بشریٰ بی بی کی عدت، عمران کی سیاست
کوئی بھی مسلمان خاتون، دوران عدت دوسری شادی نہیں کر سکتی، چاہے وہ عدت بیوہ کی حیثیت میں کر رہی ہو یا طلاق کی صورت میں، اور اگر اتفاق سے کوئی ایسا نکاح کر بھی دیتا ہے تو وہ
Irregular marriage
کہلاتا ہے جو کہ بعد میں عدت ٹائم پورا ہونے کے بعد
Valid
تصور کیا جائے گا۔
یہ کیس محمدن لا کا اور سزا فوجداری قانونی کے تحت دی گئی۔ اور محمدن لا میں اس کی کوئی واضح سزا بھی نہیں ہے۔
اب معاملہ جب عمران خان کے کیس کا ہے تو بظاہر سیاسی جماعتوں نے پہلے عہد کر رکھا تھا کہ کسی بھی طرح عمران خان کو الیکشن سے باہر رکھا جائے یا مائنس ون کا فارمولہ اپنایا جائے اور بظاہر یہ فارمولا کام کر گیا، الیکشن سے ایک چند روز قبل عمران خان کو اہلیہ سمیت عدت کے کیس میں دس سال کی سزا دی گئی، نون لیگ یا پاکستان پیپلز پارٹی کے سامنے ضمنی الیکشن کے نتائج سامنے تھے، جب پنجاب میں 8 سے 6 نشستیں عمران خان نے جیتی تھی اور تب ہی سے عمران خان کے لیے کیسز بنانے کی تیاری کی گئی تھی۔ میڈیا کے مطابق تقریباً 100 کیس بانی تحریک انصاف پر بن چکے ہیں۔ یہ سلسلہ 2022 سے شروع ہوا تھا جب عمران خان کے خلاف نو کانفیڈنس کی مہم شروع کردی گئی تھی۔ نو کانفیڈنس تحریک بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جب باقی سیاسی جماعتوں کو لگا تھا کہ اوور سیز کا ووٹ عمران خان کو ہی پڑنا ہے۔
دوسری طرف عمران خان کی سیاسی غلطی یہ تھی کہ 2022 میں جب نو کانفیڈنس کے ووٹ کی تحریک کامیاب ہو چکی تھی تو وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے، اس نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کا فیصلہ کیا تھا، ان کو اسمبلیوں سے اس طرح نہیں جانا چاہیے تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے جب دیکھا کہ عمران کا ووٹ بینک 100 ٪ تک بڑھ سکتا ہے تو انھوں نے مل کر پی ڈی ایم بنایا، ان کا مقصد صرف اوور سیز ووٹ ووٹ ختم کرنا، اپنے کیسز ختم کرنا اور اپنا نیب چیئرمین لانا تھا جس میں وہ کامیاب گئے۔ اور ان کا باقی کام پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ نے کر دیا جب نواز شریف کی سزا ختم ہوئی اور اس کو الیکشن لڑنے کی اجازت ملی۔
یہ سب پی ڈی ایم کے لیے آسان نہ ہوتا اگر عمران خان کی جماعت پارلیمنٹ سے استعفے نہ دیتی، عمران خان نو کانفیڈنس کے بعد پارلیمنٹ میں اپوزیشن میں بیٹھ کر مخالفین کا مقابلہ کر سکتے تھے، لیکن خان صاحب شاید عوام کے پسند ہیں اور پارلیمنٹ تک پہنچ تو گئے لیکن سیاست کرنا ان کے بس کی بات نہیں دوسری جانب ان دنوں سیاستدانوں کے لیے کسی بھی طرح اہم بات یہ تھی کہ عمران خان کو کسی بھی طرح سزا ہو، وہ کسی بھی طرح عدالتوں سے نا اہل ہو، اور سزا تہ ان کو ملی لیکن عدت والے کیس میں اس کی اہلیہ کو جو سزا ہوئی وہ مضحکہ اور پاکستانی عورت کی توقیری پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
