ٹیکنالوجی اور معدوم ہوتی انسانیت


حضرت انسان کا موجودہ مادی ترقی کے دور تک پہنچنے کا سفر بہت طویل اور کٹھن رہا ہے۔ وہ بہت ساری مشکلات اور حادثات سے بچتا بچاتا یہاں تک آیا ہے۔ جنگلی جانوروں سے محفوظ رہنے کے لیے ہم نے کبھی غاروں میں بسیرا کیا تو کبھی درختوں پر جا چڑھے۔ ضرورت نے پتھر، لکڑی اور پھر دھاتی ہتھیار ایجاد کیے، چھوٹی چھوٹی بستیاں بسائی گئیں، نئی زمینوں کی تلاش شروع ہوئی اور ہم پوری زمین پر پھیل گئے۔ ایک خوف سے نکلنے کے بعد ہمیں اگلے خوف نے جکڑ لیا اور ہم سرپٹ بھاگتے رہے۔

بڑے بڑے عفریت جن کے چلنے پھرنے سے زمین دہل جایا کرتی تھی، انہیں تبدیل ہوتے حالات، زمین کے اندر سے پھوٹنے والی اور باہر سے آنے والی قوتوں نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ خونخوار جانور انسان نے مطیع کر لیے یا مار دیے۔ شیر پنجروں میں بند کر دیے گئے، بھیڑیے پالتو ہو کر ہمارے سب سے پہلے بے لوث اور غیر مشروط دوست بنے۔ ہم نے ان کی بہت ساری نسلیں بنائیں جو کتے کہلائے اور انسان کے سب سے اچھے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی لیے لاتعداد خدمات بھی انجام دینے لگے۔

بیماریوں اور وباؤں نے ہمیں بڑی تعداد میں مارا لیکن ہم پھر بھی زندہ رہے، آگے بڑھتے رہے۔ اور اب وہ وقت آیا کہ انسان اور اس زمین کو کسی اور سے نہیں خود اس کے ہم نفسوں سے خطرہ لاحق ہو گیا اور خطرہ بھی ایسا کہ جس کے امکانات انسان کے زمین سے معدوم ہو جانے کی حد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم ترقی کرتے کرتے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گلے کا پھندا تیار کرتے رہے ہیں اور اب اس پھندے کو دن بہ دن کستے چلے جا رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق انسان کے ہاتھوں اس کرے پر موجود حیوانات کی دس لاکھ نسلیں معدوم ہو چکی ہیں۔ نباتات اور ایکو سسٹم کو ہم بے پناہ نقصان پہنچا چکے ہیں۔ ہماری زمین پر اب تک کی گئی سرگرمیوں کے نتیجے میں فطرت میں ناقابل تلافی بگاڑ پیدا ہوا ہے اور اگر ہم اسی رفتار سے وہ سب کچھ کرتے رہے تو زمین پر یہ تبدیلی سو گنا سے زیادہ تیز ہو جائے گی جس کا نتیجہ اگر ہمیں معلوم نہیں تو اس کا اندازہ سا ضرور ہونا چاہیے۔ ہم خود کو محفوظ رکھنے کے چکر میں خود سے کسی کو محفوظ نہ رکھ پائے اور اب انسان خود ایک دوسرے کے لیے اور اپنے اس گھر کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اس مضمون کا موضوع نہیں ہے، اسے پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ سر دست صرف اتنا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت وہ شے ہے جس کو بنانے والے خود اس کے حوالے سے انسانوں کے مستقبل کے متعلق خوفزدہ ہیں۔ ہم اگرچہ مستقبل میں بہت دور تک نہیں دیکھ سکتے کیونکہ سو سال پیچھے کیے گئے سائنسی دعوے بعد میں آنے والوں نے رد کر کے دکھا دیے لیکن پھر بھی ہم اپنے اعمال کے نتائج کی بنیاد پر ہو رہے اب تک کے تغیرات کو دیکھ کر کافی حد تک ٹھیک اندازے لگا سکتے ہیں۔ اس کی ایک معقول توجیہ ماضی قریب کے فکشن کا موجودہ دور میں حقیقت میں ڈھل جانا ہے۔

سائنس دانوں اور تجزیہ کاروں نے تاریخی حوالوں کے ساتھ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تغیرات کو لے کر انسانیت کے ہاتھوں انسانیت کی اس کرے سے معدوم ہونے کی چار وجوہات یا خطرات بتائے ہیں جن میں جوہری جنگیں، ماحولیاتی تبدیلی، بائیو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں۔ جی ہاں آپ نے درست پڑھا، مصنوعی ذہانت، لیکن سر دست وہ موضوع نہیں ہے۔

