تم سے نہ ہو پائے گا


بڑی بڑی باتیں بڑے لوگوں کے لیے چھوڑ دیجئے۔ سیاستدان وہی کر رہے ہیں جو فی زمانہ رائج ہے۔

یہ درست ہے کہ سیاسی لیڈران کو اخلاقی و علمی لحاظ سے معاشرے کی عمومی سطح سے بلند ہونا چاہیے، انہیں عوامی امنگوں کا ترجمان بننا چاہیے، فیصلوں پر ثابت قدم رہنا چاہیے مگر یہ حسرت کیا ہمارے جیسی سوسائٹی میں پوری ہو سکتی ہے؟

کون منافق ہے کون مومن یہ بتانا آپ کا کام نہیں ہے۔

برطانوی ممبر پارلیمنٹ و مصنف ایڈمنڈ برک نے آج سے ٹھیک 254 سال قبل 19 فروری کو پریس (میڈیا) کی اہمیت کے پیش نظر اسے ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا تھا۔ آج کے میڈیا پرسن نے اس ستون کو مضبوط کیا یا کمزور اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ فی الحال اتنا بھی کر لیں تو بہت کہ آڈینس کی نگاہ میں وکیل یا وفادار کے بجائے صحافی کہلائیں۔ رائے ساز اور جگت باز کا فرق قائم رکھیں۔ قوم کو پورا سچ نہیں بتا سکتے تو مجبوری کا اعتراف کر لیں خود کو ہرکولیس بنا کر پیش نہ کریں۔

محض سیاستدانوں کو کوسنے دینے، ان کی ہیئت کزائی کے بیان، ان کے انداز و گفتار پر لعنت ملامت کرنے، اور ذو معنی پراپیگنڈے کا قوم کے مزاج پر کیا اثر ہو گا اس کے مضمرات کی لپیٹ میں آپ بھی آسکتے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ چٹخارے کے ساتھ پیشہ وارانہ معیار و صحافتی اقدار کو سامنے رکھ کر ان کی کارکردگی اور فیصلوں کو زیر بحث لایا جائے۔ قوم کو تنقید اور تنقیص کا فرق سمجھایا جائے۔ میڈیا کانٹینٹ پر ریٹنگ کی چاہ یا ایجنڈے کے سائے اسی طرح منڈلاتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب گدھے اور گھوڑے کا فرق سرے سے ہی ختم ہو جائے۔

سیاستدان کو کیسا ہونا چاہیے، آیا ہمیں ان کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں یہ خواہش کرنے میں آپ حق بجانب ہیں لیکن ایک بار ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے۔ اگر آپ کی دانست میں یہ لیڈر نرے کرپٹ ہیں تو کون سی آفت آن پڑی جو انہیں برداشت کرتے ہیں۔ اپنی سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرائیں اور خود لیڈر بن جائیں۔ دیکھتے ہیں قوم کا مستقبل کیسے نہیں سنورتا۔ البتہ اگر ’ہم سے نہ ہو پائے گا‘ والی صورت ہو تو مل کر کچھ سوالات کا جواب ڈھونڈیں :

ہم پاکستانی دنیا کے 195 ملکوں میں پانچویں بڑی آبادی 241.49 ملین صرف اس لیے ہیں کیونکہ ہم اس جغرافیے، جس کا رقبہ 881۔ 913 اسکوائر کلومیٹر ہے، میں پیدا ہوئے ہیں۔

