بابا وانگا، ایک معقول الفطرت انسان
عالم الغیوب تو اللہ کی ذات ہے۔ وہ اپنے بنائے نظام کا واحد مالک و خالق ہے اور ہر شے کو بہتر جانتا ہے۔ اس کی آباد کردہ دنیا میں پیغمبروں و رسولوں کو علم کی سعادت نصیب ہوئی اور وہ اسی کے بتائے ہوئے فرمان کے مطابق لوگوں کو گزشتہ قوموں اور آنے والے حالات بارے آگاہ کرتے رہے یہ ان کا فرض منصبی تھا۔ تا کہ ان کی امتیں راہ ہدایت پائیں۔ لیکن اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی گزرے جو اس دنیا بارے پیشین گوئیاں کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔
یہ مختلف دینی، فلسفی اور روحانی لوگ ہو سکتے ہیں۔ ان لوگوں میں کچھ اپنے دینی تفصیلات یا تقالیدی آئینوں پر مبنی پیشین گوئیاں کرتے ہیں جبکہ دوسرے ممکن ہے کہ وہ علمی یا طبیعی علوم کی بنیاد پر پیشین گوئیاں کرتے ہوں۔ علمی پیشین گوئیاں عام طور پر علمی اور طبیعی علوم کی بنیادوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس میں محقق اور علماء و دانشور مختلف دلائل اور تجزیات کا استعمال کر کے مستقبل کے واقعات کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
یہ پیشین گوئیاں عموماً تجزیاتی اور تجرباتی دلائل پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ جدید تحقیقات، آب و ہوا کی تغیرات، اور علمی نظریات۔ علمی پیشین گوئیاں عموماً تحقیقات، اور تجربات کی روشنی میں ہوتی ہیں اور انہیں مستند اور منطقی دلائل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ایسی پیشین گوئیاں مختلف شعبوں میں جیسے مختلف علوم، ٹیکنالوجی، اور طب میں کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس روحانی پیشین گوئیاں عموماً روحانی یا متعلقہ چیزوں کی تنبیہات یا اظہار رائے ہوتی ہیں۔ یہ عموماً دینی یا روحانی تربیت یافتہ افراد یا مشہور فکری لوگوں کے زیر اہتمام پیش کی جاتی ہیں۔ فارسی و لاطینی زبان میں پیشین گوئی دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ پیش مطلب پہلے اور گوئی کے معنی مستقبل بارے کچھ کہا گیا۔ آسان لفظوں میں ایک ایسی بات جو مستقبل کے حالات بارے بتائی جائے پیشین گوئی کہلاتی ہے۔
روحانی پیشین گوئیاں مختلف دینی تقالید اور تفاسیر کے مطابق ہوتی ہیں اور ان میں عام طور پر مستقبل کے واقعات، اخلاقی رہنمائی، اور انسانی حیثیت کے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں عام طور پر معنویت، انسانیت، اور آخرت کے مسائل پر مبنی ہوتی ہیں اور مختلف لوگ انہیں اپنی روحانی تربیت اور اعتقادات کے مطابق تشخیص دیتے ہیں۔ ان ہی میں وینجیلیا پانڈیوا گشتروا عرف بابا وانگا بلغاریہ کی ایک عورت تھی جس کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ مستقبل کے حالات بارے پیشین گوئیاں کرتی ہیں جو درست ثابت ہوتی ہیں۔
بابا وانگا 3 اکتوبر 1911 ء کو میسیڈونیہ کے شہر شٹرومیشا میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے ہی وہ نابینا تھیں اور ان کا زیادہ تر وقت بلغاریہ کے پہاڑی علاقے بیلاسیکا میں گزرا۔ 1825 ء میں انہیں نا بینا بچوں کے سکول میں بھیجا گیا جہاں انہیں تین سال تک بائبل پڑھنا سکھایا گیا۔ وانگا بابا نے 1942 ء میں شادی کی لیکن 1962 ء میں ان کے شوہر دیمتر گشتروو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
