روح کا موسم، محبوبہ کا انتظار، ڈریکولا اور خوف
رواں سال 2024 کا ماہ جنوری چند دن بعد اپنی طبعی عمر پوری کرنے جا رہا تھا۔ بہاول پور شہر کے اوپر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ صبح صبح کا سما فجر کاذب اور فجر صادق کے درمیان کا تھا جو دھند کی وجہ سے مزید دھندلا ہوا پڑا تھا ایسے جیسے ارواح فضا کے اندر زمین کے بہت قریب محو پرواز ہوں۔
جب اس طرح کا موسم ہوتا ہے تو میرے اندر کا موسم باہر کے موسم سے ہم آہنگ ہونے کے لیے چھوٹے بچے کی طرح کلکاریاں مارتا ہے کہ میں باہر کی کھلی فضا اور سرد ہوا کا حصہ بن جاؤں۔ میں نے موٹر سائیکل گھر سے باہر نکالا اور غیر ارادی طور پر چل پڑا۔ کہاں جانا ہے؟ مجھے خود بھی معلوم نہ تھا۔
حسینی چوک سے بائیک خود بخود مشرق کی جانب مڑ پڑا۔ یہاں قریب ہی گلیوں میں کہیں رقاصاؤں کے گھر ہوا کرتے تھے۔ اچھا، رقاصاؤں کے ذہن میں صدیوں سے یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ پائے کا سالن ان کی پنڈلیوں کو مضبوط کرتا ہے جس سے انھیں کافی دیر تک رقص کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہاں قریب ہی ایک بوڑھا آدمی پائے کا سالن بناتا تھا جس کا ایک حصہ ان رقاصاؤں کے گھروں میں چلا جاتا تھا۔ یہ اس قدر لذیذ ہوتا تھا کہ میرے جیسے خود ساختہ معززین بھی اسے کھانے کھنچے چلے آتے تھے۔ میں پائے کے سالن کے ساتھ ناشتہ کرنے آتا تو چاچا منا کے موٹر رکشہ میں چھپ کر بیٹھا رہتا تھا، مبادا مجھے وہاں دیکھ کر کوئی کہہ دے ”ارے شیخ! تو ادھر؟“ ۔
دنیا میں ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے معزز سمجھا جائے چاہے اس کے کرتوت کتنے ہی کالے کیوں نہ ہوں۔ خیر۔ پیالے میں بھاپ اگلتے پائے کے شوربہ کے اوپر گرم مصالحے کی برسات کروا لیتا۔ چاچا منا تندور سے گرم گرم روٹیاں اٹھا کے لاتا جاتا اور میں رکشہ کے اندر ہی بیٹھے کھاتا جاتا۔ پھر بابا فوت ہو گیا۔ پائے کے سالن کا اسٹال بھی ختم ہو گیا۔ رقاصاؤں کے بارے میں پتہ چلا کہ کچھ نے تو اعلٰی باوردی اور بغیر وردی افسران، اثر و رسوخ والے سیاستدانوں اور بڑے بزنس ٹائیکونز کے ساتھ شادیاں کر کے ان کی ”خفیہ والیاں“ بن کر پس پردہ رہتے ہوئے ”امور سلطنت“ اپنے ہاتھ میں لے لیے اور کچھ شو بز کی دنیا میں جانے کے لیے بڑے شہروں کی طرف ہجرت کر گئیں۔ خیر۔
اجڑے پجڑے بغداد ریلوے اسٹیشن کے قریب میں نے یوٹرن لے کر دہائیوں سے اپنی ٹرین محبوبہ کے منتظر اس ریلوے پھاٹک کو کراس کیا جس کا اپنی محبوبہ سے اب وصال پتہ نہیں ہو کہ نہ ہو۔ خیر۔ بہاول کینال کی جانب جاتی پگڈنڈی نما سڑک پہ دائیں بائیں درخت تھے اور دائیں جانب اوس پڑے سبزہ کی بہار دیتے کھیت بھی۔ اچانک مجھے اپنے جسم پہ برفانی ہوا کا احساس ہوا۔ میرے ہاتھ سردی سے شل ہو رہے تھے۔ ایک دم میرے ذہن میں برام سٹوکر کے شہرہ آفاق ناول ڈریکولا کے مناظر چلنا شروع ہو گئے۔