قرآن پاک نے عورت کو عدت شوہر کے گھر پر کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور سابق خاتون اول نے ہم نیوز کو انٹرویو دیتے کہا تھا کہ اس نے عدت سابق شوہر کے گھر میں پورا کیا تھا، سیکشن 246 محمدن لا کے مطابق دوران عدت نکاح کرنا فاسد میرج ہے، باطل نہیں فتویٰ عالمگیری کے مطابق فاسد نکاح وہ ہوتا ہے جو کہ جو کچھ ٹائم کے لیے نہ کیا / روکا جائے۔ جیسے عدت ٹائم وغیرہ۔
قران پاک کی آیت کے مطابق ؛
جس کی طرف تم (بالواسطہ) عورتوں کو کسی تجویز کے بارے میں اشارہ کرتے ہو یا جو تم اپنے اندر چھپاتے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ آپ ان کو ذہن میں رکھیں گے۔ لیکن ان سے چپکے سے وعدہ نہ کرو سوائے صحیح قول کے۔ اور جب تک مقررہ مدت پوری نہ ہو جائے نکاح کا فیصلہ نہ کریں۔ اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے اندر ہے، لہٰذا اس سے بچو۔ اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے۔ ”البقرۃ 2 : 235
بظاہر قانون پاکستان میں ایسی سزا نہیں جو کہ واضح ہو کہ فاسد شادی کی سزا سات سال ہو، ، اس کیس میں 496 پاکستان پینل کوڈ کا ذکر ہے،
اس شق کے مطابق؛
496 : جو کوئی بھی، بے ایمانی یا دھوکہ دہی کے ارادے سے، شادی شدہ کی جیسے شادی کی تقریب سے گزرتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس طرح قانونی طور پر شادی شدہ نہیں ہے، اسے سزا دی جائے گی کسی بھی وضاحت کی قید کی مدت کے لیے جو سات سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل ہو گا۔
واضح رہے کہ یہ شق نکاح کے اوپر نکاح کرنے کی بات کرتا ہے نہ کہ عدت کی۔
اس سیکشن کی تشریح سپریم کورٹ سے کروانی چاہیے لیکن بظاہر یہ سیکشن عدت کے کیس پر فٹ نہیں آتا، کیونکہ بشری بیبی کی طلاق ہوئی اس کے سابقہ شوہر کے بیانات ایڈمیشن ہیں کہ ان میں اور ان سابقہ بیوی میں طلاق ہوئی تھی۔
فوجداری کیسز میں اگر کیس دیر سے داخل کیا گیا ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے اور یہ 2018 کا کیس 2023 میں فائل ہوتا ہے۔ وہ نکاح خواہ جو کہ اس نکاح میں شامل ہوتا ہے وہ کافی عرصے خاموش رہتا ہے اور چار سال کے بعد آ کر اس ملزمان کے خلاف بیان دیتا ہے۔ 5 سال کے بعد کیس فائل ہوتا ہے اور 5 ماہ میں اس کیس میں ملزمان کو سزا بھی مل جاتی ہے، ویسے تو ایف آئی آر کبھی بھی درج کی جا سکتی ہے لیکن اگر ایک مدعی ایک دن بھی دیر سے ایف آئی آر درج کرواتا ہے تو اس کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے، کیونکہ ملزم قانون کا پسندیدہ بچہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کیس میں عمران خان کھٹکھتا بچہ نظر آ رہا تھا۔
عمران خان کی سیاست اپنی جگہ لیکن اس کیس میں اس کی اہلیہ کو سزا ملنا پروٹیکشن آف وومین 2006 کی خلاف ورزی ہے۔ اور اب اس کیس کو لے کر ملک کی خواتین کو سابقہ شوہروں کی جانب سے ہراساں کرنے کیا کیس داخل کرنے کا موقع مل چکا ہے اور ایک پینڈورا باکس کھل چکا ہے۔
علماء کرام کو اس نقطے پر اجتہاد کرنا چاہیے۔

