فیض فیسٹیول: انقلاب کی مدھم لو کا بیانیہ


ملک کے عام انتخابات کے اگلے روز یعنی 9 فروری کو لاہور میں شروع ہونے والا تین روزہ فیض فیسٹول دماغوں کو روشن خیالی سے معطر اور دلوں کو انقلاب کی مدھم لو سے منور کرتا ہوا اختتام پذیر ہو گیا۔

فیسٹول کا آغاز الحمرا آرٹ گیلری میں ملک بھر سے لگ بھگ 30 خواتین آرٹسٹوں کے تخلیقی نمونوں کے افتتاح سے ہوا۔ فیض احمد فیض کی شخصیت، فن اور افکار کو اجاگر کرنے کے لئے سجائے گئے اس میلے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے بھرپور شرکت کی۔ خواتین اور نوجوان طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد اس فیسٹول میں موجود تھی۔ ان کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔

فیض فیسٹول ایک بھرپور علمی، ادبی اور ثقافتی فیسٹول ہے۔ اس میں شرکت کرنے والوں کی الحمرا کی سرخ عمارت پر دور سے جب ”گل ہو نہ جائے مشعل رخسار دیکھنا“ ، ”نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن“ اور ”چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی“ جیسی عبارتوں پر مشتمل آویزاں بینرز پر نظر پڑی تو پرکیف رومان اور انقلاب آفریں کیفیت سے سرشار ہوتے ہوئے بڑے دروازے سے اندر داخل ہوئے۔

الحمرا ہالز کے اندر جاری تقریبات اور سیشنز نے شرکا کے دل و دماغ کو کیسے متاثر کیا یہ صرف وہی جانتے ہیں۔ کہیں ”پاؤں میں رقص زنجیر“ اور ”ساقیا رقص کوئی رقص صبا کی صورت“ کے نام سے پرفارمنس تھی تو کہیں ”ہم آ گئے تو گرمی بازار دیکھنا“ کے عنوان کے تحت فیض کی شخصیت اور فن پر گفتگو ہوئی۔ کہیں ”ساز کی لو تیز کرو“ کے نام سے پاکستانی موسیقی پر سیشن تھا تو کہیں ”کسے وکیل کریں“ کے پروگرام میں حقوق نسواں اور معاملات خواتین بارے قوانین اور ان کے اطلاقی و اخلاقی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔ اسی طرح کہیں چھپنے والی نئی کتابوں کے تازہ افکار زیر بحث لائے گئے تو کسی سیشن میں سیاسی تاریخ کی درستی پر زور دیا گیا۔

فیض احمد فیض ایک شخص کا نہیں ایک نظریے اور اور ایک بیانئے کا نام ہے۔ آج کے اس بانجھ معاشرے میں ترقی پسندی اور روشن خیالی کے فروغ میں اس فیسٹول کا اہم کردار ہے۔

فیض فیسٹول فیض کی سوچ کا عکاس ہے۔ بلکہ یوں لگتا ہے جیسے فیض صاحب بھی یہیں کہیں ہیں۔ انہیں مداحوں نے گھیر رکھا ہے، آلتی پالتی مار کے بیٹھے ہیں اور ان سے فرمائش کر کے کلام سن رہے ہیں۔ انہیں منٹگمری جیل کے ایام اسیری کا احوال یا اپنی نظم ”آج بازار میں پابجولاں چلو“ کے سیاق و سباق بارے بتا رہے ہیں۔ یا کہیں مزدوروں کی ٹولی میں بیٹھے ہیں اور انہیں انقلاب کے کسی نئے سبق کی تدریس کر رہے ہیں کہ:

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

اور جب انہیں کسی مزدور محنت کش کی طرف سے اس آدرش کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا گمان گزرتا تو اسے یقین دلا رہے ہیں کہ :

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
پھر فیض صاحب کے کلام کا ان پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ گویا خود مل کر گنگنانا شروع کر دیتے ہیں کہ:
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
تاج اچھالنے اور تخت گرانے والے مصرعے پڑھنے یا سننے کے بعد ان کو پھر یقین ہوجاتا ہے کہ:
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے ہم بھی دیکھیں گے

کہنے کو تو ہر سال فیض امن میلہ بھی ہوتا اور وہ بھی اسی شہر لاہور میں مگر جو بات فیض فیسٹول کی ہے وہ بھلا اس میں کہاں۔ یہ دونوں میلے ترقی پسندی اور روشن خیالی کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ فیض فیسٹول بلاشبہ انقلاب کا ایک بیانیہ ہے چاہے اس انقلاب کی لو مدھم ہی سہی۔

Facebook Comments HS