اب آپ وہاں تک آ گئے ہیں جو میرا اس وقت اصل موضوع ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ہماری مجموعی کوڑھ کاوشوں سے زمین کا اوسط درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے جو اب تک ایک ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے جس کے نتیجے میں موسمی تغیرات کا ہم بخوبی مشاہدہ بھی کرتے ہیں اور آئے روز ان تغیرات کو مختلف فطری قوتوں کے بے لگام ہونے کی شکل میں جھیلتے بھی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2100 میں زمین کا اوسط درجہ حرارت 2.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے جس کے نتیجے میں زمین کے کئی علاقوں میں زندگی کرنا بے حد مشکل ہو جائے گا۔

ایک ارب لوگ اپنے موجودہ مساکن سے اس بڑھے ہوئے درجہ حرارت کے باعث دیگر جگہوں کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ابھی پریشان نہ ہوں، یہ پھر بھی ایک آئیڈیل صورت حال ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو زمین کا اوسط درجہ حرارت 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی بڑھ سکتا ہے اور پھر ظاہر ہے کسی کو کہیں نقل مکانی کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی۔

اپنے کسی پچھلے مضمون میں ان وجوہات کی طرف صراحت کے ساتھ اشارے کیے تھے۔ آج صرف ایک ہے اور بہت خاص ہے۔ اور وہ ہے الیکٹرانک کچرا یا ای ویسٹ۔ الیکٹرانک ویسٹ کیا ہے؟ یہ وہ ناکارہ کمپیوٹر، ٹیلی وژن، سمارٹ فونز اور ٹیبلٹس وغیرہ ہیں جو کسی ایک یا کئی وجوہات کی بنا پر اپنی کارآمد زندگی پوری کر چکے ہوتے ہیں اور اب ہمارے کسی کام کے نہیں رہتے۔ ان آلات میں مختلف دھاتیں، پلاسٹک، کیمیکلز اور دیگر کئی ایسے مواد شامل ہوتے ہیں جو مناسب طریقے سے تلف نہ ہونے کی وجہ سے انسان سمیت دیگر جانداروں بشمول زمین انتہائی ضرر رساں ہوتے ہیں۔

اگر اس کچرے کو زمین پر پھینک دیا جائے تو یہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتا ہے جو زمین کے درجہ حرارت کو بڑھاتی ہیں۔ گرین ہاؤس ایفیکٹ پر بھی پچھلے کسی مضمون میں لکھ چکا ہوں۔ اگر ای ویسٹ کو جلایا جائے تو پلاسٹک اور دھاتوں کے جلنے کے نتیجے میں وہی گیسیں اور دیگر ذرات زیادہ مقدار میں ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنیں گے۔ ماہرین اس کچرے کی ری سائیکلنگ کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ری سائیکلنگ بذات خود ایک سائنسی تکنیک ہے۔ جب مقامی لوگ غیر رسمی طریقوں سے ری سائیکلنگ کرتے ہیں اس کا نتیجہ بھی کچرے کو براہ راست تلف کرنے یا جلانے سے بہت مختلف نہیں ہوتا۔

تکنیکی ترقی میں تیز رفتاری کی وجہ سے حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ای ویسٹ میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومتیں اور تنظیمیں الیکٹرانک کچرے کو ذمہ دارانہ طریقے سے تلف کرنے پر آئے روز قواعد و ضوابط اور ذمہ داریاں تو بتایا کرتے ہیں لیکن کچرا بھی اسی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی مقدار میں الیکٹرانک ویسٹ اچانک آ کہاں سے رہی ہے؟ ہم نے اپنے بچپن میں وہ دور دیکھا ہے جب تفریح کے نام پر ٹیلی وژن، کیسٹ پلیئر، ریڈیو یا بہت ہوا تو کسی منچلے کے پاس واک مین ہوا کرتا تھا۔

یہ اشیا پائیدار بھی ہوتی تھیں اور لوگ برس ہا برس ان چیزوں کو بہت سنبھال کر اور احتیاط کے ساتھ استعمال میں رکھتے تھے۔ پھر ہم نے وہ تبدیلی دیکھی کہ الامان۔ موبائل فون نے کچھ وقت ہمارا ساتھ دیا پھر ایپل کمپنی نے پہلا سمارٹ فون بنایا، آئی پوڈ بنا، آئی پیڈ معرض وجود میں آیا، لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، سمارٹ فونز، ٹیبز کی لائنیں لگ گئیں۔ کنزیومر ازم کلچر پیدا ہوا۔ میرے پاس آئی فون ہونا چاہیے، یہ ایکس ہے وائی ہونا چاہیے، فلاں کے پاس وہ ہے، میرے پاس یہ کیوں نہیں۔

