پاکستان کی تباہ حال معیشت قرضے اور سرکاری ملازمین


پاکستان کی آبادی چوبیس کروڑ سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی فی کس آمدنی خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت یہ، 1,456 ڈالر ہے، اس حساب سے 189 ممالک میں پاکستان 9 15 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کے موجودہ معاشی حالات کے تناظر سے اس میں مزید کمی ہوگی۔ پاکستان پر بیرونی قرضہ 66 کھرب روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اندرونی قرضہ اس کے علاوہ ہے۔ ملکی حکمرانوں کا سب سے عظیم کارنامہ اس وقت کسی بنک یا ملک سے قرضہ لینا یا پھر لیے گئے قرضے کو ری شیڈول کرنا ہے۔

دنیا کی تمام معیشتیں قرض لیتی ہیں اسی سے ان کی معیشت چلتی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک صنعتی اور اقتصادی پیش رفت کے لیے قرضے لیتے ہیں اور ان قرضوں سے اپنے ملک میں تجارت کو فروغ و دوام دیتے ہیں جبکہ پاکستان میں قرضے اس مقصد کے لیے نہیں لیے جاتے۔ پاکستان کے اقتصادی، تجارتی، معاشی اور مواصلاتی صورتحال کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان نے جو اتنا قرضہ لیا ہے وہ کہاں خرچ ہوا ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو دوسرے ممالک اور اداروں سے قرضے لیتا ہے اور اس کا بوجھ عوام پر ڈالتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت تاریخ کی بدترین مہنگائی ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں ہر روز کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ افغانستان، ایران اور انڈیا سے سمگلنگ کا ایک طوفان ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ سرعام سمگل شدہ چیزیں، تیل اور گاڑیاں پاکستان بھر میں مارکیٹوں میں بک رہی ہیں۔ سرحدی علاقوں کی ساری آبادی کو اس کام پر لگا دیا گیا ہے۔ جس سے پاکستان میں ٹیکسوں کی شکل میں حکومت کو جو آمدن آ رہی ہے وہ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر خدمات کے عوض ہی آ رہی ہے۔

زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ جس کا فائدہ بڑے زمیندار اٹھاتے ہیں۔ شرح سود زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک میں کاروبار کرنا عملاً ناممکن ہو گیا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے تجارت اور سرمایہ کاری کا ماحول ختم ہوتا جا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر کسی بھی کاروبار اور تجارت شروع کرنے میں اتنی مشکلات ہیں کہ ان کو دیکھ کر کوئی ہمت ہی نہیں کرتا۔ اور پھر کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ آپ کوئی بھی قانونی کام اس کے بغیر نہیں کر سکتے۔

جو لوگ تجارت سے وابستہ ہیں۔ ان کو بھتہ خور جینے نہیں دیتے۔ اس لیے یہ ملک بدترین معاشی اور انتظامی بحران کا شکار ہے اور اس بحران میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ ناقص پالیسیوں اور غیر ضروری حکومتی اخراجات کے وجہ سے ہو رہا ہے۔ سالانہ نو کھرب روپے پیسوں کی شکل میں حکومتی اخراجات ہیں جو افراد کو دی جاتی ہیں جو اس ملک کو چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان افراد کو جو مراعات دی جاتی ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں جس کی مالیت کا اندازہ بھی کھربوں میں لگایا جاسکتا ہے۔

دنیا میں جتنے ممالک نے بھی ترقی کی ہے ان سب نے حکومتی اخراجات کو کم کیا ہے اور فلاحی اور ترقیاتی اخراجات کو بڑھایا ہے۔ پاکستان میں جتنی بھی سیاسی حکومتیں آئیں سب نے صرف لوگوں کو اداروں میں بھرتی کیا ہے یہ دیکھے بغیر کہ ان اداروں میں ان افراد کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں۔ اور یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ جو افراد بھرتی کیے جا رہے ہیں ان کے پاس مطلوبہ شعبہ میں تعلیم اور مہارت اور تربیت موجود ہے۔ یوں اس ملک میں رشوت لے کر جن کو بھرتی کیا گیا ان لوگوں نے اس ملک کو اس کے اداروں کو اپنی گائے سمجھا۔