تقریباً بارہ سال پہلے میں نے ایچ ٹی سی موبائل فون سیٹ خریدا تو کمپنی نے اپنی طرف سے اس کے اندر نوبل انعام یافتہ ناولز سمیت چند عالمی شہرت یافتہ ناول بھی رکھے ہوئے تھے۔ ڈریکولا بھی ان میں شامل تھا۔ ایک رات جب میں اپنے موبائل فون پہ ڈریکولا ناول پڑھ رہا تھا۔ اس وقت جس شہر میں تھا وہاں رات کے وقت پارہ منفی دس ہو چکا تھا، باہر ہلکی ہلکی برفباری ہو رہی تھی۔ میرا کمرہ عمارت کی دوسری منزل پہ تھا جس کے دو طرف شیشے کی کھڑکیاں تھیں جو باہر سے درختوں اور ویرانے کا منظر دکھاتی تھیں۔
اب جب میں اس باب پہ پہنچا کہ ڈریکولا لندن سے آئے مہمان کو جس کا بعد میں وہ خون پینا چاہتا تھا، اسے اپنی بگھی میں بٹھائے ٹرانسلوانیا اپنے قلعہ کی طرف لے جانے کے لیے کاٹتی ہوئی برفانی ہوا اور انتہائی گھپ اندھیرے میں پہاڑوں کے درمیان گزر رہا ہے اور شعلہ اگلتی انگاروں جیسی آنکھوں والے بھیڑیے بگھی کا پیچھا کر رہے ہیں تو اچانک مجھے محسوس ہوا کہ ڈریکولا نے میرے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا ہے اور مجھے کہا ”آؤ اکبر! چلیں“ ایسا محسوس ہوتے ہی میرے جسم میں خوف کی جو لہر ایک کرنٹ بن کر دوڑی، اس وقت بھی مجھے اپنے جسم پہ انتہائی سرد برفانی ہوا کے ٹکرانے کا احساس ہوا تھا۔ خیر۔
باغوچی پل سے بائیک نہر کے ساتھ ساتھ ہی دوبارہ سے مشرق کی جانب مڑ گیا۔ غالباً جنوری میں پانی کی طلب کم ہو جانے سے اس نہر میں پانی نہیں چھوڑا جاتا۔ نہر ایسے خشک پڑی تھی جیسے کسی کی آنکھیں اپنے کسی پیارے کی جدائی میں روتے روتے آخرکار خشک ہو جاتی ہیں اور پھر رونے کا کام دل خود سنبھال لیتا ہے۔ خیر۔
نہر کے ایک کنارے کے ساتھ سرسبز فصلوں والے کھیت، دوسرے کنارے پہ حاصل پور ہائی وے کو کراچی نیشنل ہائی وے کے ساتھ ملانے والا بائی پاس روڈ اور روڈ کے ساتھ ساتھ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی عقبی دیوار چل رہی تھی۔ نہر کے کناروں پہ لگے پرانے درختوں پہ اٹھارہ ہزار کلو میٹرز کا سفر کر کے آنے والے رنگ برنگے سائبیرین اور یورپین پرندے بغیر ویزے کے آئے بیٹھے تھے۔ میں نے بائیک نہر کے کنارے کھڑا کیا اور اونٹ کو بھی اپنے اندر چھپا لینے والی نہر میں اتر گیا۔ مجھے عجیب سی دہشت نے لپیٹ میں لے لیا۔ ایسا لگا جیسے اژدھے نے مجھے اپنے منہ میں لے لیا ہے۔ کبھی لگتا نہر کے درختوں پہ بیٹھی بہت ساری بلائیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہوں ”واپس چلے جاؤ، واپس چلے جاؤ“ ۔