صارف کی قوت خرید ایک اور وجہ بنی اور دھڑا دھڑ کم خرچ بالا نشیں ماڈل آنا شروع ہوئے۔ گلوبلائزیشن کے سبب ڈیوائسز وہاں تک پہنچیں جہاں لوگوں کو پتا بھی نہیں تھا کہ جب یہ بیکار ہو جائے تو اس کے ساتھ کرنا کیا ہے۔ ایک طرف کچرا پیدا ہونا شروع ہوا دوسری طرف نت نئی ایجاد اور ماڈل کے نام پر زمین کے وسائل تیزی کے ساتھ خرچ ہونا شروع ہوئے۔ ٹیکنالوجی میں تیزی کے ساتھ تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ ابھی کل کی بات ہے بہت اچھے کمپیوٹر کی ریم پانچ سو ایم بی اور ہارڈ ڈسک 100 گیگا بائٹ ہوا کرتی تھی۔

اب ریم گیگا بائیٹس میں اور ہارڈ ڈسک ٹیرا بائیٹس میں چلی گئی۔ ونڈوز 98 بڑی دیر تک ہمارے ساتھ رہی پھر ایکس پی ایک زمانے تک لوگوں کے کمپیوٹرز میں رہی، آپریٹنگ سسٹم اور سافٹ ویئرز کل ملا کر دو جی بی سے زیادہ جگہ نہیں چاہیے ہوتی تھی۔ اب خالی ونڈوز 10 کو چلانے کے لیے آپ کو کم از کم 20 جی بی ہارڈ ڈسک چاہیے اور ونڈوز 11 کے لیے کم از کم 64 گیگا بائیٹ۔ ایک ایک کمپیوٹر پروگرام اور موبائل ایپ کئی کئی گیگا بائیٹس جگہ گھیرتی ہے۔

ایک طرف سافٹ وئیر ہیں جن کے نئے ورژن مزید اچھا ہارڈ وئیر مانگتے ہیں، دوسری جانب ہارڈ وئیر ہیں جو مزید اچھا سافٹ وئیر چاہتے ہیں اور یہ ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ ہے۔ معافی چاہتا ہوں یہ کچھ تکنیکی گفتگو ہے جو بہت مشکل نہیں لیکن مسئلے کو سمجھنے کے لیے آسان ترین الفاظ میں اس قدر کہنا ضروری تھا۔ میں یہ سب جمع تفریق کیوں کر رہا ہوں؟ ایک بہت بڑی کمپنی کہ نام جس کا مائیکروسافٹ ہے اس کا ایک آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 10 کے نام سے ہے۔

مائیکروسافٹ اپنے اس آپریٹنگ سسٹم کی سپورٹ کو آئندہ برس یعنی 2025 میں ختم کر رہی ہے۔ صارفین کو ونڈوز 11 پر جانا ہو گا جس کو انسٹال کرنے کے لیے ایک مخصوص کم از کم ہارڈ وئیر کی ضرورت ہو گی۔ آج جو کمپیوٹر ہمارے ہاتھوں میں ہیں ان میں سے بیشتر کمپیوٹرز پر ونڈوز 11 انسٹال نہیں ہو سکے گی۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں 240 ملین یعنی چوبیس کروڑ کمپیوٹر الیکٹرانک کچرے میں تبدیل ہو جائیں گے اور ان کی جگہ نئے کمپیوٹر لے لیں گے جو آنے والے چند برسوں میں ایک مرتبہ پھر شاید ناکارہ ہو جائیں۔

ایک طرف اپنی زمین سے لیے گئے وسائل کی اتنی بڑی مقدار اور دوسری جانب ہم اس زمین کو لوٹا کیا رہے ہیں؟ زہر آلود کچرا؟ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکن مجھے کئی مرتبہ ایسا لگتا ہے کہ ان بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان اچھی اچھی باتیں تو بہت کرتے ہیں۔ سماجی ذمہ داریوں کے راگ بھی الاپتے ہیں۔ اس زمین کے اور اس پر زندگی کرنے والے حشرات نما انسانوں کے ٹھیکیدار بھی بنتے ہیں۔ حقوق و فرائض کی جگالی بھی کیا کرتے ہیں اور اس کرے کو انسانوں کے رہنے کے قابل ایک محفوظ مسکن بنانے پر لیکچر بھی دیتے ہیں لیکن جب کچھ کرنے کا وقت ہوتا ہے تو سب کچھ بھول کر اپنے مفادات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

بلی چوہے کے اس کھیل سے اگر پیسہ کمانا مقصد نہیں تو کیا آپ اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کے لیے کسی بہت عظیم کمپنی کی صورت میں کوئی ورثہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟ اور اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو آپ جن کے لیے وہ عظیم ورثہ چھوڑ کر جائیں گے وہ اسے وصول کرنے کے لیے باقی نہ ہوں گے۔ زمین آپ کے کیے کا بدلہ آنے والی نسلوں سے لے گی اور اس زمین سے انسانوں کی معدومیت میں آپ کا کردار نمایاں ہو گا۔

Facebook Comments HS