ڈیرہ اسماعیل خان سے تیسرا وزیر اعلی۔علی امین گنڈاپور


8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے ملک بھر میں اور خاص طور پر صوبہ بھر میں مسلسل تیسری بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو نے والی پہلی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان پشاور کے بعد سب سے دوسرا بڑا ضلع ہے

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا کے جنوب میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے آباد ہے۔ یہ پشاور سے تقریب 300 کلو میٹر ہے۔ ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے (M 14 ) پر ٹریفک چلنے کے بعد چھ گھنٹے کا طویل سفر کم ہو کر تین، ساڑھے تین گھنٹے ہو چکا ہے۔ لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور جانور پالنا ہے۔ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کاشت کی جانے والی فصل میں گنا اور گندم ہیں جبکہ ڈھکی کی کھجور قا بل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ سوہن حلوہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس علاقے میں سرائیکی، پشتو اور اردو زبان بولی جاتی ہے۔

8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں PK 113 علی امین نے 35459 جبکہ جمعیت علما اسلام کے کفیل احمد 21888 ووٹ حاصل کیے۔ NA 44 علی امین نے 92161 جبکہ جمعیت علماء اسلام سر براہ کے مولانا فضل الرحمن نے 59585 ووٹ حاصل کیے۔ اور یوں ڈیرہ اسماعیل خان سے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی علی امین گنڈاپور صوبہ خیبر پختون خوا کے نئے وزیر اعلی نامزد ہوئے۔ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے ان کو نامزد کیا۔ اس کے پیچھے علی امین کی محنت اور بانی چیئرمین تحریک انصاف سے وفاداری ہے۔

علی امین سابق صوبائی وزیر میجر (ر) امین اللہ گنڈاپور مرحوم کے صاحب زادے ہیں۔ امین اللہ ( مرحوم ) جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبہ سرحد کے وزیر رہے ہیں۔ علی امین نے سینٹ ہیلن ہائی اسکول ڈیرہ سے تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ماڈل اسکول پشاور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا جب کہ جامعہ گومل سے بی اے آنر کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد نوجوانوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں کا آغاز کیا اسی لیے نوجوانوں میں بہت جلد مقبول ہوئے۔

اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی حق نواز گروپ قائم کیا۔ 2013 میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے اور اسی سال عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کی کابینہ میں وزارت مال کا قلم دان سونپا گیا۔ 2018 میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کا قلم دان سنبھالا جب کہ ڈیرہ شہر کی صوبائی نشست چھوڑ دی تھی جس پر ضمنی الیکشن کا انعقاد کروایا گیا تو ان کے بھائی فیصل امین گنڈاپور منتخب ہوئے اور سابق وزیر اعلی‘ محمود خان کی کابینہ میں وزیر بلدیات رہے۔

ان کے بڑے بھائی عمر امین گنڈاپور تحصیل ناظم رہے اور اب سٹی میئر و پی ٹی آئی جنوبی اضلاع کے صدر ہیں۔ علی امین گنڈاپور کو پی ٹی آئی کی قیادت نے خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع کا صدر مقرر کیا اور 2023 میں 9 مئی کے واقعات کے بعد پہلے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پرویز خٹک کے پارٹی چھوڑنے کے بعد صوبائی صدر مقرر کیا گیا۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ان کے خلاف ملک بھر میں ڈیڑھ درجن سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔ خیبر پختون خوا کی وزارت اعلی کا قلم دان سنبھالنے جا رہے ہیں۔ وہ قیام پاکستان کے بعد ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ہونے والے تیسرے وزیر اعلی‘ اور تحصیل کلاچی سے تعلق رکھنے والے دوسرے گنڈاپور وزیر اعلی ہوں گے۔ قبل ازیں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے مفتی محمود 1972 سے 1972 تک رہے ان کے مستعفی ہونے کے بعد عنایت اللہ گنڈاپور پی پی پی کے وزیر اعلی رہے تھے۔

یاد رہے کہ قبل از تقسیم ہند انگریز دور میں تحصیل کلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہی 1943 میں اورنگ زیب گنڈاپور بھی وزیر اعلی رہے تھے۔ علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی کے ان چند رہ نماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے 9 مئی کے مقدمات اور گرفتاریوں کے بعد پی ٹی آئی کو چھوڑا اور نہ ہی عمران خان سے بے وفائی کی بلکہ مشکل و کٹھن حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور فتح یاب ہوئے۔ وہ پہلے رکن قومی اسمبلی ہیں جو مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں دوسری مرتبہ کام یاب ہوئے ہیں جب کہ پہلے رکن صوبائی اسمبلی ہیں جو ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے تیسری بار منتخب ہوئے ہیں۔ وہ بہادری و دلیری اور عام لوگوں کی مالی مدد و معاونت اور رابطے میں رہنے کے سبب مقبولیت کے حامل ہیں جس کا ثبوت حالیہ الیکشن میں انتخابی مہم کے بغیر کامیابی کا حصول ہے۔

کیا اس بار پاکستان تحریک انصاف اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست کے بجائے فتح مکہ کی طرح عام معافی کا اعلان کر کے مل کر ملک میں جاری معاشی صورتحال کا خاتمہ کرے گے۔ یا وہی انتقام کی سیاست جاری رہی گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Facebook Comments HS