اللہ تعالیٰ پاپڑ کے بارے میں کیا حکم فرماتا ہے؟
یحییٰ رومی ابھی اپنی والدہ سے پوچھ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاپڑ کھانے کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟ میرے چھے سالہ بیٹے کا اپنی والدہ سے یہ سوال میرے لیے چونکا دینے والا تھا۔ بادی النظر میں یہ ایک عجیب سوال تھا۔ عجیب کیوں؟ ؟ عجیب اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اس کی شان اعلیٰ و ارفعیٰ ہے اور دوسری طرف پاپڑ ایک حقیر سی شے ہے جسے اکثریتی لوگ کھانے کے قابل بھی نہیں سمجھتے۔ ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق؟
کیا میرے بیٹے نے ایسا سوال پوچھ کر خدا کی شان میں گستاخی کی ہے؟ کیا میرا بیٹا کم فہم ہے کہ وہ اتنا چیز نہیں سمجھ پا رہا کہ خدا کائنات کے بڑے بڑے کاموں میں مصروف ہے وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں حکم نہیں دیتا؟ در اصل ہم بڑوں کے لیے یہ سب سوال وہ ہیں جن کے پوچھے جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ایک بچہ جس کا ورلڈ ویو ابھی اپنی ارتقائی حالت میں ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کو رٹائے جانے والے تصورات کی عملی تشریح اپنی ارد گرد کی دنیا سے کرنے کی کوشش کرتا ہے ؛ اس کے لیے یہ سوال انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
ہماری نظر میں اللہ تعالیٰ کائنات کی مرکزی قوت ہے۔ اس کی ذات اعلیٰ ہے۔ لیکن ایک چھے سال کے بچے کے لیے اللہ تعالیٰ کا پاپڑ کھانے اور نہ کھانے میں حکم کلیدی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کی دنیا میں یہی چیزیں اہمیت کی حامل ہیں۔ انہیں چیزوں کے ہونے یا نہ ہونے سے اس کی زندگی کی خوشیوں کا تعین ہوتا ہے۔
زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے لیے چند چیزیں اہم ہوتی ہیں اور دوسری چیزیں غیر اہم یا بے معنی ہوتی ہیں۔ اہم چیزیں ہی ہمارا اپنے خالق سے تعلق استوار اور مضبوط کرتی ہیں۔ جیسے ٹیکنالوجی کے انقلاب سے پہلے قدرتی تبدیلیوں مثلاً بارش وغیرہ کے لیے ہم آسمان کی طرف دیکھتے تھے اور دعائیں مانگتے تھے اب صورت حال بدل گئی ہے۔ اب موبائل سے بارش کے ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اگر بارش کی اشد ضرورت ہو تو مصنوعی بارش برسا لی جاتی ہے۔ کیا پہلے خدا بارش کا حکم فرماتا تھا اور اب بارش کا حکم نہیں فرماتا؟
ایک وقت تھا دکاندار گاہک کو خدا کی طرف سے رحمت سمجھتا تھا لیکن اب لوگوں کو مارکیٹنگ کا اندازہ ہو گیا ہے۔ پہلے کہتے تھے کہ رزق میں برکت نہیں رہی اب کہتے ہیں کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔ روپے کی قدر کم ہو گئی ہے۔ یعنی وقت کے ساتھ ساتھ خدا کا تصور مزید مجرد ہوتا جا رہا ہے۔ ہم پہلے سے زیادہ مجرد ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے خیالات حقیقی دنیا کی بجائے ورچوئل دنیا سے نکل کر ہمارے ذہن کی ورچوئل دنیا میں چلے جاتے ہیں۔
ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا سب جانتا ہے۔ لیکن میرے جیسے کم علم کے مقابلے میں چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی بہت زیادہ جانتی ہے۔ کیا خدا کا تصور مزید مجرد ہوتا جائے گا؟ یہ سوال بہت قبل از وقت ہے مگر اس حوالے سے سوچنے والے کہتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں متوسط ذہن رکھنے والوں کے پاس خدا کے وجود کے لیے دلائل بہت کم رہ جائیں گے۔ ان کو سوچنے، کرنے اور بولنے کے لیے جو تحریک چاہیے ہو گی وہ انہیں اپنے اردگرد کی دنیا میں مل جائے گی۔
یہ دنیا جس رفتار سے ہر عمل اور ہر پہلو کو مونیٹائیز کر رہی ہے، بعید نہیں ہے کہ ہمارے شعور کے دائرہ کار کو بھی بہت جلد پوٹینشل مارکیٹ کے طور پر شناخت کر لیا جائے گا۔ اس کے لیے ایک بزنس آئیڈیا سوچا جائے گا۔ یعنی ایک ایسی سروس فراہم کی جائے گی جو بتائے گی کہ اس سروس کے استعمال سے آپ کو فلاں فلاں فائدہ ہو گا۔ جب ایک خاص تعداد میں لوگ اس سروس کو استعمال کرنے لگ جائیں گے تو یہ سروس مفت کی بجائے پیڈ اور کمرشل بیسڈ دو پلانز میں ملنا شروع ہو گی۔ پیڈ والے پیسے دے کر سروس حاصل کریں گے اور مفت والے گھٹیا قسم کی کمرشل دیکھ کر سروس حاصل کریں گے۔ لیکن اس سب میں خدا کا تصور مزید مجرد ہو جائے گا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارا خدا کے ساتھ تعلق ذاتی ہونا چاہیے۔ یہ تعلق وقت کے ساتھ اپ ڈیٹ ہوتا رہنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو جس طرح ہم مختلف چیزیں ان لرن کرتے ہیں ایسے ہی خدا کا تصور ہمارے ذہنوں سے ان لرن ہوتا رہے گا اور ہم ’نتھنگ نیس‘ کی گھاٹی میں گرتے چلے جائیں گے۔


