ٹاپ ٹین نیشنل ایشوز


کسی قوم کے شعور اور اوقات کا کچا چٹھا اس کے معمولات، مرغوبات، تقریبات، مشروبات، ماکولات اور محسوسات سے بآسانی کھل جاتا ہے۔ ہماری قوم کو دیکھیں تو خوشیاں نرالی تو غم عجیب اور نہایت غریب ہیں۔ پسند، نا پسند کے تو کیا ہی کہنی۔ :۔ کچھ المیے اور دکھ تاریخی حیثیت کے حامل ہیں۔ آئیے ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لونگ گواچنے کا سانحہ: چار عشرے پہلے قوم کی ایک بیٹی کے ناک کا لونگ سر راہ گواچ گیا تھا۔ قوم نے اسے ناک کا مسئلہ جان کر گھر گھر، گلی گلی اور محلہ محلہ ڈھونڈا۔ موصوفہ نے خود بھی اپنے پیچھے لگے ہر جوان سے اس لونگ پر نگاہ رکھنے اور تلاشنے کی مترنم اپیلیں کیں۔ مگر کیا کریں، تاریخ میں روز تو بن قاسم پیدا نہیں ہوتے جو مظلوم بہن کی پکار پر لبیک کہتے اور وہ گواچا لونگ ڈھونڈ لاتے۔ اس سانحے کے بوجھ تلے سقوط ڈھاکہ کے دکھ بھی دب گئے اور انور مسعود نے دونوں سانحات کا موازنہ کچھ یوں کیا،

کس طرح کا احساس زیاں ہے جو ہوا گم کس طرح کا احساس زیاں ہے جو بچا ہے
ملک آدھا گیا ہاتھ سے تو چپ سی لگی ہے اک لونگ گواچا تو عجب شور مچا ہے

نک دے کو کے کی گمشدگی: سانحہ لونگ کے چالیس سال بعد تاریخ خود کو دہراتی ہے اور ایک رات قوم کے ایک مغنی جوڑے کے نک دا کوکا، ڈرامائی انداز میں گم ہوجاتا ہے۔ اس کھڑیجے کو کوکے غم کو بھی پوری قوم نے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محسوس کیا اور بتدریج ایک المیے کو طربیے میں بدل کر حظ اٹھایا۔ ایک سیاسی گروہ نے تو اپنا ترانہ بنا لیا۔ قوم کو کچھ ملا کہ نہیں مگر گانے والوں نے کروڑوں روپے ضرور کما لیے۔ اس سے قبل ایک شب کی ٹک ٹاکر نے انڈین گانے پر رقص کر کے قوم کی داد سمیٹی اور تاریخ کے بے سرے ترین گوئیے چاہت فتح علی کو پذیرائی بخش کر قوم نے احمقوں کی پذیرائی کی صدی ہونے پر مہر ثبت کردی۔

دانش کی موت : سن دو ہزار بیس کے اوائل میں جب دنیا کرونا کی آفت سے نبرد آزما تھی تو وطن عزیز میں اک سابق شوہر، دانش، کی بے وقت اور دکھ بھری موت نے پوری قوم کو رلا دیا۔ درد دل کے حامل احباب کے ہاں ہفتوں سوگ چلا اور ثابت ہوا کہ ہم ڈرامہ پسند قوم ہونے کے ناتے ڈرامے کو زندگی اور زندگی کو ڈراما سمجھتے ہیں۔ زندہ دلی کا یہ عالم کہ روٹی روزی سے تنگ عوام کرکٹ اور ڈرامے دیکھنا نہیں بھولتے۔ بقول ڈاکٹر اشفاق ورک، دانش نہیں مرا بلکہ قوم کی دانش مر گئی ہے۔

اسلامی اخوت کی علم برداریاں : اگرچہ اسلام اہل عرب کا اثاثہ ہے مگر اسلام کو ان سے بہتر سمجھنے کے دعویدار ہم ہیں۔ ہم اقبال کے نظریہ قومیت کے امین ہیں لہٰذا جملہ ملت اسلامیہ کا درد ہمارے جگر میں سمایا ہوا ہے۔ اسلام برصغیر کی پراڈکٹ نہ سہی پر ہم ہی اسلام کو لاحق خطرات کا درست ادراک رکھتے ہیں اور ہر موڑ پر اسلام کو زندہ رکھنے کا بیڑہ اٹھاتے ہیں۔ کسی عربی نے درست ہی کہا تھا کہ مسلمان تو ہم بھی ہیں پر الباکستانی تو کلمہ پڑھ کے باولے ہی ہو گئے ہیں۔

نوے کی دہائی میں عراق پر امریکی حملوں کی بابت ہم تشویش و اضطراب میں مستغرق رہے اور، غم صدام، میں امریکہ کو کوستے ہوئے اپنے ملک میں خوب دنگے کیے۔ گالیوں اور بد دعاؤں کا بحر بیکراں تھا جو سپرد خلا ہوا۔ صدام سے یک جہتی کے لئے صدام کے نام پر ہزاروں نومولودگان کے نام رکھ ڈالے۔ عرب امارات اور سعودی عرب کی آزاد خیالیوں نے بھی ہماری نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ ہمیں اپنے مقامی ڈی این اے سے مکر و مفر ہے اور ہم ترکوں، عربوں، ایرانیوں یا افغانوں کی اولاد بننے پر بضد ہیں۔ اپنے ہیروز کو ولن اور ولنز کو ہیرو ثابت کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