انہیں 1970 ء تک کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ لیکن اس کے بعد مشرقی یورپ میں کیمیونزم کے خاتمے کے بعد ان کی چند پیشین گوئیاں حقیقت کا روپ دھارے نظر آئیں۔ جن سے ان کی شہرت آہستہ آہستہ مزید پھیلنے لگی۔ ویسے تو بابا وانگا نے بے شمار پیشین گوئیاں کیں ان میں بعض پوری نہ ہو سکیں جیسے تیسری جنگ عظیم کا 2010 ء میں شروع ہونا۔ چند ایسی پیشین گوئیاں ان کے کریڈٹ میں جاتی ہیں جن کا ظہور ہوا۔ ان میں ایک اقوام عالم کے بڑے شہروں میں قحط سالی و پانی کی کمی کا سامنا۔
برطانیہ، فرانس، اٹلی اور پرتگال سب ملکوں کے بڑے شہر پانی کی قلت اور قحط سالی میں مبتلا ہوئے اور ان کے جنگلات آتشزدگی سے متاثر ہوئے۔ اسی طرح انہوں نے آسٹریلیا اور ایشیائی ممالک میں شدید بارشوں اور سیلاب کی پیشین گوئی کی جو 2022 ء میں سچ ثابت ہوئی۔ لیکن ان سب میں اہم پیشین گوئی 9 / 11 بارے تھی جس میں انہوں نے 1989 ء میں کہا تھا۔ خوفناک خوفناک ”ہارر ہارر“ امریکہ پر فولادی پرندے حملہ آور ہوں گے۔ اور بھیڑیے جھاڑیوں سے چنگاڑیں گے۔ معصوم لوگوں کا خون بہے گا۔ اسی طرح انہوں نے روسی نیوکلیائی آبدوز کے حادثے کا ذکر کیا جو اگست 2000 ء میں وقوع پذیر ہوا اور سچ ثابت ہوا۔ بابا وانگا نے امریکہ کے 44 ویں صدر بارے بھی پیشین گوئی کی تھی کہ یہ ایک سیاہ فام ہو گا۔ یہ پیشین گوئی بھی سچ ثابت ہوئی۔
بابا وانگا کی پیش گوئیوں بارے کوئی لکھا ہو مستند مواد نہیں ملتا جس سے پتہ چلے انہوں نے کب اور کس وقت کون سی پیشین گوئی کی۔ ان کے انتہائی قریب بعض لوگوں کے نزدیک بابا وانگا نے ان میں بعض پیشین گوئیاں کبھی کی ہی نہیں۔ ان کی پیشین گوئیاں کافی مشہور ہیں جن میں سویت یونین، یوگوسلاویہ اور چیکوسلواکیہ کا ٹوٹ کر بکھرنا۔ روس میں چرنوبل کے مقام پر نیوکلیاتی حادثہ پیش آنا، سٹالن کی موت، اپنی موت کے وقت کی پیشین گوئی، روسی آبدوز کو سمندر میں حادثہ پیش آنا، برطانوی شہزادی ڈیانا کی موت، شمالی بلغاریہ میں 1985 ء میں زلزلے کی پیشین گوئی، امریکہ میں 11 ستمبر کا واقع پیش آنا اور سونامی کا 2004 ء میں پیش آنا قابل ذکر ہیں۔
لیکن، یہ سوال پیدا ہوتا ہے ایک انسان جو تعلیم میدان میں قابل ذکر نہ رہا ہو اور نہ ہی مذہبی طور کوئی خاص مقام رکھتا ہو، نہ ہی سائنسی طور اس کی کوئی قابل ذکر خدمات ہوں تو کیسے ایک انسان ایسی پیشین گوئیاں کر سکتا ہے جبکہ ان کی پیشین گوئیاں کہیں لکھی ہوئی بھی نہیں ملتیں۔ جب کہ دوسری جانب یہ سب واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اس کا فیصلہ قارئین خود کریں کہ کیا سچ اور کیا جھوٹ یا من گھڑت ہے یا پھر عوام الناس کو ان پیش گوئیوں سے اپنے مخصوص مقاصد کے لئے گمراہ کرنا اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مقصود تھا اور ہے۔ سائنسی دور ہے اور اور اب اپنے مذموم مقاصد کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال عام سی بات ہو گئی ہے۔ اس کی ایک مثال مصنوعی ذہانت ہے جو آہستہ آہستہ تمام چیزوں پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی فوائد و نقصانات ان گنت ہیں۔


