اسرائیلی مظالم کی داستان


اسرائیلی مظالم کی داستان نئی نہیں۔ وہ شروع سے ظلم و ستم کرتا آ رہا ہے۔

بروز پیر اقوام متحدہ کی عدالت میں اس کے کیے گئے مظالم جو 1967 کی جنگ کے دوران کیے گئے تھے پر گواہیاں ہونگی جہاں متوقع طور پر 52 ممالک اپنے بیانات دیں گے۔ ہیگ میں واقع امن محل میں عالمی عدالت انصاف کا اہم ترین اجلاس ہو گا جس میں امریکہ، روس اور چین مدعو کیے گئے ہیں یہاں ہفتہ بھر یہ اجلاس جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد دسمبر 2022 میں منظور کی تھی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اپنی ایک ماہرانہ رائے دے کہ ان مظالم کا احتساب کیسے کیا جائے جو وہ فلسطین میں کر رہا ہے۔

یہ عمل اس کارروائی سے یکسر مختلف ہے جو سات اکتوبر کے بعد نسل کشی جاری ہوئی اور اس کا مقدمہ جنوبی افریقہ کی تحریک پہ شروع ہوا جس کے دوران عدالت نے تقریباً یہ یقین کر لیا کہ نسل کشی کے مترادف ہے۔ جنرل اسمبلی نے دو سوالات ڈھونڈنے کا کہا ہے۔ اول عدالت کو یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں کس قدر مصروف ہے جو فلسطینی اپنی حق خود ارادیت کے لئے کر رہے ہیں۔ جس کا تعلق ان مقبوضہ علاقوں کے ساتھ ہے جو 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے قابض ہو کر کیے تھے۔

یاد رہے اس وقت جو چھ روزہ جنگ ہوئی تھی اس میں گولان کی چوٹیوں پہ قبضہ کر لیا تھا وہ دراصل وہ شام کا علاقہ تھا، اردن سے چھینا گیا علاقہ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم تھا اور صحرائے سینا کا علاقہ مصر کا تھا جو 1979 کے امن معاہدے کے بعد مصر کو واپس مل گیا تھا مگر دیگر کسی علاقے سے اسرائیل نے انخلاء نہیں کیا اور وہی بات اس تنازعے کی اصل جڑ ہے۔ بلکہ اس نے 70,000 مربع کلومیٹر پہ بستیاں آباد کرنے کا فیصلہ کیا جس کی اقوام متحدہ نے بھی مذمت کی۔

اس دوران غیر اخلاقی و غیر قانونی اقدامات کی تحقیقات کا کہا گیا ہے۔ دوئم، عالمی عدالت انصاف کو یہ دیکھنا ہے کہ اس قبضے کے قانونی عوامل کو جانچنا کہ کس طرح اسرائیل ان علاقوں میں قبضہ رکھ کر غیر قانونی احکامات دے سکتا ہے جس کے اثرات عوام کو وہاں بھگتنا پڑتے ہیں اور اس کا عمومی اثر اقوام متحدہ پہ کیسے اور کتنا ہوتا ہے۔ امید ہے اس عدالتی کارروائی کے نتائج سال رواں کے آخر تک آئیں گے۔ اسرائیل اس اقدام کی پہلے ہی مخالفت کرتا آیا ہے۔

عالمی عدالت انصاف ایسی تحقیقات پہلے کوسوو کے حوالے سے، نیز نمیبیا پر جنوبی افریقہ کے قبضے سے متعلق سے تھا ایسی ہی تحقیقات کرچکی ہے۔ یہ اخلاقی فتح ہی ہوگی اگر کچھ ثابت بھی کر دیا گیا تو اسرائیل اور بھارت کسی اقوام متحدہ یا انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کی جانی والی مذمتی قراردادیں مسترد کرتے ہیں انہیں اپنے اوپر اتنا ناز اور غرور ہے جو سیدھے طور کبھی درست ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی ان کو اسی زبان میں سمجھ آئے گی جیسی بھاشا انہیں سمجھ آتی ہے۔

Facebook Comments HS