فضل الرحمن اور مسرت شاہین

جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس اور ٹی وی انٹرویوز سے ملکی سیاسی میں بھونچال آ گیا ہے، مولانا بہت سیانے اور تحمل مزاج سیاست سمجھے جاتے ہیں، ان کا انداز گفتگو بھی بہت شائستہ اور مہذب ہے، دینی گھرانے سے تعلق ہے، ملک بھر میں ان کے لاکھوں پیروکار ہیں، ملکی سیاست میں ان کا کردار ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین و دیگر آئینی عہدوں پر فرائض سرانجام دیے ہیں
8 فروری کے عام انتخابات کے نتائج کے خلاف ملک بھر میں احتجاج زور پکڑ رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف بے تحاشا پابندیوں کے باوجود سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے اس کے بعد مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ہے، دھاندلی کے الزامات لگانا ہماری روایت رہی ہے جو اب تک جاری ہے، کسی بھی پارٹی کو ان کے مطلوبہ نتائج نہ ملیں تو وہ دھاندلی کا شور مچا دیتی ہے، دھاندلی کے معاملے پر بہت سی باتیں ہیں جن پر تفصیل سے بات کی جا سکتی ہے، اس وقت مولانا فضل الرحمن نے دھاندلی کے حوالے سے باتیں کر کے ماحول بہت زیادہ گرما دیا ہے
مولانا سابق دور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر تھے جن کی چھتری کے نیچے پاکستان مسلم لیگ نون سمیت 13 پارٹیاں تھیں، پاکستان پیپلز پارٹی اس سے الگ رہی، عمران حکومت کے دور میں جب حالات نے کروٹ بدلی تو پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی متحد ہو گئے اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا جو کامیاب رہی جس کے نتیجے میں پی ڈی ایم حکومت بنی اس میں مولانا کے بیٹے سمیت پارٹی کے دیگر افراد بھی وفاقی وزیر بنے اور سولہ ماہ حکومت کے مزے لئے
8 فروری کے عام انتخابات میں جمیعت علماء اسلام کو مطلوبہ نتائج نہ ملے تو مولانا کا پارہ چڑھ گیا اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے دیگر پارٹیوں کو مورد الزام ٹھہرا دیا جس کی وجہ سے سیاست یکسر تبدیل ہو گئی ہے، اب مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، بی این پی مینگل اور متحدہ صفائیاں دے رہے ہیں کہ وہ تحریک عدم اعتماد اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر نہیں لائے تھے بلکہ اس کا فیصلہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر کیا تھا
بدلتے حالات دیکھ کر مولانا فضل الرحمن نے ترپ کا پتہ پھینکا ہے جس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ جیل میں قید بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر ان کی پارٹی کے وفد نے مولانا سے ملاقات کی ہے اور حکومت سازی پر تبادلہ خیال کیا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا نے پی ٹی آئی کے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیا ہے حالانکہ عمران خان نے اپنی تقاریر میں سب سے زیادہ مولانا کو ہی رگڑا تھا بلکہ وہ تو نام بھی نہیں لیتے تھے، صرف ڈیزل کہتے تھے
بہرحال پاکستان کی سیاست میں یہ سب جائز ہے، اب مولانا تحریک انصاف سے مل کر کیا کیا فوائد لیتے ہیں یہ آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا، سیاست ایسا گندا کھیل ہے کہ یہاں اقتدار کے لئے ماضی کو بھلا دیا جاتا ہے، موجودہ حالات کو دیکھ کر فیصلے اور مفادات حاصل کیے جاتے ہیں، عمران خان نے 2014 ءکے عام انتخابات کے بعد اپنے دھرنوں اور بطور وزیراعظم سب سے زیادہ مولانا فضل الرحمن پر تنقید کی مگر سیاست میں سب جائز ہے اس لئے مولانا وہ سب بھول کر پی ٹی آئی کو گلے لگا چکے ہیں
دہائیوں پہلے کی بات ہے ایک الیکشن میں پشتو فلموں کی اداکارہ مسرت شاہین نے ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا فضل الرحمن کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا اس وقت الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا، خبر کا واحد ذریعہ اخبارات ہوتے ہیں، یہ دلچسپ الیکشن تھا روزانہ اس حوالے سے دلچسپ خبریں شائع ہوا کرتی تھیں، مسرت شاہین نے پاکستان تحریک مساوات پارٹی بنائی اور خود اس کی سربراہ بنیں
اس دور کے معروف اور معتبر اخبار فرنٹیئر پوسٹ نے پشاور ایڈیشن میں ایک کارٹون شائع کر دیا جس سے جمیعت علماء اسلام ف کے کارکنوں نے ملک بھر میں مظاہرے کیے اور فرنٹیئر پوسٹ کی کاپیاں جلا دیں، مسرت شاہین کیونکہ زیادہ تر پشتو فلموں میں کام کرتی تھی اور پشتو فلموں کی انجمن تھیں، کارٹون میں ایک تصویر بنائی گئی جس میں مسرت شاہین اپنے انتخابی نشان کے ساتھ اپنے معروف فلمی انداز میں ووٹ مانگ رہی تھی جبکہ دوسری تصویر میں بھی مولانا فضل الرحمن کو اسی پوز میں دکھایا گیا جس پر مولانا کے پیروکار مشتعل ہو گئے اور سڑکوں پر نکل آئے
فرنٹیئر پوسٹ کے کا رٹون کی اشاعت کو مولانا نے تحمل سے برداشت کیا اور اپنی سیاست آج تک جاری رکھی ہے اس لئے اگر عمران خان کی جانب سے مولانا کی تضحیک کی گئی تھی تو وہ اس کو بھی تحمل سے برداشت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو گلے لگا رہے ہیں کیونکہ اقتدار سے باہر رہنا مولانا کو برداشت نہیں، اقتدار کی خاطر ہی انہوں نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف سے ہاتھ ملا کر خیبر پختونخوا میں حکومت لے لی تھی اور پانچ سال خوب مزے کیے اور اس صلے میں مشرف کے ایل ایف او کو بھی منظور کیا بعد میں قوم سے معافی مانگ لی تھی
عمران خان نے جو کچھ بھی مولانا سے کیا اس کو بھولنا کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ عمران خان دنیا کا سپر سٹار ہے، انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسرت شاہین کو سنجیدہ نہیں لیا تھا اس لئے وہ ”ڈیزل“ کو بھی سنجیدہ نہیں لے رہے، بس اقتدار ملنا چاہیے۔