اس سے جتنا دودھ لے سکتے تھے لیا، جب دودھ دینے کا سلسلہ نہ رہا تو اس کو ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور اس کی کھال بھی اتار کر اب بیچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک پاکستان میں ہر ادارے میں بیشتر افراد ایسے ہیں کہ اگر ان کو ان کی ملازمتوں سے نکال دیا جائے تو بھی ان اداروں کی کارکردگی پر کچھ فرق نہیں پڑے گا بلکہ ان کے نہ ہونے سے ان اداروں کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں جو ادارے اور محکمے وفاق سے ختم کر دیے گے تھے۔ وہ افراد اور ادارے تاحال ویسے کے ویسے ہی ہیں اور ان کے ملازمین تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔ ان کی کی جگہ صوبوں نے بھی افراد بھرتی کیے ہیں۔ یہ ہزاروں افراد قومی خزانہ پر بوجھ ہیں۔ وہ ادارے جو خسارے میں جا رہے ہیں ان اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں غیر ضروری اور اضافی بھرتی کی گئی ہے جس کی وجہ سے حکومتی خزانے سے بہت زیادہ پیسے ان پر خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ تو ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو اس سے زیادہ بھیانک ہے۔

یعنی جو افراد عوام کی خدمت اور ریاست کے معاملات چلانے کے لیے بھرتی کیے گئے ہیں۔ ان افراد نے اپنے منصب کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنے مراعات اتنے بڑھا لیے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ افراد نہ صرف خود حکومت سے مراعات اور سہولیات لیتے ہیں بلکہ ان کے پورے خاندان اور ان کے مرنے کے بعد ان کے لواحقین بھی یہ مراعات وصول کرتے ہیں۔ ان کی شاہ خرچیوں کو پورا کرنے کے لیے ہر برس حکومت کا بجٹ بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں صدر پاکستان، وزیر اعظم آفس، گورنر اور صوبوں کے وزیر اعلی کے دفتروں کے سالانہ شاہانہ اخراجات ملک کے تعلیمی اور صحت کے بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس وقت ملک میں سرکاری اہلکاروں کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جن کی قیمت کھربوں میں ہے اور یہ گاڑیاں سالانہ تیل اور مرمت کی مد میں اربوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ امریکہ جیسے امیر اور طاقتور ملک میں ماسوائے چند اداروں کے کسی کے پاس سرکاری گاڑی نہیں ہوتی، یہی حال دیگر ترقی یافتہ ممالک کا ہے۔

آپ پاکستان کے کسی بھی شہر میں ہوں سرکاری گاڑیوں کو سرکاری افسروں کے بیگمات، بچوں اور رشتہ داروں کو بے دریغ استعمال کرتے دیکھ سکتے ہیں۔ ہفتے اور اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اس دن بھی یہ ساری گاڑیاں آپ کو مارکیٹوں اور دیگر جگہوں پر اس اشرافیہ کی خدمت میں ملیں گی۔ پاکستان میں چپڑاسی ہر دفتر میں ہوتے ہیں اگر پاکستان کی کل چپڑاسیوں کی تعداد دیکھی جائے تو یہ لاکھوں میں ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر دنیا میں اس کا تصور تک نہیں ہے۔

پاکستان میں ہم سرکاری ملازم بھرتے کرنے کے بعد اس کی خدمت کے لیے بھی کئی نوکر بھرتی کرتے ہیں۔ جبکہ دنیا میں جس کو نوکری کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے وہ اپنے سارے کام ایمانداری کے ساتھ خود کرتا ہے۔ مگر پاکستان میں بھرتی ہونے والے ملازم نہ اپنا کام ایمانداری کے ساتھ کرتا ہے اور نہ ہی اپنے ماتحتوں کو ایمانداری سے کام کرنے دیتا ہے۔ یہ سارے ماتحت ریاست، اور حکومت کی جگہ اس نوکر کے ذاتی مفادات کا خیال رکھتے ہیں اس مقصد کے لیے تمام سرکاری وسائل استعمال کیے جاتے ہیں۔

اور اس مقصد میں ریاست یا حکومت کا نقصان ہو تو اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔ اب تو سرکاری افسران ہر وقت لمبا ہاتھ مارنے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ملک میں جتنے سمگلر ہیں ان کی سہولت کاری یہی کرتے ہیں۔ ٹمبر مافیا، قبضہ مافیا، ٹینکر مافیا، شوگر مافیا، بھتہ مافیا یہاں تک کہ بھیک مانگنے والا مافیا بھی ان سرکاری اہلکاروں کی مدد و تعاون سے اپنا کام کر رہا ہے۔ اگر حکومت نے خسارے سے نکالنا ہے اور پاکستان نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو پھر اس نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہو گا۔