امریکی مخالفت کا جنون: وطن عزیز کا ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہونے کے موجب امریکہ سے شدید نفرت کرتا ہے۔ تاہم امریکہ جا کر وہیں کا ہوجانا بھی ترجیحات میں سے ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی امریکہ جانے میں مضائقہ نہیں البتہ عوام کو مزید، بنا، کر اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے امریکی مخالفت بہترین ہتھیار ہے۔ قاسمی صاحب نے اس کا حل یوں نکالا تھا کہ امریکہ مخالف احتجاج میں امریکہ کے مفت ویزوں کی تقسیم کا اعلان کر دیا جائے تو پورا ہجوم ویزہ لینے امڈ آئے گا۔

پاک بھارت دشمنی کا زعم: بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے۔ بھارت دشمنی اپنا جنون ہے جسے خاص مقاصد کے لیے برتا جاتا ہے۔ کئی بار دونوں ممالک کے تعلقات میں سدھار آنے کی امید بندھی مگر نہایت خوبصورتی سے اس پر پانی پھیرا جاتا رہا۔ ملکی تاریخ میں اندوہناک موڑ تب آیا جب دشمن ملک کے مکار وزیراعظم واجپائی نے ہمارے وزیراعظم کو بہلا پھسلا کر امن معاہدہ کر لیا۔ جاں نثاران اسلام اور محبان وطن میدان عمل میں اترے اور اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ یوں ملت بیضا دین اور وطن کو بچانے میں سرخرو ٹھہری۔

غزوہ ہند کے نہ ہونے کا دکھ: قوم کی کئی نسلیں غزوہ ہند کے انتظار میں راہی ملک عدم ہوئیں اور بچی کھچی بال سفید کر بیٹھیں۔ لیکن غزوہ ہند ہے کہ ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس دکھ میں زید حامد ایسے عدیم الشان مجاہد شدت یاس سے روپوش ہیں۔ متوقع غزوہ ہند کے مجاہدین نے تو مال غنیمت میں بالی ووڈ کی حسیناؤں کی بطور لونڈیاں تقسیم بھی کر رکھی تھی مگر شاید حق کو ابھی منظور نہیں۔ ہم دیوالیہ ہوئے تو کیا ہوا، انڈیا تو معاشی پاور ہے۔ اور پورا بھارت غزوہ ہند میں کامیابی کے بعد ہمارا ہونے والا ہے۔

چاند کے دیکھنے دکھانے پر جھگڑے : وطن کی پوری تاریخ چاند نظر آنے یا نہ آنے کے مباحث سے بھری پڑی ہے۔ لاکھوں روپوں سے چلنے والی رویت ہلال کمیٹی کے باوجود قوم کو کبھی بھی چاند ایک ساتھ نظر نہیں آ سکا ہے۔ یوں دیس میں مختلف مقامات پر الگ الگ چاند چڑھائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے علما، اور سیاستدانوں کو روایات صادقہ کے عوارض بھی ہیں جنھیں خوابوں میں حیرت انگیز بشارتیں ملا کرتی ہیں۔

حوروں کے مباحث : ہمارا پختہ یقین ہے کہ جنت میں حظ اٹھانے کے واسطے ستر حوریں ملنے والی ہیں۔ جن کا قد ایک سو تیس فٹ ہو گا۔ ہمیں سو مردوں کے برابر طاقت دی جائے گی اور جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جو دنیا میں حرام ہے۔ لہٰذا اس جنت کے حصول کے لیے دنیا کو جہنم بنانا نہایت ضروری ہے۔ حوروں کی بابت ملفوظات ہمیں ہر فرقہ کے جید علما سے ہر وقت سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ یوں وطن عزیز میں ایسے خطابات دینی تعلیم کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی سے چڑ :بچپن سے ہی باور کرایا جاتا ہے کہ سائنس، دین سے متصادم ہے یوں اپنے ہاں کوئی سائنسدان پیدا ہونا ممکن نہیں رہا۔ نوبل انعام یافتہ عبدالسلام کو ہم مسلمان نہیں مانتے۔ بس ڈاکٹر قدیر خان کو ہی کافی جانا جائے۔ سائنس حرام سہی لیکن مساجد، مزارات اور اپنے گھروں میں سائنسی ایجادات و سہولیات سے با امر مجبوری استفادہ کیا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ ہر مسلمان کو دوسروں کی آخرت کی بڑی فکر ہے۔ اپنے علاوہ سب کو کرپٹ سمجھنا قومی فریضہ ہے۔ دیواروں پر لکھے اشتہارات قوم کی عکاسی جبکہ فن خطابت اور بیانئے اذہان کی نکاسی کرتے ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی دین کے خلاف بہت بڑی سازش گردانی جاتی ہے۔ عقیدے کے مطابق ہر ذی روح کے رزق کا ذمہ دار اللہ ہے مگر اپنی غربت کے لیے معاشرے کو قصور وار ٹھہرانا بھی خصائل جمیلہ کا جزو لاینفک ہیں۔

Facebook Comments HS