مابعد انتخابات: شورش ہے کچھ ضرور تمہارے دماغ میں


جمہوریت کے نفاذ اور قیام کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ انتخابات تسلسل سے ہوتے رہیں۔ تاریخی شعور سے مطابقت رکھتے ہوئے یہ امر واضح ہے کہ غیر جمہوری طریقوں سے جمہوریت کو کسی بھی طرح قائم نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی کسی ”مرد آہن“ کا تصور پیش کر کے ”آمریت“ کے ذریعے ”جمہوریت“ کا نفاذ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے ترقی دی جا سکتی ہے۔ مذکورہ بیان علم سیاست کا مسلمہ ہے۔

انتخابات کے بغیر کسی بھی جمہوریت کا وجود ممکن نہیں جبکہ، فرضی انتخابات جمہوریت کے لیے اور انتہائی مضر ہیں۔ البتہ، مملکت خداداد کا یہ مقدر رہا ہے کہ یہاں انتخابات شروع سے لے کر اب تک محض فرضی ہی رہے ہیں اور مقتدرہ نے اپنے ہی ”لاڈلوں“ کو نوازا ہے۔ چاہے وہ 2002 ء کے انتخابات ہوں جب ’ق‘ لیگ کو فتح یاب کروایا گیا تھا یا 2018 ء کے انتخابات ہوں جب عمران خان وزیر اعظم ہوئے تھے۔ ان سے پہلے بھی انتخابات میں ”دھاندلی“ ہوتی رہی ہے لیکن یہ تازہ مثالیں ہیں کہ جب جمہوریت کے غبارے سے ہوا نکلی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بڑے آب و تاب سے نکالی گئی۔

پاکستان میں جمہوریت کی نوعیت ”عبوری“ ہی رہی ہے کیونکہ مقتدرہ کی جانب سے جمہوری عمل کو کھل کر پنپنے ہی نہیں دیا گیا جبکہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے بھی سیاست میں ”خفیہ ہاتھ“ کو قبول کیے رکھا ہے اور کبھی بھی اس کے خلاف جانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ خود سیاستدانوں کا وجود مقتدرہ کی بدولت ہی قائم و دائم ہے۔ اور یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہے کہ اگر یہ خفیہ ہاتھ آپ کے کندھے پر سے ہٹ جائے تو آپ کا وہی حشر ہوتا ہے جو کبھی نواز شریف کا ہوا تھا اور آج کل عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے۔

خالص سیاسی نظریات کی بنیاد پر کسی بھی جماعت کو پاکستان کے سیاسی سماج میں جگہ بنانے کی اجازت نہیں ملی ہے اور اسی وجہ سے پاپولر طرز سیاست کوہی سیاستدانوں کی جانب سے اپنایا گیا ہے۔ پاپولر طرز سیاست کو حرف عام میں ”مذہب کارڈ“ اور ”برادری کارڈ“ کی اصطلاحات سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

بہرحال، زیر مضمون میں ’پاکستان میں جمہوریت پر کیا گزری‘ کو قلمبند کرنا مقصود نہیں بلکہ موضوع کو 8 فروری 2024 ء کو رونما ہونے والے انتخابات اور ان کے ”مابعد“ تک ہی محدود رکھا گیا ہے۔

فافن کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 47 فیصد رہا۔ جبکہ ووٹرز کی ایک عظیم اکثریت نے انتخابات کے ”یوم حساب“ پر گھر میں آرام کرنا ہی پسند فرمایا۔ جس سے اس مفروضہ کی کچھ حد تک نفی ہوتی ہے کہ ”یہ انتخابات کسی کے خلاف یا کسی کے حق میں تھے۔“ اس حوالے سے مزید یہ استدلال بھی پیش کیا جاسکتا ہے کہ کل ووٹرز کی مجموعی تعداد نے عمران خان کے آزاد امیدواروں کے مقابلے میں مد مقابل جماعتوں کے نمائندوں کو زیادہ ووٹ دیے ہیں جس سے اس تجزیہ کو ایک اور دلیل فراہم ہوتی ہے۔ البتہ، پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے پھر وہی فتویٰ صادر کیا جاتا ہے کہ انتخابات میں ”دھاندلی“ ہوئی ہے اور مینڈیٹ برائے فروخت رہا ہے۔

انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی؟ اس حوالے سے کئی خیال آرائیاں اپنی جگہ موجود ہیں لیکن دھاندلی کے حق میں پیش کیے جانے والے ثبوتوں کو بھی بہرطور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انتخابات کے بعد میدان اقتدار کی جو تصویر واضح ہوئی ہے اس میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواران قومی اسمبلی میں 92 ارکان کے ساتھ سب سے آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ نون 75 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ، پیپلز پارٹی 54 ارکان کے ساتھ تیسرے اور ایم کیو ایم 17 ارکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت جے یو آئی ایف 4 ارکان کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے، بی این پی کے 2 ارکان ہیں اور مسلم لیگ (ق) کے 3 ارکان ہیں اور مجلس وحدت مسلمین کا ایک رکن ہے اسی طرح اسمبلی میں دیگر آزاد ارکان کی کل تعداد 9 ہے۔

مذکورہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت ایوان میں اتنی طاقتور نہیں ہے کہ اپنے بل بوتے پر اقتدار قائم کرسکے بلکہ حالات ایک مخلوط حکومت کی طرف ہی گامزن ہیں۔ اس ضمن میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کا ایک اتحاد عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں ایم کیو ایم کو بھی شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مسلم لیگ نون کی جانب سے شہباز شریف کو وزیر اعظم کے منصب کے لیے نامزد کیا گیا ہے جبکہ صدر کے لیے آصف علی زرداری کا نام سامنے آ رہا ہے۔ کل تک پی ٹی آئی بھی مجلس وحدت مسلمین کے ہمراہ مخلوط حکومت بنانے کی دعویٰ دار ہے اور مجلس کی جانب سے بھی خون کے آخری قطرے تک ساتھ دینے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن آج پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی وفاق اور پنجاب میں حزب اختلاف میں بیٹھے گی۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے میں یہ صورتحال ہے کہ مسلم لیگ نون 139 ارکان کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 115 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، پیپلز پارٹی 10 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر اور مسلم لیگ (ق) 7 ارکان کے ساتھ چوتھے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی، تحریک لبیک پاکستان اور مسلم لیگ (ضیا) کے 1، 1، 1 رکن اسمبلی میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ دیگر آزاد امیدواران کی پنجاب اسمبلی میں کل تعداد 22 ہے۔ پنجاب میں اکثریتی جماعت ہونے کی حیثیت سے مسلم لیگ نون نے مریم نواز کو وزیر اعلیٰ کے منصب کے لیے نامزد کیا ہے۔

سندھ کی صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی 83 ارکان کے ساتھ سندھ صوبائی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے جبکہ ایم کیو ایم 28 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امید وار 11 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں، جی ڈی اے 3 ارکان کے ساتھ چوتھے اور جماعت اسلامی 2 ارکان کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔ اسی طرح دیگر آزاد امیدواران کی کل تعداد 3 ہے۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 84 ارکان کے ساتھ صوبائی اسمبلی میں سب سے آگے ہیں جبکہ جے یو آئی (ف) 7 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ، مسلم لیگ نون 5 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ، پیپلز پارٹی 4 ارکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز 2، 2 ارکان کی حامل ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن ہے اسی طرح دیگر آزاد امید اور ان کی کل تعداد 8 ہے۔

بلوچستان میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) 11، 11 کے ساتھ برابر ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے 10 ارکان، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 ارکان، نیشنل پارٹی کے 3 ارکان، عوامی نیشنل پارٹی کے 2 ارکان، بلوچستان نیشنل پارٹی، حق دو تحریک بلوچستان، جماعت اسلامی، راہ حق پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے 1، 1، 1، 1، 1 ارکان ہیں، اسی طرح دیگر آزاد امیدواران کی کل تعداد 5 ہے۔

انتخابات کے بعد اب بھی ملکی سیاسی فضاء بحالی کی جانب گامزن دکھائی نہیں دیتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے دھرنے کا اعلان کرتے ہوئی انتخابات کو ”دھاندلی زندہ“ قرار دے دیا ہے تو سندھ میں بھی جی ڈی اے نے احتجاج کے لیے کمر کس لی ہے۔ جبکہ خیبر پختو خواہ اور بلوچستان کے کئی شہروں میں دھرنے اور احتجاج جاری ہیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی نے احتجاج اور دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے جاری کردہ قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے اعداد و شمار کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی صورتحال واضح ہو رہی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا بیانیہ عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کر سکا ہے۔

مزید صورتحال یہ ہے کہ ملک کے منجھے ہوئے سیاستدانوں کی فہرست میں شامل کئی رہنما ناکام ہیں جبکہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کو فتح نصیب ہوئی ہے۔ اس صورتحال سے ان سیاستدانوں کو بھی متنبہ ہونا چاہیے کہ جو اس بار کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کو نظر انداز کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں غیر متعلق ہوجائیں اور وہ بھی ارتقاء کے قانون ”موزوں ترین کی بقاء“ کی بھینٹ چڑھ جائیں۔

عوام کی جانب سے انتخابات میں حصہ نہ لینا اس بات کا غماز ہے کہ عوام کا پاکستان کے انتخابی نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور دوسری جانب ملک کی سیاسی جماعتیں بھی محض اقتدار کے کھیل میں عوامی مسائل کو نظر انداز کر چکنے کی وجہ سے مورد الزام ہیں۔ بہرکیف، انتخابات اپنے نتائج تک پہنچ چکے ہیں، اور اب معاملہ حکومت سازی کی طرف گامزن ہے۔ اقتدار پر کون براجمان ہو گا اور کون حزب اختلاف میں بیٹھے گا؟ اس کا جواب وقت کی رفتار کے ساتھ پر دۂ ابہام سے نکلتا ہوا واضح ہو رہا ہے۔ البتہ، اب مضمون کو طوالت کی بنا پر یہیں غالبؔ کے اس شعر پر اختتام سے دوچار کرتے ہیں جو اقتدار سے محروم سیاستدانوں کا مقتدرہ کے ایوانوں میں آج کل بنیادی ”تکیہ کلام“ ہو گا،

یہ مکنت و وقار علائی یہ وحشتیں
شورش ہے کچھ ضرور تمہارے دماغ میں

Facebook Comments HS