوم بچے ان وحشی درندوں کی وحشت کا شکار بن گے۔

ہے مجھ کو حکم نفرت الگ کر دوں،
کہ محبت میں ملاوٹ اب نہ ہوگی۔
محمد عامر آزاد

Facebook Comments HS