اب لاکھ روئیں، چیخیں چلائیں، ہم پاکستانی ہی کہلائیں گے اور کیونکہ اب ہمیں یہیں رہنا ہے لہذا یہاں کا اجتماعی نظام چلانے پالیسی بنانے، فیصلے کرنے کے لیے ہمیں کوئی بندوبست بھی چاہیے۔ خوش قسمتی سے 1973 میں سیاستدانوں ہی نے اس کا بیڑا اٹھایا جو آئین پاکستان کی صورت متشکل ہوا۔ یہ اور بات کہ مسلط تعریف کی رو سے یہ ’کرپٹ‘ ہی رہے اور ملک۔ و قوم کے وسیع تر مفاد میں انہیں غدار کہا گیا، گولی ماری گئی، پھانسی دی گئی، لاپتہ کر دیا گیا، بدترین سزائیں دی گئیں، چیرے لگائے گئے، قلعے میں الٹا لٹکایا گیا، ملک بدر کیا گیا، تحریر و تقریر پر پابندی لگادی گئی مگر ڈھاک کے تین پات، ان ہٹ دھرموں کو ایک کمانڈ پر اباوٹ ٹرن ہونا نہ آیا۔ مگر خیریت یہ رہی کہ اسی آئینی دستاویز کے تحت پاکستان میں رہنے والے تمام لوگوں کو حقوق حاصل رہے اور پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت عوامی نمائندوں کو فیصلہ سازی کی طاقت ملی۔

یعنی قوم کی اجتماعی دانش کو بروئے کار لاکر سیاسی رہنماؤں نے اتفاق رائے سے یہ حتمی فیصلہ کر چھوڑا کہ ملک چلانے اور حکومت بنانے کی ذمے داری اب صرف سیاست دانوں کی ہوگی۔

لہذا اب یہ کڑوی حقیقت تسلیم کیے بنا کوئی چارہ نہیں کہ ان سیاست دانوں سے کسی طور جان نہیں چھوٹے گی۔

یہ آپ کو پسند نہ بھی ہوں تب بھی انہیں بیگم کا پھوپھا، خالو، ماموں، تایا یا چاچا ہی سمجھ لیں اور خود کو سمجھا لیجیے کہ شخصی کمزوری، اخلاقی نقائص اور آپ کے تخیلاتی پیکر سے یکسر مختلف ہونے کے باوجود قدم قدم پر انہی سے واسطہ پڑے گا۔

ہماری گلی کے گٹر کے ڈھکن اور ٹوٹی ہوئی پائپ لائن سے لے کر دوسروں ملکوں سے تعلقات، تجارت اور تحفظ سب کا سب انہی سیاستدانوں کے ہاتھوں ہو گا۔ آپ کے علاقے کے کونسلر اور ملک کا وزیر اعظم دونوں سیاست دان ہیں۔ عملیت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں شیطان و فرشتے کی بحث سے باہر نکال کر اپنی طرح کا انسان سمجھنا شروع کر دیں۔

خود کو حاصل کردہ آئینی حقوق سے سازشی نظریات کو رد کر کے حقائق پر مبنی صحت مند مباحث کا آغاز کیجئے۔

سیاستدان عوام کے نمائندے ہیں۔ یہ اسمبلیوں میں جائیں تو ان کی کارکردگی پر ایسی نگاہ رکھے جیسے چیل انڈے دینے کے بعد اپنے گھونسلے پر رکھتی ہے۔ سٹیزن جرنلزم یا موبائل جرنلزم سے کتھارسس سے بڑھ کر ، واچ ڈاگ کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔

اس ملک کے اصل وارث 24 کروڑ عوام ہیں جنہیں یہ یقین دلاتے رہیں کہ چاہے مسافت جتنی طویل ہو عوام کے حقوق کی محافظ و ملک کی ترقی کی ضامن یہی سیاسی جماعتیں ہیں اور وہ اس لیے کہ ان کے پیچھے عوام کی طاقت ہے۔ وقتی فتح یا شکست سے بالاتر ہو کر اس سیاسی جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ یوں بھی ڈیجیٹل کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور نئی نسل نے اشرافیہ کی غلط فہمی دور کردی ہے۔ آئندہ انتخابات میں جن 52 فیصد لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالا انہیں بتانا ہو گا کہ عوامی ووٹ کی طاقت سے ”ریاستی بندوبست“ کو شہ مات کیسے ہوئی اس انہونی کو سمجھنے کے لیے 2024 انتخابات کیس اسٹڈی ہیں۔

Facebook Comments HS