میں نے عجیب منظر دیکھا، نہر کے سڑک کی طرف لگے درخت تو صحیح سلامت کھڑے تھے لیکن وہ درخت جن کا جھکاؤ نہر کے اندر کی جانب تھا ان کے کئی فٹ چوڑے تنے کاٹے جا چکے تھے۔ دنیا میں کہیں بھی نہروں کے کناروں پہ لگے درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اب اگر ان درختوں کے کاٹے جانے سے اس دیو ہیکل نہر کے پشتے جگہ جگہ پہ کمزور ہو چکے ہیں اور کبھی وہ مستقبل میں ٹوٹتے ہیں تو دریا جیسی اس بڑی نہر کا سیلابی پانی چنگھاڑتا اور پھنکارتا ہوا بہت بڑی فوجی چھاؤنی رکھنے والے کئی کلو میٹرز پہ پھیلے بہاول پور شہر کو اپنے سینگوں پہ اٹھا لے گا۔ چلو، کچھ لوگوں کی جائیدادیں بن گئیں، کچھ کے بنک اکاؤنٹس بھر گئے چاہے لاکھوں انسانوں اور دفاع کو ممکنہ خوفناک خطرے کے منہ میں ہی دینا پڑا۔
نہیں ضرورت میرے دیس کو باہر کے دشمنوں کی
اپنی آستینوں میں سانپ اتنے پال رکھے ہم نے
جھوٹی کہانیوں سے میرا دل نہ بہلا اے واعظ
وردی، بے وردی غدار اتنے سنبھال رکھے ہم نے
اکبر میاں، بچایا خدا نے اس دیس کو زہروں سے
ورنہ دسترخواں پہ بچھو اتنے ڈال رکھے ہم نے
جب تک آپ ہر شخص کے لیے شہری اور زرعی جائیداد بنانے اور ملکیت رکھنے کی حد مقرر کر دینے والا قانون بنا کر ہوس کے سامنے بند نہیں باندھ دیتے، آپ ملک سے کرپشن ختم کر ہی نہیں سکتے چاہے جتنے مرضی تھنک ٹینکس بنا لیں جتنی مرضی تقریریں کر لیں۔ خیر۔
آج 15 فروری 2024 کو میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں تو پاکستان کے جنرل الیکشنز ہو چکے ہیں۔ مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلٰی کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔ ایک عورت کا پہلی بار اس صوبہ کا وزیر اعلٰی بننا ایک بڑی مثبت تبدیلی کا آغاز ہو گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آصفہ بھٹو کو بھی سندھ کا وزیر اعلٰی بنا دیا جائے۔ اس سے معاشرے کے روایتی جاہلانہ مائنڈ سیٹ میں بہت بڑی تبدیلی آ جائے گی اور غیرت کے نام پہ روا رکھے جانے والے کئی مظالم کا راستہ رک سکتا ہے۔ عمران خان اچھی باتیں کرتا تھا لیکن اس کی جیب میں بھی قائد اعظم کی طرح کئی کھوٹے سکے تھے۔ پاکستان اب نفرت کی سیاست کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔
ہم مزید کتنے سالوں تک آئی ایم ایف اور عالمی برادری کے سامنے کشکول اٹھا کر کھڑے رہیں گے؟
جیسے مجھے ڈریکولا ناول پڑھتے ہوئے اور بہاول کینال کے اندر چلتے ہوئے خوف محسوس ہوا ایسے ہی کئی بے بنیاد خوف پاکستان کے عوام کے سامنے بھی لا کر کھڑے کر دیے گئے ہیں جو اس ملک کو آگے ہی نہیں بڑھنے دے رہے۔ پاکستان کو معاشی بحران سے باہر نکالنا چاہتے ہیں نا تو سب سے پہلے آپ کو مذہب، فرقوں، زبان، نسل اور برادری کے نام پہ پائی جانے والی نفرتوں کی کوکھ سے پیدا ہونے والے خوف کا خاتمہ کرنا ہو گا۔