ملک میں ڈیجیٹل انتظام کو متعارف کروانا ہو گا۔ چند بنیادی کاموں کے علاوہ باقی سارے کام دنیا کی طرح پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے ہوں گے۔ ملک میں کام کرنے والوں کو صرف تنخواہ دینی ہوگی، باقی تمام مراعات اور سہولیات ختم کرنا ہوں گی اس لیے کہ ان پر اٹھنے والے اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ان کو مزید یہ ریاست برداشت نہیں کر سکتی۔ ملک میں شرح سود کو پانچ فیصد پر رکھ کر ملک کے لوگوں کو روزگار کے جانب لائے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں ہے۔

افغان مہاجرین کو اس ملک سے نکالے بغیر اس کی معیشت کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ سمگلنگ کا خاتمہ کیے بغیر بھی یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ سیاسی نمائندوں کو صرف پارلیمنٹ تک محدود کیا جائے اور ان کا کام صرف قانون سازی ہو۔ ان کو کوئی فنڈ نہ دیا جائے اور بڑے شہروں کو چھوڑ کر دیہی آبادی کو سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جائے۔ اور تعلیم پر بجٹ کا کم از کم سات فیصد خرچ کیا جائے تو یہ ملک بھی دوسرے ممالک کی طرح آگے بڑھ سکتا ہے۔

اس ملک کا مراعات یافتہ طبقہ اس کی تباہی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ سرکاری ملازمین چاہے وہ کسی بھی سطح پر ہوں یکساں قوانین کے تحت ہوں اور ملک میں اجرت کا ایک متعین معیار ہو جس پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔ یہاں جس کو سب سے زیادہ تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں وہ سب سے زیادہ کرپشن اور استحصال کرتا ہے۔ اور جس کو جتنا اختیار دیا جاتا وہ اس کو اپنے ذاتی فائدے یا کسی اور کے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس لیے یہاں قانون کی پاسداری کہیں نظر نہیں آتی۔

آپ کے پاس پیسہ ہے تو آپ اپنے گاڑی کے شیشے کالے کروا سکتے ہیں، کلاشنکوف بردار رکھ سکتے ہیں، عدالت سے سزا پانے کے بعد بھی اپنے ہی گھر پر رہ سکتے ہیں۔ کسی بھی شہر میں جائیں تو اس شہر کی پولیس آپ کے لیے شاہراہیں خالی کر کے سینکڑوں کی تعداد میں آپ کو جلوس کی شکل میں پروٹوکولز دے گی۔ اور جو شہری پورا پورا ٹیکس دے اسے ہر سرکاری ہرکارہ ہر جگہ ذلیل کرے گا۔ ایسے میں ہم حب الوطنی صرف ملی نغموں سے لوگوں کے دلوں میں پیدا نہیں کر سکتے۔

حب الوطنی انصاف پسند معاشروں سے آتی ہے۔ یہ جو طبقات بنائے گئے ہیں اس میں یا تو غلام بنتے ہیں یا پھر لوگ بغاوت کرتے ہیں۔ یہ بغاوت کہیں عملی ہوتی ہے اور کہیں فکری۔ عملی بغاوت کو تو آپ ڈنڈے کے زور سے کچل سکتے ہیں لیکن فکری بغاوت کسی نہ کسی منطقی نتیجے تک ضرور پہنچتی ہے۔ اب لوگ فکری بغاوت کی طرف جا رہے ہیں۔ اس لیے ہوش کے ناخن لیں اور اس ملک کو اس طرح چلائیں جس طرح دنیا میں دیگر ملک چل رہے ہیں۔ اپنی عیاشیوں کے لیے ملک گروی رکھ کر قرض لینا بند کر دیں اور یہ بادشاہوں والی مراعات دینا بند کر دیں۔ خدمت کے صلے میں اجرت دیں۔ اجرت کے علاوہ جتنی بھی دولت بانٹی جا رہی ہے اس کو ملک کے مفاد عامہ میں استعمال کریں۔ یہی ایک حل ہے نجات کا ۔ ورنہ سرکاری ملازمین کا یہ سفید ہاتھی اب مزید اس غریب ملک سے نہیں پالا جائے گا۔

Facebook Comments HS